جاپان میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 12ہزار سے بڑھ گئی
ٹوکیو(اردونیوزمیگزین رپورٹ13مارچ2011)جاپان میں بدترین زلزلے اور سونامی کے بعد ہلاکتوں کی تعداد12 ہزار سے زیادہ ہونے کا خطرہ ہے۔ امریکا نے اپنے شہریوں کو جاپان نہ جانے کی ہدایت کی ہے،امدادی کارروائیوں کیلئے امریکی بحری بیڑہ جاپان پہنچ گیا۔ جاپان میٹرولوجیکل ایجنسی نے بتایا ہے کہ زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر نو تھی۔ جاپان میں وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ زلزلے کی تباہ کاریاں سامنے آتی جارہی ہیں ۔ میاگی کے پولیس چیف کا کہنا ہے کہ صرف میاگی میں دس ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو سکتے ہیں۔ اس مقام سے پانچ سو سے زائد افراد کی لاشیں ملی ہیں جبکہ ہزاروں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے اور سونامی سے ہونیوالی تباہی اربوں ڈالر تک ہوسکتی ہے۔ زلزلے کے بعد2ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہرکیا جا رہا ہے جبکہ دس ہزار سے زائد لوگ اور چار ٹرینیں اب تک لاپتا ہیں تقریباً3 لاکھ افرادبے گھر ہوچکے ہیں۔لاکھوں افراد بجلی اور پانی سے محروم ہیں۔ امریکا نے ایک ٹریول ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی شہری بلاضرورت جاپان جانے سے گریز کریں اور سیاحت کے لیے بھی جاپان نہ جائیں۔ روس نے بتایا ہے کہ جاپان نے بجلی کی فراہمی میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جاپان نے زلزلے اور سونامی سے متاثرہ علاقوں میں فوج کی تعداددگنی کر دی ہے اور اب ایک لاکھ فوجی امدادی کاروائیوں میں حصہ لیں گے۔جاپان میٹرولوجیکل ایجنسی نے جمعہ کو آنے والے زلزلے کی شدت کے بارے میں کہا ہے کہ اس کی شدت ریکٹر اسکیل پر نو تھی اور یہ دنیا کی تاریخ کا شدید ترین زلزلہ تھا۔ اس سے پہلے امریکی جیالوجیکل سروے نے اس کی شدت آٹھ اعشاریہ نو بتائی تھی۔ امریکی بحری بیڑہ رونالڈ ریگن متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے لیے شمال مشرقی جاپان پہنچ گیا۔ برطانیہ نے زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے جدید آلات سے لیس تریسٹھ رکنی ٹیم جاپان روانہ کردی ہے
جاپان میں سونامی:ایک ہزارسےزائدہلاک ،ہزاروں لاپتہ، آئل ریفائنری میں آگ، دو ایٹمی پلانٹ بند

ٹوکیو(11مارچ 2011) …جاپان کے شہر ہنشو میں زلزلے کے شدید جھٹکوں کے بعد سونامی طوفان سے تباہی پھیل گئی۔10میٹر بلند لہروں نے شہر کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ زلزلے سے متعدد عمارتیں لرز گئیں اور آئل ریفائنری سمیت کئی میںآ گ لگ گئی جبکہ ساحلی شہر میں دو ایٹمی پاور پلانٹ بھی بندہوگئے۔اب تک کی موصولہ اطلاعات کے مطابق زلزلے سےایک ہزارسےزائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ زلزلے سے ٹوکیو میں ریلوے کا نظام درہم برہم ہوگیا ۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 8.9 ریکارڈکی گئی جبکہ 10میٹر بلندسونامی کی لہر یں جاپان کے ساحلی شہر سینڈائی سے ٹکرائیں جس سے کئی علاقے زیرآب آگئے۔جاپان کے شمال مشرقی علاقوں میں48 مقامات پر آگ لگ گئی۔شمال مشرقی جزیرے ہونشومیں شدیدآفٹرشاکس کی وارننگ بھی جاری کردی گئی ہے۔ جاپانی میٹرولوجیکل نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق زلزلے کا مرکز ٹوکیو شہر سے382 کلومیٹر شمال مشرق جبکہ زلزلہ سطح زمین سے10میٹر کی گہرائی میں آیا، زلزلے کے باعث بلند وبالاعمارتیں لرزاٹھی اور کئی میں آگ لگ گئی جبکہ لوگ خوف وہراس سے گھروں سے نکل کرسڑکوں پر آگئے۔ ادھر ساحلی علاقوں اور زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں سونامی وارننگ بھی جاری کردی گئی جبکہ چار میٹر اونچی لہریں ساحلی علاقے سے ٹکرائیں۔ جاپانی حکام کے مطابق زلزلے سے کئی عمارتیں متاثراور پیسیفک ساحلی علاقوں میں علاقے خالی کرنے کا حکم بھی دیدیاگیا۔جاپان میں زلزلے کے بعد53 ممالک نے سونامی وارننگ جاری کر دی،امریکی جیالو جیکل سروے کے مطابق جاپان میں آنیوالے زلزلے کی شدت8.9تھی جس سے روس، فلپائن اور ماریان جزیرہ میں سونامی کے پیش نظر سونامی وارننگ جاری کردی گئی،فلپائن کے ساحلی علاقوں میں لوگوں کومحفوظ مقامات پرمنتقل ہونے کی ہدایت کردی گئی ہے۔زلزلے اور سونامی کے باعث انتظامیہ نے تمام حفاظتی اقدامات مکمل کرلئے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق امریکی ریاست ہوائی میں بھی سونامی کی وارننگ جاری کردی گئی ہے اس کے علاوہ تائیوان میں بھی سونامی کی وارننگ جاری کی گئی جبکہ ڈزنی لینڈ کا پارک ایریا بھی سمندر میں ڈوب گیاہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جاپانی علاقوں میں امدادی کارروائیوں کیلیے تیارہیں، 30 بین الاقوامی ریسکیو ٹیمیں الرٹ کر دی گئیں۔ادھر پاکستان میں زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ سونامی کے باعث پاکستان میں زلزلے کا کوئی امکان نہیں جبکہ معاشی اعتبار سے جاپان میں زلزلے کے آنے کی وجہ ڈالر کی حیثیت جاپانی ین کے مقابلے میں گرگئی ہے۔
صدر حسنی مبارک نے استعفیٰ دیدیا،اقتدار فوج کے حوالے

قاہرہ(11فروری 2011)…مصر میں گذشتہ 18روز سے جاری غیر یقینی صورتحال اس وقت ختم ہوگئی جب پاکستان کے وقت کے مطابق جمعہ کی رات نو بجے صدر حسنی مبارک نے شدید عوامی دباؤ پر مستعفی ہونے کا اعلان کردیا، حسنی مبارک کا پیغام نائب صدر عمر سلیمان نے پڑھ کر سنایا، اس اعلان کے ساتھقاہرہ کے التحریر چوک پر اس وقت جشن کا سماں پیدا ہوگیا،جہاں تبدیلی کے محرک نوجوان،طالب علم، ورکرز اور عوام اپنی فتح پر ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے ہیں، مظاہرین مصرآزاد ہوگیا کے نعرے لگا رہے ہیں جبکہ اسی قسم کا جشن مصر بھر میں منایا جارہا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق صدر مبارک نے اقتدار مصری فوج کے حوالے کردیا ہے۔اس طرح صدر مبارک کا تیس سالہ دور اقتدار اپنے انجام کو پہنچا، واضح رہے صدر حسنی مبارک نے اکتوبر 1981میں صدر انورالسادات کے فوجی پریڈ کے دوران قتل ہونے کے بعد اقتدار سنبھالا تھا۔دریں اثناء صدر مبارک کے مستعفی ہونے کے بعد اسرائیل سمیت کئی عرب ملکوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ابوظبی کے ولی عہد نے کہازرداری گندے ہیں خطرناک نہیں، نواز شریف خطرناک ہیں گندے نہیں، وکی لیکس

لندن (ایجنسیاں ) دنیا بھر میں قائم امریکی سفارت خانوں کی خفیہ دستاویزات افشاء کرنے والی ویب سائٹ ویکی لیکس کی جانب سے دستاویزات جاری کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ گزشتہ روز جاری کی جانے والی دستاویزات کے سامنے آنے والے مزید حصوں میں پاکستان کے متعلق مزید انکشافات کئے گئے ہیں۔ 23/ جولائی 2009ء کی ایک دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ امریکی حکام سے بات چیت میں متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر اور ڈی فیکٹو ڈیفنس چیف اور ابو ظبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زیاد نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ زرداری گندے ہیں لیکن خطرناک نہیں؛ تاہم ان کے مقابلے میں میاں نواز شریف خطرناک تو ہیں لیکن گندے نہیں۔ پاکستان کے متعلق کئے جانے والے مزید انکشافات میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ مائر ڈیگان کی امریکی انڈر سیکریٹری برنز کے ساتھ ملاقات کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں مائر ڈیگان نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے جنرل پرویز مشرف مزید عرصہ تک اقتدار میں رہیں۔ انہوں نے جنرل پرویز مشرف اور حامد کرزئی کیلئے اپنی تشویش ظاہر کی تھی کیونکہ دونوں کو اپنے اپنے ملکوں میں بڑھتی مخالفت کا سامنا تھا۔ ڈیگان کا کہنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کو جنگجوؤں سے زبردست خطرات لاحق ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں پاکستان کے جوہری ہتھیار اسلامی شدت پسندوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کی طاقت کم ہوتی جا رہی ہے اور ممکن ہے کہ انہیں مستقبل میں اپنے اتحادیوں سے خطرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اس ملاقات میں ڈیگان نے ایران کے بڑھتے اثر رسوخ اور عرب ممالک کے ایران کے ساتھ کشیدگی پر بھی تبصرہ کیا تھا۔ 11/ فروری 2010ء کی ایک دستاویز کے مطابق سعودی شاہ عبداللہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری پاکستان میں دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کیلئے کارروائی میں بنیادی رکاوٹ ہیں۔ دستاویز کے مطابق امریکی جنرل جیمز جونز کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے سعودی فرمانروا نے کہا کہ پاکستان کیلئے امریکی ترقیاتی امداد کے اجراء سے امریکا کو پاک فوج کا اعتماد حاصل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا اعتراف کیا کہ امریکی خواہشات کے برعکس اور جو اسے کرنا چاہئے اس کے برعکس، پاک فوج خود کو سیاست سے دور رکھے ہوئے ہے۔ ایک دستاویز میں پاکستان ایٹمی پروگرام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکا نے 2007ء سے پاکستان کا افزودہ یورینیم اپنے قبضے میں لینے کا ایک خفیہ منصوبہ بنایا ہوا ہے۔ تاہم یہ منصوبہ ابھی تک کامیاب نہیں ہوا۔ مئی 2009ء کی ایک دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ سابقہ امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے ایک خفیہ دستاویز میں کہا پاکستان طے شدہ شیڈول کے مطابق امریکی ماہرین کو اپنے ایٹمی ٹھکانوں کے دورے کی اجازت نہیں دے رہا تھا، اس سلسلے میں ایک سرکاری افسر کا کہنا تھا کہ اگر پاکستانی میڈیا کو پتہ چل گیا کہ امریکا نے یورینیم قبضے میں لے لیا ہے تو وہ (میڈیا) یہ سمجھیں گے کہ امریکا نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیار قبضے میں لے لیے ہیں۔ دریں اثناء ایک اور دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ترکی نے رواں سال کے شروع میں افغانستان پر ہونے والی کانفرنس میں پاکستان کو خوش کرنے کیلئے بھارت کو شرکت کی دعوت نہیں دی تھی۔ خفیہ دستاویزات کے مطابق ترکی کے ایک سفارتخانے نے امریکی حکام کو بتایا کہ بھارت کو افغانستان پر کانفرنس سے باہر اس لئے رکھا گیا کہ پاکستان کی تشویش کو دورکیا جائے۔ استنبول میں ہونے والی اس کانفرنس میں ترکی کے تعاون سے پاک افغان صدور نے ملاقات کی تھی۔ ایک اور دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پاک ایران گیس پائپ سے پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ پاکستان کے پاس گیس کی ادائیگی کیلئے رقم ہے اور نہ ہی پائپ لائن تعمیر کرنے کیلئے۔ ویکی لیکس کی جانب سے ایران کے متعلق ایک خفیہ دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے سپریم کمانڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں۔ اس سلسلے میں ایک ایرانی نژاد تاجر کی بات چیت کا ذکر کیا گیا ہے جس کے سابق صدر رفسنجانی کے ساتھ تعلقات تھے۔ اس تاجر نے دعویٰ کیا کہ رفسنجانی نے اسے بتایا ہے کہ خامنہ ای ٹرمینل لیوکیمیا کے مرض میں مبتلا ہیں اور امکان ہے کہ وہ چند مہینوں میں انتقال کرجائیں۔
واشنگٹن / اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے چیف میئر ڈیگان نے اگست 2007ء میں امریکیوں کو تنبیہ کی تھی کہ صدر پرویز مشرف اپنا کنٹرول کھورہے ہیں اور انہیں یقین نہیں ہے کہ مشرف آئندہ کئی برس برسراقتدار رہ سکیں گے اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسی کے چیف نے حیران کن حد تک ایک انتہائی اہم سیاسی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ان (مشرف) کے چند اتحادیوں میں سے چند مستقبل میں ان کے لئے خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں“ موساد کے چیف نے اپنا یہ اندازہ امریکا کے انڈر سیکریٹری نکولس برنس کو تل ابیب میں 17/ اگست 2007ء کو ایک اجلاس میں دیا تھا جس میں انہوں نے مشرق وسطی کے خطے، پاکستان اور ترکی کے حو الے سے اپنے اندازے پیش کئے تھے جس میں اسرائیل نے صدر مشرف کی بہبود کے بارے میں اپنی تشویش پر زور دیا تھا۔ اس اجلاس میں دو نوں ممالک کے سینئر سفارت کار موجود تھے۔ اس اجلاس کی خفیہ رپورٹ جسے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور متعدد اہم امریکی سفارت خانوں جس میں اسلام آباد بھی شامل تھا بھیجا گیا تھا اسے وکی لیکس نے سیکڑوں ہزاروں دیگر دستاویزات کے ساتھ اتوار کو جاری کیا۔ برنس اور ڈگن نے خصوصی طور پر مشرف کے مستقبل کے حو الے سے تبادلہ خیال کیا جسے اس وقت تقویت حاصل کی ہوئی عدلیہ ایسے مسائل اور جو 3/ نومبر کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تیاری کررہا تھا۔ مذکورہ ادا رے نے انکشاف کیا کہ ڈیگن نے مشرف کے حوالے سے کیا کہا تھا۔ ”پاکستان پر سے ڈگن کہتا ہے کہ صدر مشرف کنٹرول کھو رہا ہے اور کہ اس کے اتحادیوں میں سے چند مستقبل میں اس کے لئے خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں چوکلیدی سوال ڈیگن کرتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا مشرف مستقبل کمانڈر ان چیف کے علاوہ صدر کی حیثیت سے اپنا رول جاری رکھ سکے گا، اگر نہیں تو اسے مسائل کا سامنا کرنا ہوگا“ ڈیگن کا مشاہدہ ہے کہ مشرف کی زندگی لینے کی کوششوں میں اضافہ ہورہا ہے اور وہ پریشان ہے کہ کیا مشرف آئندہ پانچ سال تک زندہ رہ سکے گا یا نہیں۔ انڈر سیکریٹری برنس نے جواب دیا کہ جنوبی ایشیا نے 11/ ستمبر سے امریکی خارجہ پالیسی میں نہایت اہمیت اختیار کرلی ہے۔ امریکا نے خود کو اس کا پابند کرلیا ہے کہ وہ افغانستان کو طالبان اور القاعدہ کی سرگرمیوں کے لئے ایک محفوظ جنت نہیں رہنے دے گا۔ یو ایس جی پاکستانی صدر مشرف کی حمایت جار ی رکھے گا اور اس کی دفاعی فوجی صلاحیتوں میں اضافے کی کوشش کرتا رہے گا۔ بھارت کو زیر بحث لاتے ہوئے انڈر سیکریٹری نے نوٹ کیا کہ امریکا اور بھارت کے معاشی تعاون میں اضافہ ہورہاہے اور کہ یو ایس جی بھارت اور پاکستان کے درمیان تلخیوں کو کم کرنے کے لئے موثر انداز میں کام کررہا ہے۔ اسرائیل کے لئے امریکا کے سفیر رچرڈز ایچ جونز نے اجلاس کے حو الے سے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو بھیجے گئے کیبل کو اس لئے خفیہ قرار دیا تھا کیو نکہ اس میں مشرف کے مستقبل کے بارے میں ڈیگن کے تبصرے شامل تھے۔ برنس نے مشرف اورکزئی کی حکومتوں کو تعاون کی امریکی کوششوں کی وضاحت کرتے ہوئے کیونکہ انہیں طالبان اور القاعدہ کی مخالفت کا سامنا ہے اور تشریح کی کہ خلیج سیکورٹی ڈائیلاگ کا مطلب ہے کہ خلیجی ریاستوں کو سہارا دیا جائے جنہیں ایران سے خطرات ہیں۔ خطے کا تجزیہ کرتے ہوئے ڈیگن نے کہا کہ اسرائیل خود کو تیزی سے بدلتے ماحول کے درمیان میں محسوس کرتا ہے جس میں ایک خلیجی ریاست کا مقصد ایک اور ریاست سیم نسلک ہے۔ ڈیگن نے پھر کہا کہ وہ اس حوالے سے پریشان رہے ہیں کہ پاکستانی صدر مشرف کب تک جمے رہ سکیں گے ”انہیں جنگجوؤں سے سنجیدہ مسائل کا سامنا ہے پاکستان کی جوہری صلاحیت ایک اسلامک حکومت کے ہاتھ لگ سکتی ہے“۔
وکی لیکس نے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی، آصف زرداری ، شاہ عبداللہ کو بڑا بھائی سمجھتے ہیں، صدارتی ترجمان
اسلام آباد/ صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے وکی لیکس کی جانب سے شاہ عبداللہ سے منسوب صدر زرداری سے متعلق بیان کو مسترد کردیا ہے۔ کولمبو سے بات چیت کرتے ہوئے فرحت اللہ بابر نے کہا کہ صدر زرداری شاہ عبداللہ کو بڑا بھائی سمجھتے ہیں اور وکی لیکس نے دو برادر اور اہم ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ صدارتی ترجمان نے کہا کہ نام نہاد دستاویزات کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور اس بات کی تحقیق ہونی چاہئے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے والے عناصر کے مقاصد کیا ہیں۔ دوسری جانب سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر عمرخان علی شیرزئی نے ریاض سے ٹیلی فون پر بتایا کہ شاہی خاندان کے بعض افراد نے سفیر پاکستان سے رابطہ کرکے صدر زرداری کے بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔ پاکستان سفیر نے کہا کہ شاہی خاندان کا تاثر ہے کہ صدر زرداری نے شاہ عبداللہ کے بارے میں بالغ نظر اور درست بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ وکی لیکس کے ذریعے پاک سعودی تعلقات کو متاثر کرنے کی کوشش ناکام ہوگئی ہے۔
ایم آئی 6 نے جعلی طالبان لیڈر کو خطیر رقوم اداکیں، مغربی میڈیا کی رپورٹ
لندن(اے ایف پی) برطانوی انٹیلیجنس ایک جعلی طالبان لیڈر کو امن مذاکرات کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرتی رہی اور اسے لاکھوں ڈالر کی ادائیگیاں بھی کی گئیں۔ لیکن بعد میں وہ ایک معمولی باغی بلکہ کوئٹہ کا دکاندار ثابت ہوا۔ ایم آئی 6 کا خیال تھا کہ وہ طالبان کا ایک بڑا رہنما ملا اختر محمد منصور ہے اور امریکی اور افغان حکام اس کے ساتھ امن بات چیت کرسکتے ہیں۔ افغان صدر حامد کرزئی کے چیف آف سٹاف محمد عمر داوٴد زئی نے کہا کہ برطانوی انٹیلیجنس خود کو ملا اختر منصور ظاہر کرنے والے اس جعلی طالبان رہنما کو جولائی اور اگست میں صدر کرزئی سے ملوانے کے لیے بھی لائی۔لیکن ایک ملاقات میں ایک افغان اہلکار ایسا موجود تھا جو ملا منصور کو جانتا تھا اور اس طرح ثابت ہوا کہ یہ اصل آدمی نہیں ہے۔ داوٴد زئی نے کہا کہ اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اس عمل کو صرف افغانستان ہی بہتر طور پر انجام دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے بین ا لاقوامی شرکائے کار بہت جلد جوش میں آجاتے ہیں حالانکہ وہ افغانوں کے بارے میں بہت کم معلومات رکھتے ہیں۔ برطانوی وزارت خارجہ نے اس جعلی طالبان لیڈر کے بارے میں تصدیق یا تردید سے انکار کردیا ہے لیکن اس کی تصدیق کی ہے کہ برطانوی انٹیلیجنس طالبان کے ساتھ امن بات چیت میں حصہ لے رہی ہے۔ دی ٹائمز نے لکھا ہے کہ ایم آئی 6 نے شروع میں یہ تصور کرلیاتھا کہ اس جعلی طالبان لیڈر سے رابطہ امن کی بات چیت میں ایک بڑا بریک تھرو ثابت ہوگا ۔ ملا منصور سابق طالبان حکومت کے ایک سابق وزیر ہیں اور ملا عمر کے بعد طالبان قیادت میں نمبر 2 تصور کئے جاتے ہیں۔ٹائمز کے مطابق اسلام آباد میں مقیم برطانوی انٹیلیجنس افسروں نے اس شخص سے رابطہ کیا تھا اور خیال ہے کہ امریکی اینٹیلیجنس نے اس کی تصدیق کی تھی۔ جعلی لیڈر کو رائل ائر فورس کے ہرکولیس طیاروں میں کئی مرتبہ کوئٹہ سے کابل لے جایا گیا۔ قندھار میں اس ماہ ریٹائر ہونے والے سینئر امریکی اہلکار بل ہیرس نے دی ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں صرف برطانوی انٹیلیجنس ایجنٹ ہی بے وقوف نہیں بنے بلکہ امریکی ایجنٹوں نے بھی غلطیاں کیں۔افغانستان میں اعلی ترین امریکی کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے جرمنی میں ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ انہیں اس رپورٹ پر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ دریں اثنا ایک ذریعہ نے ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صرف افغان ہی صحیح یا غلط طالبان لیڈر کی نشاندہی کرسکتے ہیں بعض اوقات نیٹو داڑھی اور پگڑی والے دو طالبان لیڈروں کے درمیان بھی فرق نہیں کرسکتا۔
رفیق حریری قتل میں ملوث قرار دینا ناقابل برداشت ہے،حسن نصراللہ

بیروت(اردونیوزمیگزین رپورٹ) لبنانی تنظیم حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ نے خبردار کیا کہ ان کی جماعت کو سابق لبنانی وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل میں ملوث قرار دینا ناقابل برداشت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رفیق حریری کے قتل میں حزب اللہ کے ارکان کو پکڑنے والوں کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں گے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق حزب اللہ کے ایک کمانڈر کے یوم شہادت کی حوالے سے اپنے نشریاتی خطاب میں شیخ حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ ان کی جماعت اپنے ارکان کے خلاف کسی بھی الزام کو تسلیم کر لے گی، وہ سنگین غلطی پر ہے اور غلط فہمی کا شکار ہے۔ ہم اپنے مجاھدین کی گرفتاری یا نظربندی کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حزب اللہ کے ارکان یا رہ نما کی طرف بڑھنے والے کسی بھی ہاتھ کو کاٹ دیا جائے گا۔حزب اللہ کے سربراہ نے حکومت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ کون سے عناصر بیروت میں اقوام متحدہ کی رفیق حریری قتل کے لیے قائم یو این ٹریبونل سے جلدی میں فیصلہ لینا چاہتے ہیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جلد بازی میں فیصلہ حاصل کرنے کا مقصد کیا ہے۔
افغانستان میں نیٹو کی کامیابی ناممکن ہے، میخائل گورباچوف

لندن(اردونیوزمگیزین رپورٹ) سابق سوویت یونین کے آخری صدر میخائل گورباچوف نے کہا ہے کہ اگر امریکا ویتنام جیسی صورتحال سے بچنا چاہتا ہے تو اس کے پاس افغانستان سے فوج واپس بلانے کے سوا کوئی راستہ نہیں ۔تاہم برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مشکل ترین کام کی تکمیل کے بغیر فوج واپس نہیں بلائی جائے گی۔افغانستان میں دس سالہ جنگ کی ناکامی کے بعد 1988 میں سوویت فوج واپس بلانے والے میخائل گورباچوف نے برطانوی نشریاتی ادارے کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا کہ افغانستان میں نیٹو کی کامیابی ناممکن ہے، وہاں سے آئندہ سال سے مرحلہ وار فوج واپس بلانے کا صدر اوباما کا فیصلہ اچھا ہے خواہ اس کے لیے کتنی ہی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑے، گورباچوف نے کہا کہ امریکا کو افغانستان سے نکلنے کے لیے سخت جد جہد کرنی پڑے گی۔انھوں نے کہا کہ امریکا ہمیشہ یہ کہتا ہے کہ وہ ایک جمہوری افغانستان کی حمایت کرتا ہے جس کے پڑوسیوں سے اچھے تعلقات ہوں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکا عسکریت پسندوں کو تربیت بھی دیتا رہا ہے اور یہ وہی لوگ ہیں جو آج افغانستان اور پاکستان کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔پروگرام میں شریک برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کہا کہ افغانستان میں مشکل ترین کام مکمل کیے بغیر فوج واپس نہیں بلائیں گے۔
وکی لیکس نے عراق جنگ کی 4 لاکھ خفیہ امریکی دستاویزات جاری کردیں

دبئی(اردونیوزمیگزین رپورٹ) خفیہ معلومات جاری کرنے والی ویب سائٹ وکی لیکس نے افغانستان کے بعد عراق جنگ سے متعلق چار لاکھ خفیہ امریکی دستاویزات جاری کردیں۔ دستاویزات میں عراقی شہریوں پر ریاست کی منظوری سے تشدد اور امریکی فوج کے ہاتھوں ہزاروں شہریوں کی ہلاکت کا انکشاف کیا گیا ہے۔دستاویزات میں 2004 سے 2009 کے دوران عراق میں ہونے والے جنگی واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔دستاویزات کے مطابق عراق جنگ کے دوران ایک لاکھ نو ہزار عراقی ہلاک ہوئے جن میں سے 63 فیصد عام شہری تھے۔ حالانکہ کچھ عرصے پہلے امریکی فوج کی طرف سے جاری کی کیے گئے اعدادوشمار میں عراقی جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے عراقی شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کی مجموعی تعداد 77 ہزار بتائی گئی تھی۔ دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عراقی سیکیورٹی فورسز قیدیوں پر تشدد کے ایک ہزار کیسز میں ملوث رہی ہے اور ریاستی منظوری سے ہونے والے اس تشدد سے امریکی حکام واقف تھے لیکن انہوں نے اپنی فوج کو مداخلت نہ کرنے کی ہدایت کی۔ جبکہ خود اتحادی فوجیوں کے خلاف قیدیوں پر تشدد کی300 رپورٹس درج کرائی گئی تھیں۔ امریکی نجی سیکیورٹی کمپنی بلیک واٹر کے ہاتھوں عراقی شہریوں کی ہلاکتوں کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ وکی لیکس کی طرف سے جاری دستاویزات کے مطابق عراق میں اثرورسوخ کے حصول کے لیے ایران اور امریکا کے درمیان بھی رسہ کشی جاری ہے۔ ایران پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ امریکی فوجیوں کو اغوا اور قتل کرنے کے لیے ملیشیا کا استعمال کررہا ہے جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب عراق میں شیعہ گروپس کو اسلحے کی فراہمی میں ملوث ہے۔ دستاویزات میں7 ستمبر2006 کو رونما ہونے والے ایک واقعے کا ذکر ہے جس میں ایرانی سپاہی نے سرحد پر گشت کرتے امریکی فوجی یونٹ پر راکٹ داغا۔ امریکی فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایرانی سپاہی کو مشین گن سے ہلاک کردیا۔ دستاویزات کے مطابق ایران کی طرف سے گزشتہ برس حراست میں لیے گئے تین امریکی ہائیکرز عراقی سرحد کے اندر سے گرفتار کئے گئے تھے۔ دستاویزات میں اس گرفتاری کو اغوا قرار دیا گیا ہے۔ امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن کا کہنا ہے کہ امریکی اور اتحادی فوجیوں کی زندگیاں خطے میں ڈالنے والے ایسے انکشافات قابلِ مذمت ہیں۔ وکی لیکس نے اس برس جولائی میں بھی افغان جنگ سے متعلق 92 ہزار دستاویزات جاری کی تھیں جس پر امریکی فوجی حکام نے خبردار کیا تھا کہ دستاویزات کے منظر عام پر آنے سے امریکی فوجیوں اور افغان شہریوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ ان میں ایسے افغان شہریوں کے نام بھی شامل ہیں جنھوں نے اتحادی فوج کی مدد کی تھی۔
افغانستان میں قیام امن کیلئے ایران کی پہلی مرتبہ عالمی مذاکرات میں شرکت، تہران کا کردار تسلیم کرتے ہیں، امریکا

روم(اردونیوزمیگزین رپورٹ)جنگ سے تباہ حال افغانستان میں قیام امن اور استحکام کے لئے مناسب ماحول کی تشکیل کی غرض سےآخرکارامریکہ نےایران کی اہمیت اورکردارکاندازہ لگالیاہے۔ ایران نے پیر کو پہلی مرتبہ افغانستان کے معاملے پر بین الاقوامی رابطہ گروپوں کے ساتھ اٹلی کے دارالحکومت روم میں ہونے والے مذاکرات میں حصہ لیا۔ جبکہ افغانستان میں قیام امن کے لئے عالمی سطح پر ہونے والے مذاکرات آئندہ ماہ (نومبر) میں لزبن میں ہوں گے۔فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق روم میں ہونے والے اس اجلاس جس میں 46ملکوں کے خصوصی نمائندوں نے شرکت کی،ان میں پہلی مرتبہ 57 مسلم ملکوں پر مشتمل تنظیم اوآئی سی،جسے مسلم امہ کی سب سے اہم آوازقراردیا جاتا ہے، کا نمائندہ بھی شامل تھا۔اس موقع پر افغانستان اور پاکستان کے لئے امریکا کے خصوصی نمائندے رچرڈہالبروک نے صحافیوں کو بتایا کہ ایران اور اوآئی سی کے نمائندوں کی شرکت انتہائی اہم پیشرفت ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کا ایک اوراشارہ ہے کہ افغانستان میں قیام امن اور استحکام لانے کے لئے بین الاقوامی کوششیں تہذیبوں کا تصادم ہرگزنہیں ہے۔امریکی نمائندے نے کہا کہ ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ افغانستان کی مخدوش صورتحال کے پرامن تصفیہ کرانے میں ایران کا ایک اہم کردارہے۔ ہالبروک نے افغان حکومت اورطالبان کے درمیان مذاکرات پر ہونے والی تنقید کو مسترد کیا اور ہتھیار ڈالنے والے جنگجوؤں کا حوالہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں مصالحت کے حوالے سے ہرایک سے بات کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ امریکی نمائندے نے کہا کہ افغانستان میں کوئی شکست نہیں ہورہی،کیونکہ ہم شروع سے کہہ رہے ہیں کہ ہم اس جنگ کو فوجی ذرائع سے جیت نہیں سکتے۔اس موقع پر اٹلی کے افغانستان کے لئے خصوصی نمانئدے میسیموایناکسی نے کہا کہ امن مذاکرات میں ایران کی شمولیت کو اہم قراردیتے ہوئے کہا کہ افغانستان اور ایران مشترکہ مفادات رکھتے ہیں جن میں ایران افغان بارڈرکے ذریعے انسانوں اور منشیات کی اسمگلنگ کے مسائل شامل ہیں۔قبل ازیں ایرانی صدراحمدی نژادنے رواں سال کے آغاز میں کہا تھا کہ صرف علاقائی طاقتیں ہی افغانستان میں امن لاسکتی ہیں۔تاہم پیر کو ہونے والے اجلاس میں سفارتکاروں افغان مسئلے کے حل کو عالمی کوشش قراردیا۔اجلاس کی صدارت کرنے والے جرمنی کے خصوصی نمائندے مائیکل اسٹینر نے کہا کہ یہاں اس مسئلے کے لئے تمام عالمی برادری جمع ہے۔
تمام فلسطینی زمین کا آزاد ہونا ناگزیر ہے،بیرونی مداخلت کی ضرورت نہیں، ایرانی صدر
صدراحمدی نژادکابیروت میں شانداراستقبال،امریکہ کےخلاف نعرے

بیروت (اردونیوزمیگزین رپورٹ/13اکتوبر2010 ) ایرانی صدر محمود احمدی نژادکالبنان کےدورے کےموقع پر بیروت پہنچنےپرشانداراستقبال کیاگیا،سڑک کےدونوں طرف ہزاروں لوگ صدراحمدی نژادکی ایک جھلک دیکھنےکیلئےموجود تھے۔اس موقع پرانھوں نےامریکہ کےخلاف اورایران کی حمایت میں نعرےبھی لگائے۔لبنان کی پارلیمینٹ کےسپیکر نےائیرپورٹ پران کا استقبال کیا۔صدراحمدی نژاد نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بیرونی مداخلتوں کی کوئی ضرورت نہیں یہ بات انہوں نے بیروت میں لبنانی ہم منصب میشیل سلیمان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔ ایرانی صدر نے باور کرایا کہ تمام فلسطینی اراضی کا آزاد ہونا ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران‘ صیہونی جارحیت کے خلاف لبنان کی مزاحمت کی بھرپور سپورٹ کرتا ہے۔ احمدی نژاد کا کہنا تھا کہ خطے میں بیرونی مداخلتوں کی کوئی ضرورت نہیں اس سے قبل لبنان کے صدر میشیل سلیمان نے بتایا کہ ایرانی ہم منصب کے ساتھ بات چیت مفید رہی۔ ایران کے ساتھ متعدد شعبوں میں معاہدوں پر دستخط کئے گئے ہیں ان کا کہنا تھا کہ لبنان بین الاقوامی قوانین کے مطابق ایران کے پرامن نیو کلیئر ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے حق کی حمایت کرتا ہے۔ واضح رہے کہ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے بیروت کے دورے سے قبل سعودی فرمانروا اور اردن کے حکمران سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا۔ قبل ازیں احمدی نژاد کا لبنان پہنچنے پر بھرپور استقبال کیا گیا۔
ایران، پاسداران انقلاب کے اسلحہ ڈپو میں آگ، دھماکا، 18 افرادجاں بحق
تہران (اردونیوزمیگزین) پاسداران انقلاب کے اسلحہ ڈپو میں آگ لگنے سے دھماکے میں 18 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہوگئے۔ سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق دھماکہ مغربی صوبے لورستان کے دارالحکومت خرم آباد میں قائم امام علی اسلحہ ڈپو آگ لگنے سے ہوا۔ دھماکے میں 18 افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے۔ زخمی فوجیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ مقامی فوجی ترجمان کے مطابق دھماکہ حادثاتی طور پرہوا تھا۔
امریکا نے افغان جنگ کا رخ پاکستان کی جانب موڑ دیا ، امریکی اخبار
شمالی وزیرستان، ایک روز میں 3 ڈرون حملے، 18 جنگجو ہلاک

میرانشاہ (اردونیوزمیگزین رپورٹ/3اکتوبر2010) افغانستان میں نیٹو افواج کی سپلائی بند کرنے کے شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون طیاروں نے ایک ہی روز میں 3 حملے کئے جس کے نتیجے میں 18 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے انٹیلی جنس حکام کے حوالے سے بتایاکہ جاسوس طیاروں کے میزائل حملے میں ہلاک ہونے والوں میں حقانی گروپ سے تعلق رکھنے والے 6 غیر ملکی عسکریت پسند بھی شامل ہیں جبکہ حملے میں تباہ ہونے والا گھر اور گاڑی شدت پسندوں کے زیراستعمال ہی تھے۔ تفصیلات کے مطابق ہفتہ کو میرانشاہ سے 80 کلو میٹر کے فاصلے پر دتہ خیل تحصیل کے ایک گاؤں کثرہ مداخیل میں 2 امریکی جاسوس طیاروں نے ایک گھر پر 4 میزائلوں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق اور 4 شدید زخمی ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ حملے کے نتیجے میں مکان مکمل طور پر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا۔ پہلے میزائل حملے کے چند گھنٹے بعد تحصیل دتہ خیل کے ہی علاقے تیرمرہ میں امریکی جاسوس طیارے نے ایک مکان پر 4میزائل داغے جس کے نتیجے میں مکان مکمل طور پر تباہ ہو گیا جبکہ اس کے اندر موجود 4 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔تیسرا ڈرون حملہ دتہ خیل کے علاقے تیرمڑہ میں ایک گاڑی پر کیا گیا۔ ڈرون نے 2 میزائل فائر کئے جس کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ حملے کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ رائٹرز کے مطابق پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی کے ایک اہلکار نے ڈروں حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں 6غیر ملکی عسکریت پسند بھی مارے گئے جن کا تعلق حقانی گرو پ سے بتایا جاتا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ حملے کے بعد بھی فضاء میں 4 جاسوس طیاروں کی پروازوں کا سلسلہ جاری رہاجس کی وجہ سے امدادی کارروائیاں میں مشکلات پیش آئیں اور لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے ۔ مقامی طور پر ملنے والی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد تمام مقامی بتائے جاتے ہیں۔ 2010 میں وزیرستان میں 65 واں حملہ ہے۔واشنگٹن سے جنگ نیوز اور اے ایف پی کے مطابق امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکا نے خفیہ طور پر افغان جنگ کا رُخ پاکستان کی جانب موڑ دیا ہے اور طالبان اور القاعدہ کے خلاف حملوں میں تیزی لانے کیلئے سی آئی اے نے پینٹا گون سے اضافی ڈرون طیارے حاصل کرلئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے خفیہ طور پر افغان میدان جنگ سے ڈرونز اور میزائلوں کا رخ پاکستان کی جانب موڑ دیا ہے، سی آئی اے کی مہم جوئی میں تیزی امریکی جنگی حکمت میں تبدیلی کا حصہ ہے جبکہ اوباما انتظامیہ کے نزدیک پاکستانی فوج عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کرنے کی اہل نہیں یا آپریشن کرنا نہیں چاہتی۔ اخبار کے مطابق سی آئی اے نے پاکستان میں فوری مہم جوئی کیلئے امریکی فوج سے ادھار ڈرونز حاصل کیے ہیں۔ سی آئی اے اور پنٹاگان نے بھاری تعداد میں ڈرونز کی خریداری کا معاہدہ کیا ہے لیکن ڈرون طیارے کرنے والی کمپنی ان کی طلب کو فوری طور پر پورا نہیں کرسکتی۔ ’وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق جنگی حکمت عملی میں تبدیلی ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کی فوج عسکریت پسندوں کے خلاف نبردآزما ہونے کی اہل نہیں یا یہ جنگ لڑنا نہیں چاہتی۔ حالیہ دنوں میں امریکی فوج نے سی آئی اے کوپری ڈیٹر اور ریپر ڈرونز ادھار دیئے ہیں تاکہ وہ افغان سرحد کے ساتھ پاکستانی علاقے میں عسکریت پسندوں کو ہدف بنا سکیں۔ یہ زائد ڈرونز سی آئی اے کی پاکستان میں حملوں میں تیزی اور شدت میں اضافہ کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔
پاکستان ڈرون حملوں پر اعتراض کم کرے ، امریکی سینیٹر کا مطالبہ
واشنگٹن(اردونیوزمیگزین ) امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چےئرمین کارل لیون نے پاکستان سے دہشت گردوں کیخلاف کارروائی بڑھانے اور ڈرون حملوں پر اعتراض کم کرنے کامطالبہ کیاہے ، انہوں نے ڈرون حملوں پر پاکستان کے ردعمل پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی حکومت کا رویہ دہرا ہے حملوں کے بارے میں عوامی سطح پر اعتراض کیا جاتا اور ملاقاتوں میں اقرار اور درست تسلیم کیا جاتا ہے۔ واشنگٹن میں کونسل آن فارن ریلیشنزسے خطاب کے دوران ان کاکہنا تھا کہ ڈرون حملوں کے ذریعے دہشت گردوں کوہدف بنانے میں نمایاں بہتری آئی ہے، غلطیاں کم ہوئی ہیں اور دہشت گردوں کو زیادہ درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا جارہا ہے۔ پاکستانی وزیرخارجہ نے بھی حالیہ ملاقات میں یہ بات تسلیم کی ہے۔ ڈرون حملوں کیخلاف پاکستانی عوام میں پائے جانیوالے غم وغصے پرکارل لیون کاکہنا تھا کہ امریکی اور نیٹو فورسز پر حملوں کیلئے سرحد پار کرکے افغانستان آنیوالے دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کرنا امریکا کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکام کے ساتھ اصل مسئلہ یہ رہا ہے کہ جب ہم کسی صحیح ہدف کونشانہ بناتے ہیں تووہ عوامی سطح پرتنقیدکرتے ہیں لیکن جب صورتحال واضح ہوتی ہے تونجی ملاقاتوں میں اعتراض نہیں کرتے۔
پاکستان ایٹمی مواد کی تیاری روکنے کے لیے فوری طور پر مذاکرات کرے، اقوام متحدہ کے اعلی ٰ سطح کے اجلاس میں مطالبہ

اقوام متحدہ(یواین ایم )اقوام متحدہ میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پاکستان سے ایٹمی مواد کی تیاری روکنے کے لئے معاہدے پر فوری مذاکرات کا مطالبہ کیا گیا جسے پاکستان نے مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اس سے ایٹمی حریف بھارت کوفائدہ ہوگا۔ پاکستانی موقف پر امریکی نمائندے کا کہنا تھا کہ صرف ایک ملک تخفیف اسلحہ کی سنجیدہ کوششیں جاری رکھنے کی خواہش رد کر رہا ہے جبکہ برطانوی نمائندے نے کہا کہ مذاکرات کا راستہ روکنے سے کثیر الطرفہ آرمز کنٹرول کو نقصان ہو رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق تخفیف جوہری اسلحہ کیلئے اقوام متحدہ میں گزشتہ روز ہونے والے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پاکستان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ فیزل میٹریل کی پیداوار پر پابندی کے لئے معاہدے کی غرض سے فوری مذاکرات شروع کرے جو ایٹمی ہتھیاروں کے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔پاکستان نے اصرار کیا ہے کہ وہ ایسے مذاکرات کا راستہ روکے گا کیونکہ اس پابندی سے اس کے ایٹمی حریف بھارتی کو فائدہ ہوگا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اظہار خیالات کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے لئے مذاکرات پر وسیع اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ صدر اوباما کے خصوصی مشیر امریکی مندوب گرے سمور نے پاکستان کا نام لئے بغیر کہا کہ صرف ایک ملک تخفیف اسلحہ کی سنجیدہ کوششوں کو جاری رکھنے کی خواہش کو رد کر رہا ہے۔ برطانوی جونیئر وزیر خارجہ السٹیئر برٹ نے کہاکہ مذاکرات کا راستہ روکنے سے کثیر الطرفہ آرمز کنٹرول کو نقصان ہو رہا ہے۔ سیکرٹری جنرل بان کی مون نے وارننگ دی کہ مذاکرات کی راہ میں مسلسل رکاوٹ ملکوں کو مسئلے سے نمٹنے کیلئے جنیوا کانفرنس سے باہر لے جائے گی۔ گزشتہ روز اقوام متحدہ کے اجلاس میں مغربی ملکوں نے پاکستان پر کڑی تنقید کی۔پاکستان کے مندوب نے اجلاس میں خطاب نہیں کیا۔اگرچہ اجلاس میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا تاہم بان کی مون نے کہا کہ وہ ایک پینل سے جو مشیروں پر مشتمل ہے مسئلے پر نظرثانی کیلئے کہیں گے واضح رہے کہ مذکورہ تنازع کے باعث جنیوا میں تخفیف اسلحہ کانفرنس تعطل کا شکار ہوگئی تھی اور شرکاء کا کانفرنس سے باہر جانے کا خطرہ ہے۔
غزہ امدادی قافلے پر حملہ: اسرائیلی کمانڈوز قتل میں ملوث ہیں ،اقوام متحدہ
اسرائیلی کمانڈوز قتلِ عمد میں ملوث ہیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہئے۔

نیویارک(اردونیوزمیگزین رپورٹ) غزہ امدادی قافلے پر اسرائیلی حملے کی تحقیقات کرنے والی اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل نے کہا ہے کہ اسرائیلی کمانڈوز قتلِ عمد میں ملوث ہیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہئے۔ اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں31 مئی کو غزہ امدادی قافلے پر اسرئیلی فوج کے حملے کو قتلِ عمدقرار دیا۔ کونسل کا کہنا ہے کہ واقعے میں انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کی گئی اور اسرائیلی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے واضح شواہد موجود ہیں ۔کونسل کے مطابق اسرائیلی فوج اور دیگر اہلکاروں کا قافلے کے ارکان پر تشدد حالات کے لحاظ سے غیر موزوں تھا اور اس میں جس سطح کے تشدد کا مظاہرہ کیا گیا وہ غیر معمولی اور قطعی غیرضروری تھا ۔
اسرائیل نے جنگی جرائم کی درست تفتیش نہیں کی،اقوام متحدہ
نیویارک (یو این ایم )اقوام متحدہ کے خصوصی پینل نے اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے 2008 ء میں غزہ پر اسرائیلی چڑھائی کے دوران مبینہ جنگی جرائم کی مناسب طریقے سے تفتیش نہیں کی ہے۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے تین رکنی پینل کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے اپنی انکوائری میں صرف نچلے درجے کے افسران کے خلاف ہی کارروائی کی جبکہ حماس نے اپنی انکوئری میں اس کے خلاف اقوام متحدہ کی انکوائری میں لگائے گئے الزامات کا نوٹس ہی نہیں لیا۔پینل کے مطابق جسٹس رچرڈ گولڈسٹون کی سربراہی میں کی گئی انکوائری میں حماس کی غزہ میں ہونے والی اس لڑائی کے دوران کارروائیوں کے بارے میں کئی سوالات اٹھائے گئے تھے لیکن حماس نے اپنی انکوائری میں ان پر روشنی ڈالنے یا ان کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی۔اسی طرح مبینہ جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اسرائیل نے اسرائیلی فوج کے اعلی افسروں کی انکوائری نہیں کی۔غزہ پر اسرائیلی چڑھائی دسمبر 2008 میں شروع ہوئی تھی اور بائیس دن تک جاری رہی۔ اس میں 1400 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے اور 13 اسرائیلی مارے گئے تھے۔ پینل کا کہنا ہے کہ صرف فلسطینی انتظامیہ کی طرف سے قائم کی گئی انکوائری بین الاقوامی معیار پر پوری اتری ہے۔گولڈسٹون رپورٹ کی سفارشات کے مطابق اگر غزہ کے خلاف اسرائیل کی کارروائی پر اسرائیل اور حماس مناسب انکوائریاں نہ کر سکے تو اس معاملے کو دی ہیگ کی بین الاقوامی عدالت انصاف منتقل کیا جانا چاہئے۔
ملا عمر کراچی یا کوئٹہ میں ہیں،یہ کوئی انکشاف نہیں ہرشخص یہ بات جانتاہے۔فرانسیسی وزیرخارجہ
.jpg)
پیرس (اردونیوزمیگزین رپورٹ ) فرانسیسی وزیر خارجہ برنارڈ کوشنر نے کہا ہے کہ ہر شخص جانتا ہے کہ ملا عمر پاکستان میں ہیں،کراچی میں نہیں تو کوئٹہ میں ہیں اور یہ کسی کیلئے رازنہیں ہے پاکستان میں طالبان رہنماؤں کو پناہ دی گئی ہے اوریہ کوئی انکشاف کی بات نہیں ہے جبکہ پاکستان نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے تفصیلات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ فرانس کے وزیر خارجہ نے یہ بیان پارلیمنٹ کی خارجہ امورکمیٹی میں دیا۔ الزام عائد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملا عمر نے پاکستان میں پناہ لے رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بالکل حقیقت ہے کہ افغان طالبان کے سربراہ ملا عمر نے پاکستان میں پناہ لی ہوئی ہے اور انہوں نے جس کے پاس پناہ لی ہے اسکے بارے میں بھی سب کو معلوم ہے۔ادھر دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے فرانسیسی وزیر خارجہ کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملا عمر پاکستان میں نہیں افغانستان میں ہے، عبدالباسط نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملا عمر کی موجودگی کے بارے میں کسی کے پاس اطلاعات ہیں تو ہمیں ان سے آگاہ کرے تاکہ ملا عمر کو گرفتار کرنے کیلئے کارروائی کی جا سکے۔
بان کی مون اسلام آباد پہنچ گئے
صدراوروزیراعظم سےملاقات،امدادی کاموں اورسیلاب کی صورتحال کا جائزہ لیا
.jpg)
اسلام آباد…اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کا جائزہ لینے کے لئے پاکستان پہنچ گئے ۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل چکلالہ ائر بیس پہنچے تو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے ان کا استقبال کیا ۔اس موقعے پر بان کی مون نے میڈیا سے بات چیت کا آغاز اسلام علیکم سے کیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لئے پاکستان آ ئے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال میں لائے گی ۔ یو این سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ وہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا خود دورہ کریں گے اور سیلاب کے معاملے کو جنرل اسمبلی میں اٹھائیں گے۔ پاکستان میں قیام کے دوران سیکٹری جنرل بانکی مون صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کریں گے۔ بانکی مون کو سیلاب کی صورت حال اور تباہ کاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔

پاکستان کی افغانستان میں امن کوششیں امریکی خواہشات کے مطابق نہیں، رچڑڈ ہالبروک
لندن /واشنگٹن (اردونیوزمیگزین رپورٹ ) پاکستان اور افغانستان کیلئے امریکہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن فوج کے ساتھ بہت تعاون کررہا ہے لیکن اس کا یہ تعاون اب بھی امریکہ کی توقعات اور خواہشات کے مطابق نہیں ہے،اپنے دورہ برطانیہ کے دوران تقریر کرتے ہوئے انھوں نے پاکستان کی سرزمین پر انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی سمیت مختلف شعبوں میں پیش رفت کا ذکرکیا، اورکہا کہ لیکن افغانستان کا ایک دھڑا حقانی نیٹ ورک اب بھی دردسر بنا ہوا ہے، انھوں نے برطانیہ کے چیف آف ڈیفنس سٹاف ڈیوڈ رچرڈ اور برطانیہ کے قومی سلامتی کے مشیر پیٹر ریکٹس سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر یہ جنگ لامحدود مدت تک جاری رہے گی ۔انھوں نے کہا کہ ہر سطح پر پہلے سے بہت زیادہ تعاون کیا جارہا ہے جس میں دوطرفہ فوجی قونصلرز کی تعیناتی ،اقتصادی تعاون اور افغان سرحد کے قریب انتہا پسندوں کے بعض علاقوں میں پاک فوج کی وسیع تر کارروائی شامل ہے ،لیکن اس کے باوجود میں آپ کو گمراہ نہیں کرنا چاہتا کیونکہ یہ تعاون ابھی تک ہماری خواہشات اور توقعات کے مطابق نہیں ہے ۔انھوں نے کہا کہ افغانستان میں استحکام کیلئے جہاں نیٹو فورسز طالبان کے خلاف کارروائی کررہی ہیں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے ، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان منصوبے کے مطابق 2011 ء میں امریکی فوجوں کی واپسی کے بعد اپنے حریف بھارت کے اثرات کم از کم رکھنے اور اپنے اثر ورسوخ کیلئے حقانی کو صدر حامد کرزئی سے ڈیل کیلئے استعمال کررہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ جلال الدین حقانی اور ان کے بیٹ |