Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

 
ايڈيٹـر: علی جاويد نقوی  
وزیراعظم گیلانی کے ساتھ چودھری شجاعت،اسفندیارولی سمیت وفاقی وزراءبھی سپریم کورٹ میں یش ہوئے پاکستان آنے کافیصلہ موخرنہیں کیا،سابق صدرمشرف لندن،منصوراعجازکوپاکستانی ویزادےدیاگیا، صدرآصف علی زرداری کو استثنی حاصل ہے،اعتزازاحسن وزیراعظم یوسف رضاگیلانی سپریم کورٹ میں پیش،عدلیہ کااحترام کرتے ہیں،وزیراعظم گیلانی حکومت مستعفی ہونئے انتخابات کرائے جائیں،نوازشریف

تازہ ترین خبریں:

 
 
 

مستحکم پاکستان پوری دنیا کیلئے اہم اور بھارت کیلئے فائدہ مند ہے، اوباما


ممبئی(اردونیوزمیگزین رپورٹ)امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے پاکستان امریکا اور پوری دنیا کیلئے اہم ہے جبکہ پاکستان کی کامیابی میں سب سے بڑافائدہ بھارت کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ایک عظیم مذہب ہے اور اسلام میں جہاد کے معنی وسیع ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام دنیا کا ایک بہترین مذہب ہے اور اسلام کے ماننے والے امن پسند ہیں۔دورہ بھارت کے دوسرے روز ممبئی میں سینٹ زیوئیر کالج میں پاکستان سے تعلقات سے متعلق طلبہ کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کاکہنا تھا کہ پاکستان امریکا کا اہم اسٹریٹیجک پارٹنر ہے اور پاکستان امریکاسمیت پوری دنیا کے لیے اہم ملک ہے، امریکا ایک مستحکم پاکستان چاہتاہے ۔انہوں نے کہا کہ انتہاپسند پاکستان کیلئے ناسور ہیں ۔حکومت پاکستان انتہاپسندوں کے خطروں سے آگاہ ہے اور شدت پسندوں کیخلاف کارروائی کررہا ہے اور امریکا بھی دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیرمستحکم پاکستان ،بھارت کیلئے نقصان دہ ہے اور پاکستان کی کامیابی میں سب سے بڑا فائدہ بھارت کا ہی ہے۔امریکاچاہتا ہے کہ پاک بھارت تعلقات میں بہتری آئے اور ہم اس سلسلے میں مدد دیتے کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات ضروری ہیں۔صدر اوباما نے کہا کہ پاکستان کیساتھ پارٹنرشپ جاری رکھی جائیگی ۔طلبہ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے گفتگو کرتے ہوئے صدر اوباما کا کہنا تھاکہ اسلام ایک عظیم مذہب ہے اور اسلام میں جہاد کی معنی وسیع ہیں اور جہاد کی مختلف تشریحات ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام دنیا کا ایک بہترین مذہب ہے اور اسلام کے ماننے والے امن پسند ہیں۔اس کے ماننے والوں کی تعداد ایک ارب سے زیادہ ہے اور یہ ایک عظیم مذہب ہے ہمیں تمام مذاہب کا احترام کرنا چاہیے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اسلام کو چند لوگوں نے بدنام کیا ہے اور اسلام کو چیلنجز کاسامنا ہے ان چند لوگوں کو اسلام سے الگ کیا جانا چاہیے۔ اس قبل طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے صدر اوباماکاکہنا تھاکہ بھارتی وزیراعظم کے ساتھ بہتر تعلقات ہیں اور بھارت اور امریکا کی دوستی لازوال ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکابھارت ملکردنیامیں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اور بھارت اور امریکا ملکر21 ویں صدی کو نئی شکل دینگے۔اپنے خطاب میں انکا کہنا تھاکہ عالمی تناظر میں بھارت کی بڑی اہمیت ہے۔

صدر اوباما نئی دلی پہنچ گئے، ہمایوں کے مقبرے کا دورہ

نئی دہلی(اردونیوزمیگزین رپورٹ)امریکی صدر براک اوباما اور ان کی اہلیہ مشعل اوباما ممبئی سے نئی دلی پہنچ گئے۔ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے ہوائی اڈے پر امریکی صدر اور خاتون اول کا استقبال کیا۔ نئی دلی میں امریکی صدر براک اوباما اور ان کی اہلیہ نے مغل شہنشاہ ہمایوں کے مقبرے کا دورہ کیا۔ نئی دلی میں قیام کے دوران صدر اوباما امریکی سفارت خانے میں مختلف وفود سے ملاقات کریں گے اور شام کو وزیراعظم منموہن سنگھ کی جانب سے ڈنر میں شرکت کریں گے۔8 نومبر کو امریکی صدر اپنی بھارتی ہم منصب پرتبھا پاٹل کی طرف سے راشٹراپتی بھون میں استقبالیے میں شرکت کریں گے۔ وہ راج گھاٹ میں گاندھی کی سمادھی پر حاضری دیں گے اور اس کے بعد بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات اور مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔ ہوٹل میں کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی اور حزب اختلاف کی رہ نما سشما سوراج سے ملاقات بھی متوقع ہے۔ امریکی صدر بھارتی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ دن بھر کی سرگرمیوں کا اختتام راشٹراپتی بھون میں اسٹیٹ ڈنرسے ہوگا۔9 نومبرکو بھارتی دورے کے اختتام پر امریکی صدر نئی دلی سے جکارتا روانہ ہوجائیں گے۔


چین نے بھارت کوپائیدار دوستی کی پیشکش کردی، چینی وزیراعظم کا دورہ بھارت کا اعلان





ہنوئی (اردونیوزمیگزین )چین کے وزیراعظم وین جیا باؤ نے کہا ہے کہ وہ رواں سال کے آخر میں بھارت کا دورہ کرینگے جبکہ انہوں نے سردمہری کا شکار بھارت چین تعلقات کے پس منظر میں اپنے بھارتی ہم منصب ڈاکٹر منموہن سنگھ سے کہا ہے کہ دنیا کافی وسیع ہے جس میں چین اور بھارت بیک وقت اپنی اپنی ترقی کرسکتے ہیں جبکہ دونوں ملکوں کے مابین کافی شعبوں میں تعاون کی گنجائش موجود ہے۔چین بھارت کے ساتھ جاری تجارت اورسرمایہ کاری کو مشترکہ طورپر فروغ دینا چاہتا ہے۔ فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق ویت نام کے دارالحکومت ہنوئی میں جنوب ایشائی ملکوں کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ملاقات کے دوران چین کے وزیر اعظم وین جیا باؤ نے اپنے بھارتی ہم منصب کو بتایا کہ دنیا میں کافی وسعت موجود ہے جس میں دوطرفہ تعلقات پرپڑے سردمہری کے پردے کے باوجود چین اور بھارت دونوں کی بڑی قومیں ترقی کرسکتی ہیں۔ وین جیا باؤ نے کہا کہ جب میں دنیا پر نظردوڑاتا ہوں تو میں اسے کافی وسیع دیکھتا ہوں جہاں بھارت اور چین دونوں اپنی ترقی اور ارادوں کے ساتھ نہ صرف رہ سکتے ہیں بلکہ اس حوالے سے ہم بھارت چین تعلقات تک بھی رسائی رکھتے ہیں۔ چین کی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر شائع کئے گئے بیان کے مطابق وین جیاباؤ نے منموہن سنگھ کو بتایا کہ دونوں ملکوں کو چاہئے کہ وہ پائیداردوستی کو یقینی بنائیں اورسیاسی امور میں دوطرفہ اعتمادمیں اضافہ کرے۔وین جیاؤ باؤ کا مزید کہنا تھا کہ چین چاہتا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ ملکر جاری تجارت اورسرمایہ کاری کو مشترکہ طورپر فروغ دیں۔رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ بھی رواں ہفتے بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مستردکرتے ہوئے ایساہی ایک بیان دے چکے ہیں جس میں بھارتی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ ملکر کام کرنے کی بڑی گنجائش موجود ہے۔ملائیشیا میں سرکردہ کاروباری افرادکے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے منموہن سنگھ نے استفسارکیا کہ کیا بھارت اورچین کے درمیان مقابلے کی فضا ہے؟انہوں نے کہا کہ میں خلوص دل سے اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ دونوں ملک ملکر کام کرنے کے حوالے سے ان گنت امکانات موجود ہیں۔


مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کے 63 سال، کشمیریوں نے دنیا بھر میں یوم سیاہ منایا، وادی میں مکمل ہڑتال


مظفرآباد‘باغ ‘ راولاکوٹ‘ سرینگر‘ نیویارک (اردونیوزمیگزین رپورٹ) کشمیر پر بھارتی تسلط کے 63سال مکمل ہونے پر بدھ کو آزاد ومقبوضہ کشمیر سمیت پوری دنیا میں مقیم کشمیریوں نے یوم سیاہ منایا۔ اس موقع پر وادی میں مکمل ہڑتال رہی اور کنٹرول لائن کے آر پار زبردست احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور فضا اسلام اور آزادی کے نعروں سے گونج اٹھی۔ اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں اقوام متحدہ کے مبصرین کو یادداشتیں پیش کی گئیں۔ مقبوضہ کشمیر میں احتجاجی مارچ کو ناکام بنانے کیلئے سرینگر سمیت مختلف علاقوں میں کرفیواور دفعہ 144نافذ کردی گئی۔ میراعظ عمرفاروق اورسید علی گیلانی سمیت حریت قیادت کو نظربند اور درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا۔ مظاہرین پر بھارتی فورسز نے آنسو گیس کے شیل فائر کئے۔ مختلف مقامات پر جھڑپوں میں50سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔بھارتی اہلکاروں نے گھروں میں گھس کر نوجوانوں‘ خواتین‘ بزرگوں اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ریاست بھر میں کاروباری مراکز‘ اسکول‘ سرکاری اور غیرسرکاری ادارے بند رہے۔ مقبوضہ ریاست کے لاکھوں شہریوں نے حق خودارادیت کیلئے انٹرنیٹ کے ذریعے یادداشتیں بھجوائیں۔ آزادکشمیر میں کنٹرول لائن پر دھرنا دیا گیا۔ نیویارک میں بیرسٹر سلطان کی زیر قیادت اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے زیراہتمام مظفرآباد میں وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی شرکت کی۔ کوٹلی میں وزیربلدیات کی زیرصدارت بلدیہ ہال میں احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق حریت کانفرنس کے چیئر مین میر واعظ عمر فاروق کی جانب سے بھارتی فوج کے قبضہ کے خلاف 27اکتوبر کو یوم سیاہ کے بطور منانے کا اعلان کی حریت رہنما سید علی گیلانی سمیت تمام آزادی پسند کشمیریوں نے حمایت کر رکھی ہے سرینگر میں اقوام متحدہ کے مبصرین کے دفتر کی طرف مارچ کا مقصد عالمی برادری کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کرانا ہے۔ ترجمان حریت کانفرنس نے بتایا کہ یو این او آفس سونہ وار چلو پروگرام کو سبوتاژ کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے حریت قائدین ‘زعما اور کارکنوں کو یا تو نظربند کر لیا ہے یا پھر وادی کے مختلف اضلاع میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرکے گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں ۔ ہڑتال کی کال پر سرینگر اور وادی کے دیگر اضلاع اور قصبوں میں دکانیں‘کاروباری ادارے‘ اسکول‘ سرکاری اور غیرسرکاری دفاتر مکمل طور پر بند رہے اور گاڑیوں کی آمد و رفت بھی ٹھپ ہو کر رہ گئی۔ بارہ مولہ‘ مائسمہ میں مشتعل نوجوان سڑکوں پر نمودار ہوئے اور نعرہ بازی کرتے ہوئے پولیس پر سنگ باری کی ۔اس موقع پر پولیس نے نوجوانوں کو قابو کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا ۔ خانیار میں نوجوانوں نے سڑکوں پر آزادی کے حق میں نعرے لگائے اور بہوری کدل کی طرف مارچ شروع کیا۔۔نوہٹہ ،راجوری کدل، بہوری کدل، کاوڈارہ، اور گوجوارہ میں بھی پولیس اور احتجاجی نوجوانوں کے مابین جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں پائین شہر میں افرا تفری کا ماحول پھیل گیا اور راہ چلتے لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے۔ پولیس نے مشتعل نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور اشک آور گولے داغے۔
 


عسکریت پسند گروپوں سے خطرے کا بہانہ من موہن نے جنگی نظریہ تبدیل کرنے کا اعلان کردیا
 




نئی دہلی( اردونیوزمیگزین رپورٹ ) بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے عسکریت پسندگروپوں کی جدید خطرات کا بہانہ بنا کر بھارت کے جنگی نظریے میں تبدیلی کا اعلان کردیا ہے ۔ جبکہ جموں کشمیرکیلئے مقرر مذاکرات کاروں کا بات چیت کیلئے مکمل اختیارات دیدیئے گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں اور سرپرستی حاصل ہے اور ہماری سلامتی کو غیر روایتی خطرات کا سامنا ہے ، دہشت گردوں کے پاس وسائل کی کمی نہیں ، اس لئے ہمیں اپنا جنگی نظریہ تبدیل کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عسکریت پسندی ہمارے لئے ایک خطرہ ہے اور کسی بھی گروپ کی طرف سے بھارتی سر زمین کے اثاثوں پر حملوں سے روکنے کیلئے ہمیں ان پر لاجسٹک برتری رکھنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے ہماری صلاحیتیں ایک قدم آگے ہیں اور ہمیں دہشت گردوں کو بھی یہ باور کرانا ہو گا کہ وہ ہماری صلاحیتوں اور انہیں شکست دینے کے عزم کے بارے میں کسی شک و شبہ میں نہ رہیں۔ دریں اثناء کشمیر کیلئے مقرر مذاکرات کاروں نے منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی سے ملاقات کی جس کے بعد کمیٹی کے سربراہ اور دلیپ پڈگاؤنکر نے اعلان کیا کہ وہ سرینگر سے اپنا سفر شروع کرکے ”کھلے ذہن اور وسیع دل“ کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کریں گے۔ اس سے قبل مذاکرات کار پی چدمبرم اور اے کے انتھونی سے ملاقات کرچکے ہیں۔ یہ ملاقات مذاکرات کاروں کے ”مشن کشمیر“ کی شروعات قبل سے وزیر اعظم کے ساتھ حتمی صلاح و مشورہ کرنے کیلئے منعقد کی گئی جس کے دوران جموں کشمیر میں مختلف طبقوں کے ساتھ مذاکرات کے آغاز کے حوالے سے اہم امورات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

 

مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج سے جھڑپ میں مجاہد شہید، شہریوں کو نماز جمعہ سے روک دیاگیا



سرینگر (اردونیوزمیگزین رپورٹ) مقبوضہ کشمیر میں کشمیر چھوڑ دو تحریک کے تحت کرفیو کے باوجود احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ جبکہ بھارتی فوج سے جھڑپ میں ایک مجاہد شہید ہوگیا۔ قابض انتظامیہ نے میرواعظ سمیت کئی حریت رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند کر دیا اور انکے گھروں کے باہر بڑی تعداد میں بھارتی پولیس اور فوجی اہلکاروں کو تعینات کر دیا گیا ۔علاقے میں کرفیو کے باعث ہزاروں لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے، کئی علاقوں میں لوگوں کونماز جمعہ کی ادائیگی سے بھی روک دیا گیا، وادی میں ہڑتال سے کاربار زندگی معطل رہی۔ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں سرینگر کے مضافاتی علاقے میں تباہ کئے گئے رہائشی مکانات کے ملبے سے ایک اور لاش برآمد ہوئی۔ بارہمولہ کے علاقے میں شدید بارشوں سے ہونیوالی لینڈ سلائیڈنگ کے نیچے آنے کے باعث کیپٹن سمیت 3 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے۔اطلاعات کے مطابق حریت کانفرنس کی طرف سے گھنٹہ گھرچلو کال کے پیش نظر دوسرے روز بھی وادی بھر میں فیو نافذ رہا صبح سے ہی کوٹھی باغ ،مائسمہ ،کرالہ کھڈ ،صدر ،شیر گڑھی ،شہید گنج سمیت متعدد علاقوں میں کرفیو نافذ کیا گیا جبکہ لال چوک ،ریگل چوک ،بڈشاہ چوک ، مائسمہ،کرالہ کھڈ ، بربرشاہ اوراسکے متصل علاقوں میں چوراہوں اور پلوں کو سیل کردیا اکثر سڑکوں پر خار دار تار بچھائی گئی تھی اور فورسز کی بھاری تعیناتی کر دی گئی جس کے باعث ہزاروں لوگ گھرو ں میں محصور ہو کر رہ گئے اورکئی علاقوں میں لوگ نماز جمعہ بھی ادا نہ کرسکے سرینگر شہر کے بیشتر سکول اور دیگر تعلیمی ادارے ہڑتال اور کرفیو کی وجہ سے بند پڑے تھے۔



 شیوسینا کا برقعے کے بعد مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں پر پابندی کا مطالبہ  
  

 
 نئی دہلی(اردونیوزمیگزین رپورٹ)سینٹرل مانیٹرنگ…برقعے پر پابندی کے مطالبے کے بعد بھارت کی انتہا پسند ہندوتنظیم شیوسینا نے مساجد کے لاؤڈ اسپیکر پر بھی پابندی کا مطالبہ کردیا ہے۔شیو سینا کی جانب سے یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب عدالت نے انتہا پسند ہندوؤں کو ریلی کے دوران تیز لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے سے روک دیا۔عدالت کے اس فیصلے پر شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے نے پارٹی ترجمان اخبار کے اداریے میں لکھا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان سے طلباکو پڑھنے میں پریشانی ہوتی ہے اور اس کے علاوہ لوگوں کی نیند بھی متاثر ہوتی ہے اس لیے حکومت اس کے خلاف کارروائی کرے۔ 


 بھارت کا روس سے 50 ارب ڈالر کے مزید 250 لڑاکا طیارے خریدنے کا فیصلہ

نئی دہلی(اردونیوزمیگزین رپورٹ) بھارت نے روس سے 50ارب ڈالر کے مزید 250جدید لڑاکا طیارے خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی اخبارکے مطابق 50 ارب ڈالر کا یہ سودا بھارت کا سب بڑا سودا ہوگا۔بھارتی فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل پی وی نائیک نے کہا ہے کہ ائیر فورس کے زیر استعمال 50 فیصد ہتھیار اور آلات ناکارہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فضائیہ کا حجم چین کی ائیر فورس کے مقابلے میں صرف ایک تہائی ہے اور ملک کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے فضائیہ کے وسائل ناکافی ہیں۔ ملکی تاریخ کے سب سے بڑے دفاعی منصوبے کے تحت روس سے 25 ارب ڈالر کے جدید لڑاکا طیارے خریدے جائینگے ۔ دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران بھارتی ائیر چیف نے کہا کہ پچاس فیصد لڑاکا طیارے‘ ریڈارز‘ ٹرانسپورٹ طیارے اور دیگر ہتھیار 2015ء تک اپ گریڈ کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ روس سے جدید ترین اسٹیلتھ طیاروں کی خریداری کے منصوبے پر بھی کام ہورہا ہے۔ منصوبے کے تحت 2017ء تک روس سے 250 تک لڑاکا طیارے حاصل کئے جائیں گے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اس منصوبے پر 25 ارب ڈالرز لاگت آئے گی اور بھارتی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی منصوبہ ہوگا۔


 
منموہن سنگھ کی زیر صدارت اجلاس، حریت رہنما سید شبیر شاہ کی رہائی کا فیصلہ 


وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کی صدارت میں ہونے والے منگل کے روز کے اجلاس میں مرکزی کابینہ نے مقبوضہ کشمیر میں گرفتار حریت پسند رہنما سید شبیر شاہ کی رہائی کے بارے میں فیصلہ کرلیا ہے اور ان پر قائم کئے گئے مقدمات واپس لینے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ وزیر داخلہ پی چد مبرم وزیر اعلیٰ جموں وکشمیر عمر عبداللہ کے ساتھ بدھ کو ہونے والے اجلاس میں ان کی رہائی کا باقاعدہ اعلان کریں گے یہ بھی معلوم ہواہے کہ حالیہ کرفیو کی خلاف ورزی کے الزام میں613 پکڑے گئے کشمیریوں کو بھی رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے جنگ کو وزارت داخلہ دہلی کے ایک سینئر اہل کار نے بتایاہے کہ مرکزی حکومت سید علی گیلانی، عمر فاروق، یاسین ملک اور عباس انصاری کی نظر بندی ختم کرنے کے حق میں ہے لیکن جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ اس میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں تاہم مرکزی سطح پر کشمیری قیادت کو جلد رہا کیاجائے گا تاہم سید شبیر شاہ کی اہلیہ نے منگل کے روز سری نگر سے جنگ کو فون پر بتایا ہے کہ ریاستی حکومت نے انہیں یقین دلایا ہے کہ شاہ صاحب پر مقدمہ واپس لینے کیلئے ایک دو روز میں فیصلہ ہوجائے گا اور ان کی رہائی عمل میںآ جائے گی تاہم سید علی گیلانی اور عمر فاروق اوریاسین ملک کا کہناہے کہ کوئی بانڈ پر کئے بغیر نظر بندی ختم کی جائے اور کرفیو کا خاتمہ کیاجائے۔دریں اثناء مقبوضہ کشمیر میں انتظامیہ نے نئی دہلی کی تناؤ کم کرنے کی کوششوں کے تحت سری نگر سے سکیورٹی بنکرز ہٹانا شروع کر دیئے ہیں، گزشتہ کئی ماہ سے جاری کرفیو، ہڑتالوں اور احتجاجی مظاہروں کے دوران 100 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

 

موساد کی شکایت پر 540 بھارتی ایٹمی سائنسدان فارغ، تحقیقات شروع 


بھارتی انرجی کمیشن نے اپنے 280 سینئر اور 260 جونیئر سائنس دانوں کو موساد کی معلومات ملنے کے بعد فارغ کردیا ہے ۔ ان 540 ایٹمی سائنس دانوں کو ایٹمی توانائی کمیشن کی اجازت سے تحقیقات کے لئے سی بی آئی کے انکوائری سیل میں پہنچا دیا گیا ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ دنوں اسرائیل کے سفیر نے دہلی میں بھارتی وزیردفاع اے کے انتھونی سے ملاقات کر کے ان سائنس دانوں کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات دی کہ ان سائنس دانوں کے چین کے خفیہ دفاعی ادارے سے رابطے تھے اور کچھ سائنس دان ایک یا دو مسلم ممالک سے نیوکلیئر آگاہی پر مامور تھے ۔ جنگ نے اس سلسلے میں توانائی کمیشن کی وزارت سے رابطہ کیا تو اس کا کوئی معقول جواب نہیں ملا ۔ البتہ کہا گیا ہے کہ اگر غلط لوگ تھے تو پکڑے گئے ۔ دفاعی حلقوں کے مطابق صرف دس اہلکار یا سائنس دان اس میں ملوث ہیں ۔ فارغ کئے جانے والوں کو سستی اور لاپرواہی کی وجہ سے فارغ کیا گیا ۔ وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے چالیس روز کے اندر تحقیقاتی رپورٹ سی بی آئی سے مانگ لی ہے ۔ 




بابری مسجد کیس:سنی وقف بورڈکاموقف مسترد،متنازع اراضی رام جنم بھومی ہے،بھارتی ہائیکورٹ


 

لکھنوٴ (اردونیوزمیگزین ) بھارتی عدالت نے تاریخی بابری مسجد کو شہید کرنے کے حوالے سے دائر مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے مسلمانوں کے موقف کو مسترد اور بابری مسجد کی اراضی کو رام جنم بھومی قرار دے دیا ہے، ا لہٰ آباد ہائی کورٹ نے متنازع اراضی کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کاحکم دیاہے جن میں رام جنم بھومی کاحصہ ہندووٴں، مسجدکی زمین مسلمانوں اور تیسرا حصہ ہندووٴں کے ادارے نرموئی اکھاڑے کو دیا جائے، فیصلے پر تین ماہ کے اندر عملدر آمد کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ دوسری جانب فیصلے کے بعد بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے لوگوں سے پرُامن رہنے کی اپیل کی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست اتر پردیش میں الٰہ آباد ہائیکورٹ کے 3 رکنی بنچ نے سنی وقف املاک بورڈ کا موقف مسترد کردیا اور کہا کہ معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ ایودھیا میں بابری مسجد کی متنازع اراضی سے متعلق قرار دیا کہ اراضی کے پہلے حصے کو رام کی جنم بھومی میں مندر قائم رہے گا۔ دوسرا حصہ مسلمانوں جبکہ تیسرا حصہ نرموئی اکھاڑے کو دیا جائے گا اور اس فیصلے پر3 ماہ بعد عملدرآمد ہوگا۔ اس دوران بابری مسجد کی اراضی وفاق کے پاس رہے گی۔ عدالت نے اس معاملے کو بات چیت سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ سنی سینٹرل وقف بورڈ نے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے جبکہ وقف کے وکیل کے مطابق وہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ الٰہ آباد کی ہائی کورٹ کے تین رکنی لکھنوٴ بنچ نے سنی سینٹرل وقف بورڈ اور آکھیل بھارت ہندو مہاسبھا کے درمیان 2.7 ایکڑ زمین کے تنازع کے فیصلے کی تفصیلات سے وکلا نے صحافیوں کو آگاہ کیا۔ وقف بورڈ کی درخواست بنچ نے 2-1 کی اکثریت سے خارج کی۔ فیصلہ سنانے والے جج ریٹائر ہوگئے ہیں۔ فیصلہ جسٹس ڈی وی شرما، ایس یو خان اور جسٹس ایس اگروال پر مشتمل بنچ نے سنایا۔ بھارتی حکومت اور سول سوسائٹی نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ علاوہ ازیں بھارتی کابینہ کی سیکیورٹی کابینہ کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے۔بھارتی ریاست اتر پردیش میں انتظامیہ نے19علاقوں کو حساس قرار دیتے ہوئے ایک لاکھ نوے ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں۔اس کے علاوہ فیصلہ پر ممکنہ فسادات کا مقابلہ کرنے کے لئے بھارتی فضائیہ فوجیوں کو متاثرہ علاقے میں منتقل کرنے کے لیے تیار رہے گی۔اس کے علاوہ ایس ایم ایس بھیجنے پر پابندی عائد ہے جبکہ دہلی اور حیدرآباد دکن میں ڈبل سواری اور مختلف علاقوں میں پارکنگ پر پابندی تھی۔ ایودھیا سمیت ریاست کے تمام اہم شہروں میں پولیس چوکس جبکہ فوج الرٹ ہے اور دو لاکھ اہل کاروں کو تعینات کیا جا چکا ہے۔ سیکیورٹی کے حوالے سے ہر گھنٹے کے بعد وزارت داخلہ کو رپورٹ بھجوائی جارہی ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بابری مسجد کے بارے میں الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں رٹ دائر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں۔


 سخت ترین کرفیو کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں جھڑپیں، بھارتی فوج کی فائرنگ سے 18 کشمیری شہید  


 
 سرینگر ( اردونیوزمیگزین رپورٹ/14ستمبر2010 ) مقبوضہ کشمیر میں حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں، بھارتی حکام نے سرینگر سمیت وادی کے کئی علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا جس کے باوجود سرینگر اور وادی کے دیگر علاقوں میں لوگوں نے بڑے پیمانے پر بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔ بانڈی پورہ ، بڈگام اور کئی دیگر مقامات پر بھارتی فوج نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 18 کشمیری شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ شہیدوں میں ایک 13 سالہ بچہ اور خاتون بھی شامل ہے۔ بھارتی قابض انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرلیا۔ مظاہرین نے کرفیو میں وزیرتعلیم پیرزادہ محمد سعید کے گھر پر دھاوا بول دیا، امریکا اور بھارت مخالف نعرے بازی کرنے والے مظاہرین نے عیسائیوں کے پروٹسٹنٹ چرچ سے منسلک ٹنڈیل بسکو اسکول سمیت سرکاری عمارت اور گاڑیوں کو جلا دیا۔ دوسری جانب قابض وادی کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نئی دہلی کی حکومت سے بھارتی فوج سے خصوصی اختیارات واپس لینے کا مطالبہ کردیا ہے جبکہ اسپیشل پاور ایکٹ کی منسوخی پر غور کیلئے بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ سینئر حکام سے ملاقات کریں گے اور اس حوالے سے پیر کو نئی دہلی میں اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں 3 ماہ سے جاری کشیدگی کے دوران پہلی مرتبہ وادی بھر میں 10 گھنٹوں کے دوران مظاہرین کے خلاف فورسز کے آپریشنوں میں ایک خاتون، تیرہ سالہ بچے سمیت 18 افراد شہید ہوئے، ایک پولیس اہلکار بھی مارا گیا۔ ان واقعات میں 100 زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں سرینگر اور دوسرے قصبوں کے اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔ وادی بھر میں عید کے روز علیٰحدگی پسندوں کی ریلی کے دوران ایک سرکاری عمارت میں آگ لگنے کے بعد کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پیر کو پوری وادی میں لوگوں نے کرفیو توڑ کر سڑکوں پر مظاہرے کیے اور اس دوران مشتعل مظاہرین نے سرکای املاک اور پولیس تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔ شمالی ضلع بانڈی پورہ میں کرفیو کیخلاف ورزی کرنے والے مظاہرین پر پولیس اور نیم فوجی دستوں نے فائرنگ کی جس سے ایک خاتون سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں سے 23 سالہ نثار احمد بٹ نے ضلع اسپتال میں دم توڑ دیا۔ مقبوضہ کشمیر میں پچھلے تین ماہ سے جاری پرتشدد واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد 84 ہوگئی ہے تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ ایک ہی دن میں اس قدر بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ بانڈی پورہ کے پڑوسی قصبہ ٹنگمرگ قصبہ میں لوگوں کی بڑی تعداد نے امریکا میں اتوار کو توہین قران کے مبینہ واقعے کے خلاف مظاہرے کیے۔ اس دوران مظاہرین نے کیتھولِک چرچ سے وابستہ ایک اسکول کے علاوہ متعدد سرکاری املاک اور سیاحوں کیلئے مخصوص کئی تعمیرات کو آگ لگا دی۔یہاں بھی پولیس اور نیم فوجی دستوں نے مشتعل مظاہرین پر فائرنگ کی جس سے محمد اقبال، عبدالقیوم، مدثر پرے، طارق احمد اور عبدالمجید نامی شہری ہلاک ہوگئے۔ اس آپریشن میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ادھر بڈگام ضلع میں آتشزنی کے کئی واقعات کے بعد ایئرپورٹ کے نزدیک ہمہامہ علاقہ میں تشدد پر آمادہ مظاہرین نے پولیس پارٹی پر حملہ کیا۔ جس میں پولیس اہلکار زخمی ہوگیاجو زخموں کی نہ تاب لاتے ہوئے ہلاک ہوگیا۔ جواب میں پولیس اور نیم فوجی دستوں نے شدید شیلنگ کی اور ہجوم پر گولیاں چلائیں۔ اس آپریشن میں رفیقہ نامی ایک خاتون کے علاوہ چوبیس سالہ نثار احمد اور باون سالہ غلام رسول ہلاک ہوگئے۔ بڈگام میں ہی چرارشریف میں تیرہ سالہ دانش نبی اْس وقت ہلاک ہوگیا جب فورسز نے سنگ بازوں کی ایک ٹولی پر فائرنگ کی۔عید سے اب تک مظاہرین نے وادی بھر میں سولہ پولیس تھانوں اور چوکیوں پر حملہ کیا جبکہ نصف درجن سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی گئی۔جنوبی کشمیر کے پام پورہ قصبہ میں بھی ایک ایسے ہی تصادم کے دوران فورسز فائرنگ سے اعجاز احمد، ریاض شیخ ، اور مظفرمیر نامی نوجوان ہلاک ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب وادی میں حالات بے قابو ہوجانے کے بعد وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کابینہ کا اجلاس طلب کیا جو ابھی جاری ہے۔ نئی دلّی میں بھی وزیراعظم نے کابینہ کی کمیٹی برائے سلامتی امور کا اجلاس طلب کیا ہے۔ 
 
مقبوضہ کشمیر، 66 فیصد کشمیریوں نے بھارت سے آزادی کا مطالبہ کردیا  
 
 
نئی دہلی (اردونیوزمیگزین رپورٹ  ) مقبوضہ کشمیر کے 66 فیصد کشمیریوں نے بھارت سے آزادی کا مطالبہ کردیا ہے ، 6 فیصد کشمیری پورے جموں و کشمیر کا پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں ، 56 فیصد کشمیری حالیہ فسادات کا ذمہ دار بھارتی حکومت کو سمجھتے ہیں جبکہ 44فیصد بھارتیوں کا کہنا ہے کہ وادی کے خراب حالا ت کیلئے ہمسایہ ملک پاکستان ذمہ دار ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی اخبار ” ہندوستان ٹائمز “ کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی تقریباً دو تہائی آبادی اپنے خطے کی آزادی چاہتی ہے ۔ دو حصوں میں تقسیم کشمیر کے خطے کا انتظام پاکستان اور بھارت الگ الگ سنبھالتے ہیں ، بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تقریباً 20 سال سے حق خود ارادیت اور علیحدگی کی تحریک جاری ہے جس کے باعث اب تک 47 ہزار افراد کی زندگیاں لقمہ اجل بن چکی ہیں ۔ ہندوستان ٹائمز کے اتوار کے شمارے کیلئے کئے گئے سروے سے ظاہر ہوتا ہے 66 فیصد کشمیری ایک نئے ملک کی حیثیت سے پورے جموں و کشمیر کی مکمل آزادی چاہتے ہیں جبکہ صرف 6 فیصد پورے جموں و کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ چاہتے ہیں ۔ سروے میں لوگوں سے یہ بھی پوچھا گیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے حالیہ پرُتشدد واقعات کا ذمہ دار کسے سمجھتے ہیں تو 56 فیصد کشمیریوں کا کہنا تھا کہ اس کی ذمہ دار بھارتی حکومت ہے جبکہ 44 فیصد بھارتیوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے حالات کا ذمہ دار ہمسایہ ملک اور روایتی حریف پاکستان ہے۔ سروے کے مطابق 96 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ فورسز کو کشمیری مظاہرین پر گولی نہیں چلانی چاہئے۔ 
 


گیس پائپ لائن پر بات چیت کا آغاز کیا جائے: بھارت کا ایران سے مطالبہ

بھارت نے ایران سےمطالبہ کیا ہے کہ قدرتی گیس  کی برآمد  سے متعلق  تعطل کے شکار منصوبے پر بات چیت دوبارہ شروع کی جائے۔

کثیر ملکی پائپ لائن پر سات ارب پچاس کروڑ ڈالر کی لاگت آئے  گی، جِس سے پاکستان کے راستے ایران سے بھارت کو قدرتی گیس  مہیا  ہوگی۔
بھارت کے پیٹرول اور قدرتی گیس  کے وزیر، جِتین پرسادا نے منگل کے دِن پارلیمان کو بتایا کہ مجوزہ منصوبے کو ترک نہیں کیا گیا بلکہ تینوں ملک منصوبے کے تیکنکی معاملات پر غور کر رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ مذاکرات  تب تک جاری رہیں گے جب تک گیس کی قیمت، ترسیل اور ٹرانزٹ  فیس کے معاملات پر یقین دہانیاں  طے نہیں ہوجاتیں۔

بھارتی وزیر نے کہا کہ اُن کی حکومت  صرف ایران پر تکیہ نہیں کر رہی ہے، بلکہ دوسرے ملکوں کے ساتھ بھی بات  ہو  رہی ہے۔

اِسی سال کے اوائل میں پاکستان نے ایران کے ساتھ پائپ لائن کی تعمیر کے سمجھوتے پر دستخط کیے  جِس کی رو  سے ایران کی جنوبی فارس گیس فیلڈ ، پاکستان کے بلوچستان اور سندھ صوبوں کے ساتھ پائپ  جوڑ دے  گی۔

اگر یہ پائپ لائن بھارت  تک  بڑھا دی جاتی ہے تو پاکستان ٹرانزٹ فیس وصول کرے گا جِس کی شرح کا تعین ابھی نہیں ہوا۔

 


 پاک بھارت مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار شاہ محمود قریشی ہیں،بھارتی وزیراعظم



لاہور (اردونیوزمیگزین رپورٹ ) بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے حالیہ پاک بھارت وزرائے خارجہ بات چیت کی ناکامی کی ذمہ داری پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پر ڈال دی ہے کہ نئی دہلی میں برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمروں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کئی معاملات پر معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے لیکن انہوں نے الگ پریس کانفرنس کر کے معاہدوں پر دستخط کا موقع گنوادیا ۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ شاہ محمود قریشی بھارت کے دورے کی دعوت قبول کرتے ہوئے نئی دہلی آئیں گے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا عمل دوبارہ بحال ہونے میں مدد ملے گی۔

پاکستان کیخلاف کارروائی کیلئے ”را“ کے 12 سو اہلکار افغانستان میں تعینات

کراچی (اردونیوزمیگزین ) جنگ کو اپنے خصوصی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بھارتی خفیہ ادارے ”را“ نے پاکستان میں کارروائی کیلئے اپنے 12 سو سے زائدافغانستان کے شہروں کابل، قدھار، جلال آباد اور ہرات کے مشنوں میں تعینات کر دیئے ہیں۔ ان اہلکاروں نے امریکا، برطانیہ، روس اور اسرائیل کی انٹیلی جنس سے تربیت حاصل کی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روز ”را“ افغان ڈیسک کے کمانڈروجے کمار ڈالیا نے افغانستان کے ان چاروں شہروں میں آئے ”را“ کے اہلکاروں سے اپنے مشنوں میں ملاقات کی۔ کہا جارہا ہے کہ بھارت سرکار نے امریکا ، برطانیہ اور روس کے اشتراک اور اسرائیل کی حمایت سے پاکستان کیخلاف آنے والے دنوں میں کارروائی کیلئے کام شروع کردیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ چاروں ممالک کی بدنام زمانہ ایجنسیوں نے اپنی بندوقوں کا رخ پاکستان کی طرف کردیا ہے۔ بھارت کو پاکستان کیخلاف کام کرنے کیلئے ”سی آئی اے“ اور ”موساد“ تعاون فراہم کررہے ہیں۔

 


دہشت گرد ممبئی طرز کا ایک اور حملہ کرسکتے ہیں جس سے پاک بھارت جنگ چھڑسکتی ہے،ایڈمرل مائیک مولن

ممبئی (اردونیوزمیگزین رپورٹ)امریکی فوج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دہشت گرد ممبئی طرز کا ایک اور حملہ کرسکتے ہیں جس سے پاک بھارت جنگ چھڑسکتی ہے، تشویش ناک بات یہ ہے کہ دہشت گردوں نے 2 ایٹمی طاقتوں کو آمنے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔ جبکہ امریکا کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ لشکرطیبہ بھی طالبان اور القاعدہ کی طرح خطرناک ہے، لشکرطیبہ طالبان کے ساتھ مل کر دنیا کیلئے خطرہ بن گئی ہے، آئی ایس آئی کے طالبان کے ساتھ مبینہ رابطوں سے متعلق تحفظات پاکستان سے اٹھائے ہیں، پاکستان یا طالبان میں سے کوئی بھی افغانستان پر قبضہ نہیں کرنے جارہا، افغانستان پاکستان کی شمولیت کے بغیر کبھی بھی مستحکم نہیں ہوسکتا۔ نئی دہلی آتے ہوئے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دہشت گرد پاک بھارت جنگ چھیڑنے کیلئے 2008ء کے ممبئی طرز کے حملے دوبارہ کر سکتے ہیں، یہ بات انتہائی قابل تشویش ہے کہ دہشت گرد دونوں ایٹمی طاقتوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا سکتے ہیں جیسا کہ ممبئی حملوں میں دہشتگردوں کا چھوٹا سا گروپ اسٹرٹیجک طور پر دونوں ملکوں کے درمیان اثر انداز ہوا۔ ہم اس بات کو یقینی بناناچاہتے ہیں کہ اس طرح کا واقعہ دوبارہ نہ ہو۔ مولن کا کہنا تھا کہ ممبئی حملوں کے بعد انہوں نے پاکستان سے ان دہشت گرد عناصر سے متعلق اپنے خدشات بارے میں آگاہ کیا تھا۔
 


  آئی ایس آئی پر ممبئی حملوں کا الزام، بھارتی سیکریٹری داخلہ کے بیان سے پاک بھارت مذاکرات متاثر ہوئے، کرشنا کا اعتراف  
 
 
نئی دہلی (اردونیوزمیگزین)بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہاہے کہ ان کا دورہ اسلام آباد انتہائی تبصروں کے زیر اثررہا جبکہ ان تبصروں کا بدقسمتی سے وقت موزوں نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی سیکریٹری داخلہ جی کے پلے کے مایوس کُن تبصرے نے پاک بھارت مذاکرات کومتاثر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ ان کے دورہ پاکستان کے ایک دن بعد مذاکرات سے قبل سیکریٹری داخلہ کے ممبئی حملے میں آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کے بیان سے واضح طور پر غیر پسندیدہ صورتحال پید اہوگئی۔انہوں نے کہا کہ بھارتی سیکریٹری داخلہ جی کے پلے کا پاکستان کے خلاف بیان غیر ضروری تھا۔بھارتی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا کہ پاکستانی وزیر خارجہ کے ساتھ بات چیت ناکام نہیں ہوئی تاہم شاہ محمود قریشی کو سفارت کاری وقار کے ساتھ کرنی چاہیے۔بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ حالیہ دورہ پاکستان سے مطمئین ہیں۔بھارتی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ بھارت اور پاکستان کو مسائل حل کرنے کے لئے مذاکرات کرنا ہونگے اور اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ممبئی حملے میں پاکستانی ادارے کے ملوث ہونے سے متعلق سیکریٹری داخلہ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے ایس ایم کرشنا نے کہا کہ بھارتی سیکریٹری داخلہ کو پاکستان کے خلاف بیان نہیں دینا چاہیے تھا اوریہ ایسے کسی بیان کیلئے درست وقت نہیں تھا۔ 
 


فلسطینی وزیراعظم کا بھارتی وزیراعظم کو احتجاجی خط

جب سےبھارت کےاسرائیل سےتعلقات قائم ہوئےہیں،بھارت کی ہمدردیاں اسرائیل کےساتھ ہیں۔

بھارت کےساتھ تعلقات میں نظرثانی کرسکتے ہیں،محمودعباس

 

اردونیوزمیگزین رپورٹ

فلسطین کے سفیر نے14جولائی کو پرائم منسٹر آفس ساؤتھ بلاک میں بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ سے سوا گھنٹہ تک ملاقات کی ہے کہا جارہا ہے کہ دہلی میں متعین فلسطین کے سفیر نے بھارتی وزیراعظم کوفلسطینی وزیراعظم محمود عباس کا احتجاجی خط پہنچایا ہے جس میں کہا گیا ہے بھارت کے تعلقات فلسطین سے قدیم ہیں لیکن جب سے اسرائیل سے بھارت کے تعلقات قائم ہوئے ہیں اسکے رویے اور پالیسیوں میں تبدیل آگئی ہے۔ دہلی میں اسرائیل کے خلاف مسلمانوں کے احتجاج کو روکا جاتا ہے اور اب بھارت میں فلسطین کے عوام کے ساتھ یک جہتی کے پروگراموں کو بھی روکا جارہا ہے بھارتی مسلمانوں کی ہمدردیاں فلسطینی عوام کے ساتھ ہیں کہا گیا ہے کہ فلسطین کی اتھارٹی کی طرف سے جو خط بھارتی وزیر اعظم کودیا گیا ہے اس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر بھارت فلسطین کو نظر انداز کرے گا اور فلسطنیوں کے لئے روکے جانے والی امداد میں اسرائیل کا حامی بنے گا تو فلسطین بھارت کیساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرسکتا ہے ۔ بھارتی مسلم دانشوز ڈاکٹر قاسم رسول الیاس کا کہنا ہے کہ بھارتی مسلمان اول روز سے ہی فلسطینوں کے حامی ہیں آج بھی اسرائیل کی مسلمان مذمت کرتے ہیں بھارت سرکار نے اگر اسرائیل کے مقابلے میں فلسطینوں کو نظر انداز کیا تو بھارتی مسلمانوں کا ردعمل اس پر شدید ہوسکتا ہیکیونکہ اسرائیل فلسطینوں پر مظالم کے پہاڑ توڑرہا ہے بھارتی مسلمان اسکی حمایت نہیں کرسکتے ہیں۔   


 

 

مقبوضہ کشمیرمیں حالات مزیدخراب میڈیاپربھی پابندیاں

کرفیواورگولی مارنےکےحکم کےباوجودمظاہرے جاری ہیں۔

اردونیوزمیگزین رپورٹ

 مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین پربھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے چارکشمیریوں کے قتل کے خلاف بدھ کو بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے قابض انتظامیہ نے سرینگر اوردوسرے قصبوں میں فوج کوتعینات کردیاہے اورصحافیوں کوجاری کئے گئے پاسزمنسوخ کرکے میڈیاپرپابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ تمام بڑے شہروں اورقصبوں میں کرفیوبرقرارہے،انتظامیہ نے مظاہرین کودیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں،اس دوران وادی بھرمیں مظاہرے جاری رہے،بھارتی فوجیوں نے مختلف علاقوں میں مظاہرین کومنتشرکرنے کے لئے لاٹھی چارچ اورآنسوگیس کا استعمال کیاجس سے 180افرادزخمی ہوگئے جن میں سے متعددکی حالت نازک ہے،علاقے میں ایس ایم ایس سروس بھی معطل کردی گئی ہے،ادھربھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کی زیرصدارت دہلی میں ہونے والے اجلاس میں مظاہرین کے خلاف بھرپورکریک ڈاؤن کافیصلہ کیاگیاہے۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ کشمیریوں کی شہادت کے خلاف ہونے والے مظاہروں کوروکنے کیلئے ریاستی حکومت نے باضابطہ طور پر فوج طلب کر لی ہے جبکہ مظاہرین کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں،سری نگر سمیت گردونواح میں تمام گلیوں و شاہراہوں پر سی آر پی ایف کے ساتھ ساتھ فوج گشت کررہی ہے، وادی کو سیکیورٹی قلعہ بنا دیا گیا ہے ۔دوسری جانب وادی میں کرفیوکے باوجودمظاہرین نے بے گناہ کشمیریوں کی ہلاکت کے خلاف بدھ کوبھی احتجاج کیا۔بھارتی فوجیوں نے خانیار، نوہٹہ، راجوری کدل، برزولہ ، فتح کدل ، براری پورہ، ٹاٹو گرائونڈ ، حیدر پورہ، بھگت، رام باغ ، جہانگیر چوک، مائسمہ اور حبہ کدل اور دیگر علاقوں میں لوگوں کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور آنسوگیس کا بے دریغ استعمال کیا جس سے 180 سے زائد افراد زخمی ہوگئے جن میں سے متعدد کی حالت تشویش ناک ہے ۔قابض انتظامیہ نے مظاہرین کے قتل کے خلاف لوگوں کو سڑکوں پر آنے سے روکنے کیلئے سرینگر، اسلام آباد، پامپور، پلوامہ، کولگام، کپواڑہ، بانڈی پور، سوپور اور بارہمولہ میں آج دوسرے روز بھی مسلسل کرفیو جاری رکھا۔دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق اور آغا سید حسن الموسوی کو ان کے گھروں میں نظر بند کردیا گیا۔بھارتی پولیس نے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبدالقیوم اور حریت رہنما حکیم عبدالرشید کو گرفتار کرلیا۔ادھر کٹھ پتلی انتظامیہ نے مقبوضہ علاقے میں میڈیا کے نمائندوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائدکردی اور ان کے کرفیو پاسز منسوخ کردیے ہیں۔دریں اثناء مقبوضہ کشمیر میں کشیدہ صورتحال کے پیش نظر بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کی سربراہی میں سیکیورٹی کابینہ کا اجلاس ہواجس میں وزیر داخلہ چدم برم ، وزیر دفاع اے کے انتھونی ، قومی سلامتی کے مشیر شیو شنکر مینن سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی، ایک گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر غور اورمظاہرین کے خلاف بھرپورکریک ڈاؤن کافیصلہ کیاگیا۔   
 
  
 مقبوضہ کشمیر میں اظہار رائے کی آزادی پر قدغن افسوسناک ہے، ہیومن رائٹس کمیشن 
 
 ہیومن رائٹس کمیشن سائوتھ ایشیا کے چیئرمین جان ایرکسن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کشمیر میں اظہار رائے کی آزادی پر قدغن افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کی تفتیش ہونا چاہئے کہ حالیہ دنوں میں جن شہریوں کی ہلاکت ہوئی ہے سیکورٹی فورسز اس کی کتنی ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مقامی اور غیرمقامی میڈیا کے اداروں سے وابستہ صحافیوں، فوٹو گرافروں اور کیمرہ مینوں کی نقل وحرکت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے کرفیو کے دوران جو اجازت نامے (کرفیو پاس) جاری کئے تھے ڈپٹی کمشنر نے انہیں ایک حکم نامے میں منسوخ کر دیا ہے ہم اس حکومتی اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی دہشت گردی کے دوران متعدد افراد شہید اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ کشمیری رہنمائوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے۔ لوگوں کی عزت وآبرو محفوظ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے نمٹنے کیلئے طاقت کا بے جا استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز اور فوج کو آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ کے تحت حاصل خصوصی اختیارات اگر واپس لے لئے جائیں تو جعلی مقابلوں کو روکا جا سکتا ہے۔ اس قانون کے تحت فوج کو تلاشی اور حراست میں لینے کے اختیارات حاصل ہیں۔ 


 

بھارت کاایٹمی میزائل پرتھوی کا کامیاب تجربہ

 

(اردونیوزمیگزین18جون 2010)

بھارت نےجمعےکونیوکلیئر صلاحیت رکھنے والے ’پرتھوی’میزائل کا تجربہ کیا ۔ یہ تجربہ اُڑیسہ میں چاندی پورمیں واقع تجرباتی رینج میں کیا گیا۔

بھارتی محکمہٴ دفاع کے ذرائع نے بتایا ہے کہ لانچ کامپلیکس تھری کے موبائل لانچرسےصبح چھ بج کر 50منٹ پر پرتھوی میزائل کو داغا گیا، اور ذرائع کے بقول، وہ کامیابی سےنشانے پرجا لگا۔

اعلان کے مطابق، فوج کے اعلیٰ عہدے داروں اور دفاعی سائنس دانوں کی موجودگی میں یہ تجربہ کیا گیا جو اِس میزائل کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے کیا گیا ہے جسے ‘یوزر ٹرائل’ کہا جاتا ہے۔

یہ میزائل 350کلومیٹر کے فاصلے پر نشانے پر وار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور 500کلوگرام روایتی اور نیوکلیئر ہتھیار لے جا سکتا ہے۔

زمین سے زمین پر وار کرنے کی صلاحیت والا یہ میزائل مسلح افواج میں پہلے ہی شامل کیا جاچکا ہے۔ پرتھوی میزائل بھارت کے انٹیگریٹڈ گائیڈیڈ پروگرام کے تحت تیار کردہ پہلا بیلاسٹک میزائل ہے۔ اِس کی لمبائی نو میٹر اور چوڑائی ایک میٹر ہے۔ پرتھوی کا آخری تجربہ رواں سال 27مارچ کو کیا گیا تھا۔


پاکستان سے تعلقات بھارت کےمفاد میں ہیں،من موہن سنگھ

 

سری نگر…بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ ہتھیار ڈالنے والوں کے ساتھ بات چیت کے عمل کو بڑھانا چاہتے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بھارت کے مفاد میں ہے۔سرینگریونیورسٹی میں کانوو کیشن سے خطاب کرتے ہوئے من موہن سنگھ نے کہا کہ ہتھیار ڈالنے والوں کے ساتھ بات چیت کے عمل کو بڑھانا چاہتے ہیں۔من موہن سنگھ نے کہا کہ جموں کشمیر میں امن چاہتے ہیں اورپاکستان سے اچھے تعلق

نکسل باغی
 
 
Powered by A+ eSolutions.com
wwww.urdunewsmag.com