Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

 
ايڈيٹـر: علی جاويد نقوی  
وزیراعظم گیلانی کے ساتھ چودھری شجاعت،اسفندیارولی سمیت وفاقی وزراءبھی سپریم کورٹ میں یش ہوئے پاکستان آنے کافیصلہ موخرنہیں کیا،سابق صدرمشرف لندن،منصوراعجازکوپاکستانی ویزادےدیاگیا، صدرآصف علی زرداری کو استثنی حاصل ہے،اعتزازاحسن وزیراعظم یوسف رضاگیلانی سپریم کورٹ میں پیش،عدلیہ کااحترام کرتے ہیں،وزیراعظم گیلانی حکومت مستعفی ہونئے انتخابات کرائے جائیں،نوازشریف

تازہ ترین خبریں:

 
 
 

 بحرین میں بادشاہت کے خلاف مظاہرے جاری، 2افراد ہلاک



منامہ … بحرین میں بادشاہت کے خلاف مظاہرے جاری،مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی مظاہرین پر آنسوگیس کی شلینگ ، جھڑپ میں دو افراد ہلاک جبکہ 50 سے زائد افراد ہوگئے۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ رات گئے بحرین کے دارالحکومت مناما میں سیکیورٹی فورسز نے مناما اسکوائر پر کمپیوں میں موجود مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس پھینکی ،عینی شاہد نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے کیمپ کے قریب دھماکے کیے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ اپوزیشن پارٹی نے دعوی کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں 2 افراد ہلاک جبکہ 50 سے زائد افرادہو چکے ہیں۔ چارروز سے دارالحکومت منامامیں جاری مظاہرے کے شرکا کا مطالبہ ہے کہ ملک میں بادشاہت کا خاتمہ کیاجائے اور حکومت عوام کو روز گاراور دیگر سہولیتں فراہم کرے۔



مصرمیں احتجاج جاری ،150سے زائد افراد ہلاک،ہزاروں زخمی




قاہرہ(30جنوری 2011) ... مصرمیں مظاہروں کے دوران مرنے والوں کی تعداد سو سے تجاوز کرگئی ۔ احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ جاری ہے جس میں وقت گذرنے کے ساتھ مزید شدت آتی جارہی ہے ۔ مصر میں احتجاجی مظاہروں کا آج چھٹا روز ہے ۔ ہفتے کو پرتشدد واقعات میں مزید 33 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد150 ہو گئی ہے ۔ کرفیو کے باوجود قاہرہ ، سوئز ، اسکندریہ ، بنئی سوئف اور دیگر شہروں میں لوگ سڑکوں پر ہیں ۔ صدر حسنی مبارک کی طرف سے نئی حکومت کی تشکیل اور اصلاحات کے وعدوں کے باوجود حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آرہی ہے ۔ ہزاروں افراد زخمی ہیں جن میں سیکیورٹی اہل کاروں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے ۔ لوٹ مار کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے ۔ مرکزی بینک نے لوٹ مار سے بچنے کے لئے اتوار سے بینکوں میں تعطیل کا اعلان کردیا ہے۔ قاہرہ کا عجائب گھر بھی مشتعل افراد سے محفوظ نہ رہ سکا جہاں سخت سیکیورٹی کے باوجود لوگوں نے دھاوا بولا اورتوڑ پھوڑ کی ۔ لوگوں نے دو ممیوں سمیت نوادرات کو نقصان پہنچایا ۔ لٹیروں نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میوزیم سے کئی نادر نایاب مجسمے لوٹ لئے ۔ عرب ٹی وی کے مطابق ملک میں کئی سرکاری عمارتیں اور تھانے جلائے جاچکے ہیں ۔ جیلوں میں قیدیوں نے بغاوت کردی ہے اور متعدد جیلیں بھی نذر آتش کردی گئیں ۔

مصری پولیس و فورسز کاعوام پر تشددمعمول بن چکا ہے،امریکی سفیر کا مراسلہ


قاہرہ . . . . مصر میں عوامی انقلاب کے بعد وکی لیکس نے قاہرہ سے متعلق مراسلے بھی جاری کرنا شروع کردیے۔ امریکی سفیر پہلے ہی کئی بار واشنگٹن کو آگاہ کرچکے تھے کہ مصری پولیس اور سکیورٹی فورسز کا تشدد آمیز سلوک معمول بن چکا ہے۔ مصر میں حالیہ انقلاب کے دوران پولیس اور سکیورٹی فورسز کے مظاہرین پر تشدد کی تصویر ، قاہرہ اور دیگر مصری شہروں سے امریکی سفارتکار پہلے ہی کھینچ چکے ہیں۔ دو ہزار نو اور اس سے پہلے بھیجے گئے مراسلوں سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی سفارتکاروں نے گاہے بگاہے واشنگٹن میں انتظامیہ کو مطلع کیا کہ مصری پولیس اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے قیدیوں پر تشدد معمول بن چکا ہے۔ عام ملزمان سے لیکر سیاسی قیدیوں اور بعض بدقسمت راہ گیر بھی مصری پولیس اور فورسز کے تشدد کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔ ایک سفارتی تار میں غیر سرکاری تنظیم کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ دارالحکومت قاہرہ کے ایک پولیس اسٹیشن میں روزانہ تشدد کے سو سے زائد واقعات عام ہیں۔خفیہ سفارتی مراسلوں کے مطابق حسنی مبارک کے دور اقتدار کے دوران پولیس میں کبھی اصلاحات کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مصری پولیس کی جانب سے مجرموں کو الیکٹرک شاکس دیے جاتے ہیں۔ مصر میں انسانی حقوق کی خراب صورت حال پر امریکا کے تعلقات بھی اکثر اتار چڑھاوٴ کا شکار رہے۔


مصرمیں حکومت مخالف مظاہرے،بلاگرزکابھی اہم کردار ہے، وکی لیکس


واشنگٹن . . . . وکی لیکس کے جاری کئے گئے خفیہ مراسلے کے مطابق مصر میں سیاسی تبدیلی کے حق میں اٹھنے والی لہر میں حکومت مخالف بلاگرز کا بھی اہم کردار ہے۔تیس مارچ دو ہزار نو کوقاہرہ میں امریکی سفارت خانے کے ناظم الامورMatt Tueller کے بھیجے گئے مراسلے کے مطابق مصر میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار بلاگرز ہیں جو عربی اور انگریزی زبان میں سماجی، سیاسی اوربے شمار موضوعات پر لکھتے ہیں۔ان بلاگرز نے پانچ سال کے دوران ملک کی سیاسی اور سماجی صورتحال پرگہرے اثرات مرتب کرنے کے ساتھ ذرائع ابلاغ کو بھی متاثر کیا۔مراسلے کے مطابق مصری صدر حسنی مبارک کے آمرانہ طرز حکومت،سخت پالیسیوں کی وجہ سے بلاگرز کی سرگرمیاں کافی حد تک محدود ہوگئی تھیں۔تاہم اس کے باوجود کچھ بلاگرز ایسے بھی تھے جو پولیس کی ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف دل کھول کر لکھتے تھے۔مصر کی حکومت نے حکومتی پالیسیوں کے خلاف ایک حد کے اندر لکھنے کی اجازت دی تھی اور اسے پار کرنے کی پاداش میں کئی مشہور اور مقبول بلاگرز کو جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی۔ان بلاگرز کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ان میں سے تیس فی صد کا موضوع حکومتی پالیسیوں پر تنقید رہا۔


ملت ایران نے نرم جنگ میں بھی مثالی مہارت کا ثبوت دیا۔


قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے شمالی صوبے گیلان کے ہزاروں لوگوں کے اجتماع سے خطاب میں ہمت و شجاعت، بصیرت و آگہی اور ہوشیاری و دانشمندی کو بلند چوٹیوں کی جانب قوم کی پیش قدمی کے بنیادی عوامل قرار دیا اور فرمایا کہ ملت ایران نے جس طرح آٹھ سالہ مقدس دفاع کے دوران اپنی خلاقی صلاحیتوں، فداکاری و جاں نثاری اور میدان عمل میں موجودگی کے ذریعے دشمن پرغلبہ حاصل کیا، آٹھ مہینے کی نرم جنگ میں بھی اللہ تعالی کی عنایتوں کے طفیل میں مثالی مہارت اور سمجھداری کا ثبوت دیا اور گزشتہ سال تیس دسمبر کو سید الشہدا امام حسین علیہ السلام کے ذکر کی برکت سے اور اپنی ہمت و شجاعت، بصیرت و آگہی اور ہوشیاری و دانشمندی کے ذریعے آشوب پسند عناصر کی بساط لپیٹ دی۔
تہران میں حسینیہ امام خمینی رحمت اللہ علیہ میں قائد انقلاب اسلامی نے ماضی کی پسماندگیوں کی تلافی اور ملت ایران کو شایان شان علمی مقام تک پہنچانے کے لئے بلند ہمتی، عزم و ارادے اور مستقبل کے تئیں پرامید رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ پیشرفت اور خوشبختی کی بلندیوں پر پہنچنے کے لئے مربوط مساعی، عزم و ارادے اور مستقبل کے تئيں پرامید رہنے کی ضرورت ہے اور ملت ایران گزشتہ تیس برسوں میں ثابت کر چکی ہے کہ اس میں تیز رفتار ترقی کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے۔
آپ نے فرمایا کہ ملت ایران کے نعرے عالمی نعرے اور اس کا نصب العین ملک کو سامراجی طاقتوں کی دست برد سے مکمل طور پر محفوظ بنانا ہے۔ قائد انقلاب اسلامی کے مطابق اس قوم سے سامراجی طاقتوں کی برہمی اور اس قوم کے خلاف ان کی سازشوں کی یہی وجہ ہے اور گزشتہ سال رونما ہونے والا فتنہ دشمنوں کی سازشوں کا ایک نمونہ تھا۔
قائد انقلاب اسلامی نے اس فتنے کا مقصد صحیح نعروں کے پیرائے میں انحرافی باتوں کی تشہیر کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنا قرار دیا۔ آپ نے فرمایا کہ ملت ایران نے گزشتہ سال تیس دسمبر کو برجستہ طور پر سامنے آنے والے اپنے رد عمل کے ذریعے فتنہ پروروں کو شکست دے دی اور ان کے منہ پر زوردار طمانچہ بھی رسید کیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے تیس دسمبر دو ہزار نو کو اسلامی نظام کی حمایت اور فتنہ پرور عناصر کی مذمت میں نکلنے والے ملک گیر جلوسوں کو قوم کی بیداری و شعور کا شاخسانہ قرار دیا اور فرمایا کہ ملت ایران کے دشمن اور وہ لوگ جو اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ عوام کو اسلامی نظام سے دور کر سکتے ہیں، تیس دسمبر کے قوم کے پیغام کو ذہن نشین کر لیں اور یاد رکھیں کہ یہ نظام خود عوام کا ہے اور عوام ہی اس اسلامی نظام کے اصلی محافظ ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ استکباری حکومتوں اور ان میں سرفہرست امریکی حکومت نے اسلامی نظام کے خلاف سازشوں، گمراہ کن بیانوں، آشکارا مخاصمتوں اور نعروں کا سہارا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی بھی انہیں ملت ایران کی صحیح شناخت حاصل نہیں ہو سکی ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے قوم کے اندر پائی جانے والی بلند ہمتی کی حفاظت کی ضرورت پر زور دیا اور فرمایا کہ رواں سال میں جسے بلند ہمتی کے سال سے موسوم کیا گيا ہے، بلند ہمتی کے آثار اور علامات کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے اور حکام مختلف محکموں میں بڑے اچھے کام انجام دے رہے ہیں لیکن بلند ہمتی کا یہ سلسلہ آئندہ برسوں میں بھی بلا وقفہ جاری رہنا چاہئے تاکہ ملت ایران مادی و روحانی کمالات اور ترقی کی چوٹی پر پہنچ کر دشمن کو مایوس کر دے۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای کے مطابق دشمن کی شرپسندی سے نجات کا واحد راستہ یہ ہے کہ اسے مایوس کر دیا جائے۔ آپ نے فرمایا کہ گزشتہ سال کے فتنے کے دوران بعض افراد سے ایک بہت بڑی غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے دشمنوں کو پرامید کر دیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے گزشتہ سال کے صدارتی انتخابات کے شاندار انعقاد اور عوام کی حیرت انگیز شرکت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ عوام کی یہ پرشکوہ شراکت ملک کو مختلف سیاسی میدانوں میں کامیابیاں دلا سکتی تھی لیکن فتنہ پرور عناصر نے بلوے کرواکے اور دشمن کی امیدیں بڑھا کر فی الواقع قوم اور اسلامی انقلاب کو نقصان پہنچایا۔ آپ نے سن دو ہزار نو کے فتنے کو ایک بہت بڑا چیلنج قرار دیا اور فرمایا کہ اس بڑے چیلنج میں ایک طرف دشمن تھا جو بلوائیوں کی پوری مدد کر رہا تھا لیکن اپنی زبان پر ان کا نام تک نہیں لاتا تھا اور دوری طرف ایرانی قوم ثابت قدمی کے ساتھ میدان میں ڈٹی ہوئی تھی۔
قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ملت ایران نے جس طرح آٹھ سالہ مقدس دفاع کے دوران شجاعت و ہمت، ایثار و جاں نثاری اور خلاقی صلاحیتوں کے ساتھ میدان میں قدم رکھا اور دشمن کو شکست دی، آٹھ مہینے کی نرم جنگ میں بھی ہمت و شجاعت، بصیرت و آگہی اور ہوشیاری و داشمندی کے ساتھ میدان میں قدم رکھے اور واقعی اپنی مہارت کے جوہر دکھائے۔ آپ نے فرمایا کہ جو کچھ ہوا وہ در حقیقت قدرت خدا کا کرشمہ تھا کہ جس نے لوگوں کے دلوں کو اپنی سمت موڑا اور صحیح راستے کی ہدایت کی۔
قائد انقلاب اسلامی نے ہمت و شجاعت، بصیرت و دانشمندی کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی سے رابطے کی تقویت پر تاکید فرمائي اور کہا کہ گزشتہ سال تیس دسمبر کا واقعہ رحمت خداوندی کے نزول کا ایک منظر تھا کہ لوگ سید الشہدا امام حسین علیہ السلام کے ذکر کے ساتھ میدان میں آئے اور فتنہ پرور عناصر کی بساط لپیٹ دی گئی۔ قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ پوری قوم اور خاص طور پر حکام، باخبر طبقوں اور بیدار مغز نوجوانوں کی ذمہ داریاں زیادہ ہیں، ہمیشہ اللہ تعالی کے لطف و کرم پر تکیہ کرنا چاہئے اور اس منزل تک پہنچنے کی کوشش کرنا چاہئے جو اللہ تعالی نے ملت ایران کی قسمت میں لکھ دی ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں گيلان کے عوام کی دینداری اور شجاعانہ جہاد کی طویل تاریخ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس علاقے کے تمام لوگوں کو ملت ایران کی شجاعت و ہمت کا نمونہ قرار دیا اور فرمایا کہ (شاہ کی) طاغوتی حکومت نے گيلان کے عوام کو بے دینی میں مبتلا کرنے کی بڑے پیمانے پر کوششیں کیں لیکن یہاں کے لوگ اپنے ایمان و عقیدے کی طاقت سے شجاعانہ انداز میں شاہی اقدامات کے مقابل کھڑے ہو گئے کیونکہ گيلان کے عوام دینداری، اخلاص، جہاد اور میدان عمل میں حاضر رہنے کے لحاظ سے ملک کے سب سے نمایاں صوبوں کے باشندوں میں گنے جاتے ہیںـ
قائد انقلاب اسلامی نے گیلان کے عوام کے درخشاں ماضی پر روشنی ڈالتے ہوئے شہید مرزا کوچک خان جنگی کی مجاہدانہ کوششوں کی قدردانی کی اور فرمایا کہ دین کے دشمن ملحد عناصر سے مقابلہ، اسلامی انقلاب کی فتح میں موثر کردار، مقدس دفاع کے دوران اس صوبے کے مومن و رضاکار نوجوانوں کا ایثار، گیلان کے علماء اور دانشوروں کی گراں قدر خدمات اس صوبے کے عوام کی دینی، علمی اور انقلابی تاریخ کا ابواب ہیں۔
قائد انقلاب اسلامی نے گزشتہ سال کے فتنے کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں صوبے کے صدر مقام رشت کے عوام کے قابل تعریف کردار کا ذکر کیا اور اسے اہل گيلان کے شعور و بیداری کا ایک اور ثبوت قرار دیا۔ آپ نے فرمایا کہ رشت کے عوام نے ملک گير مظاہروں سے ایک دن پہلے ہی انتیس دسمبر کو فتنہ پرور عناصر کی مخالفت کا اعلان کر دیا۔
اس ملاقات کے آغاز میں صوبہ گيلان میں ولی امر مسلمین آيت اللہ العظمی خامنہ ای کے نمائندے اور رشت کے امام جمعہ حجت الاسلام و المسلمین قربانی نے اہل بیت پیغمبر علیہم السلام سے گیلان کے عوام کی گہری عقیدت کی مثالیں پیش کیں اور اس علاقے میں پیدا ہونے والے جید علمائے کرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گيلان کے با ایمان عوام سامراج اور استبداد کے خلاف جنگ میں پیش پیش رہے ہیں جس کی واضح مثال مرزا کوچک خان جنگلی کی تحریک ہے، اس کے علاوہ بھی صوبہ گيلان کے عوام نے آٹھ سالہ مقدس دفاع کے دوران اسلامی انقلاب کے لئے ہزاروں شہیدوں کی قربانی پیش کی۔

 


امیر قطرکی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای  سے ملاقات، علاقے کی سیکورٹی اور شیعہ-سنی اتحاد پرزور 

   

(اردونیوزمیگزین رپورٹ)

تہران کے دورے پر آئے امیر قطر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی نے اپنے وفد کے ساتھ آج قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔
اس ملاقات میں قائد انقلاب اسلامی نے علاقے بالخصوص خلیج فارس میں سیکورٹی کی خاص اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ خلیج فارس کے علاقے میں سیکورٹی کے سلسلے میں کسی طرح کا امتیاز اور تفریق ممکن نہیں ہے کیونکہ اگر علاقے میں امن و استحکام ہوگا تو علاقے کے تمام ممالک کو اس کا فائدہ پہنچے گا اور اگر سیکورٹی کے لئے مسائل پیدا ہوئے تو علاقے کے تمام ممالک کو بد امنی اور نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قائد انقلاب اسلامی نے ایران اور قطر کے باہمی تعلقات کو اطمینان بخش قرار دیا اور فرمایا کہ دو طرفہ تعلقات کو روز بروز فروغ دینا چاہئے کیونکہ اس سے دونوں ملکوں اور علاقے کو فا‍ئدہ پہنچے گا۔
قائد انقلاب اسلامی نے علاقے کے بعض ممالک کے بارے میں شکوہ بھی کیا جو خلیج فارس کے علاقے میں امن و استحکام کی حیاتی اہمیت کی جانب متوجہ نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ افسوس کا مقام ہے کہ امریکا اور اسرائیل ان ملکوں کی اس ذہنیت و طر‌ز فکر اور علاقے میں سیکورٹی کی اہمیت سے ان کی غفلت کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ نے علاقے میں شیعہ سنی اتحاد کو انتہائی اہم قرار دیا اور فرمایا کہ علاقے میں شیعہ اور سنی فرقے مدتوں سے ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ زندگی بسر کرتے آ رہے ہیں لیکن بعض عناصر دوستی اور محبت کی اس فضا کو ختم کرنا اور شیعہ اور سنی فرقے کے عقائد سے متعلق بعض اختلافات کو سماجی اختلاف میں تبدیل کر دینا چاہتے ہیں۔ قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ بد قسمتی سے دونوں فرقوں میں کچھ متعصب قسم کے افراد اور بکے ہوئے لوگ ہیں لہذا اس مسئلے کو اعتقادی لحاظ سے بھی اور سیکورٹی کے اعتبار سے بھی پوری طرح کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نے لبنان کے نازک حالات اور رفیق حریری قتل کیس کی عالمی عدالت کا فیصلہ جاری ہونے کے امکانات سے متعلق قطر کے حاکم کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ عدالت ایک نمائشی عدالت ہے جس کا ہر فیصلہ ناقابل قبول ہے لہذا ہم امید کرتے ہیں کہ لبنان میں بااثر اور متعلقہ حلقے عقل و بینش اور حکمت و تدبر کی روشنی میں عمل کریں گے تاکہ یہ مسئلہ بحران کی شکل اختیار نہ کرے۔
آپ نے فرمایا کہ لبنان کے خلاف رچی جانے والی سازش کامیاب نہیں ہو سکے گی اور ہم امید کرتے ہیں کہ علاقے کے حالات میں بہتری آئے گی۔
ملاقات میں پروٹوکول کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد بھی تشریف فرما تھے۔ اس موقع پر قطر کے حاکم شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی نے ایران-قطر باہمی تعلقات کو علاقے کے لئے آئيڈیل قرار دیا اور کہا کہ دونوں ملکوں کا سیاسی موقف ایک دوسرے کے قریب رہا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ تمام شعبوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید وسعت آئے گی۔ انہوں نے بھی علاقے کے امن و استحکام اور شیعہ سنی اتحاد کو دو انتہائی اہم موضوعات سے تعبیر کیا اور لبنان کے حالات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ لبنان میں ایک نیا فتنہ کھڑا کرنا چاہتے ہیں اور ہماری یہ کوشش ہے کہ علاقے کے ملکوں کی مدد سے اس فتنے کا سد باب کریں اور علاقے کے مفادات کے مطابق قدم اٹھائیں۔ 
 
 


ادارہ حج و زیارات کے عہدہ داروں اور اہلکاروں سے خطاب 

  
06-12-2010 
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ادارہ حج و زیارات کے عہدہ داروں اور اہلکاروں سے ملاقات میں اس سال حج کے مناسک کی بحسن و خوبی انجام دہی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ سابقہ افراد کی زحمتوں کی قدر کرتے ہوئے اس سال موسم حج میں کئے جانے والے مفید و موثر اقدامات اور انتظامات کو دائمی بنایا جانا چاہئے۔ قائد انقلاب اسلامی نے ایرانی کاروان حج کے منتظمین کی سعی و کوشش اور زحمات پر اظہار تشکر کرتے ہوئے فرمایا کہ مفید اور مثبت اقدامات پر توجہ دینے کے ساتھ ہی نقائص سے بھی غفلت نہیں برتنا چاہئے تاکہ رفتہ رفتہ حج کی "مثالی انجام دہی" کی منزل کے قریب پہنچا جا سکے۔
قائد انقلاب اسلامی نے اسلامی اتحاد کی اہمیت اور شیعہ سنی اختلافات میں کمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی انقلاب کے رہنما انقلاب کی فتح سے قبل ہی عالم اسلام کے اتحاد کا پرچم بلند کر چکے تھے۔
قائد انقلاب اسلامی نے کاروان حج کے منتظمین اور حجاج کرام کے درمیان رابطے کو اہم اور اس کے تسلسل کو ضروری قرار دیا اور فرمایا کہ لوگ مکہ و مدینہ میں مقامات مقدسہ کی عظمت و جلالت، صفا و روحانی کیفیت کو دیکھ کر اپنے اندر بہت بڑی تبدیلی محسوس کرتے ہیں، اس عظیم نعمت کی حفاظت بہت اہم ہے اور یہ ہدف حاجی سے دائمی رابطے اور اس جذبے کی ترویج سے ہی ممکن ہے۔ آپ نے مسجد الحرام میں ایرانی قاریوں کی تلاوت کلام پاک کو اسلامی مملکت ایران کے لئے باعث افتخار قرار دیا اور فرمایا کہ حالیہ برسوں میں حج کے ایام میں قرآن اور اس کی تلاوت پر قابل قدر توجہ دی گئي ہے اور مناسب ہوگا کہ قومی میڈیا مقامات مقدسہ کی تصاویر نشر کرنے کے ساتھ ہی اپنے پروگراموں میں ان (ایرانی قاریوں کی) تلاوتوں کو بھی نشر کرے۔
قائد انقلاب اسلامی نے شام اور عراق جانے والے زائرین کے سلسلے میں بھی فرمایا کہ زائرین کے لئے مناسب رہائش اور سرحدوں پر آمد و رفت کی سہولت پر توجہ دی جانی چاہئے۔
اس ملاقات کے آغاز میں ایرانی حجاج کرام کے کارواں کے سرپرست اور قائد انقلاب اسلامی کے نمائندے حجت الاسلام و المسلمین قاضی عسکر نے کہا کہ اس سال حج کا نعرہ تھا " اتحاد، بیداری، اسلامی فرض شناسی"۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال تمام متعلقہ اداروں کے تعاون اور ہمدلی سے حج کے روحانی اعمال ماضی سے زیادہ بہتر اور پرسکون انداز میں انجام پائے۔
انہوں نے اس سال مدینہ منورہ میں منعقد ہونے والے دعائے کمیل کے پروگرام اور حج کے دوران میدان عرفات میں مشرکین سے اعلان برائت کے پروگرام اور بین الاقوامی اجلاسوں کے انعقاد کو نہایت باشکوہ قرار دیا اور کہا کہ اس سال ایک مخصوص کمیشن کی تشکیل کے ذریعے پاکستان کے سیلاب زدہ افراد کی امداد کو خاص ترجیح دی گئی۔ ادارہ حج و زیارات کے سربراہ جناب لیالی نے بھی حج کی انجام دہی سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کی اور کہا کہ متعلقہ اداروں کا قریبی تعاون اور اسراف سے اجتناب اس سال حج کی اہم خصوصیات تھیں۔
انہوں نے حجاج کرام کی واپسی کی پروازوں میں تاخیر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں کے شیڈول میں بدنظمی حجاج کرام منجملہ ایرانی حجاج کی واپسی کی پروازوں میں تاخیر کا سبب تھی۔ 

 


عید غدیر اور ہفتہ "بسیج" کی مناسبت سے قائد انقلاب کا خطاب


25-11-2010
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے عید غدیر خم کے مبارک و مسعود موقعے اور رضاکار تنظیم (بسیج) کی تشکیل کی تاریخ "چھبیس نومبر" کی مناسبت سے ایک لاکھ دس ہزار رضاکاروں کے اجتماع میں غدیر کے عظیم واقعے کا حقیقی مضمون طول تاریخ میں انسانی معاشروں کے لئے سعادت بخش اور عادلانہ رہبری و امامت کی جلوہ افروزی قرار دیا اور بسیج کی درخشاں کارکاردگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ رضاکار بنے رہنا اور اخلاص و بصیرت و استقامت کے جذبے کی تقویت ایران کی با ایمان قوم کی آخری فتح کے سلسلے میں کبھی نہ بدلنے والے وعدہ الہی کی تکمیل کا راز ہے۔ آپ نے تمام ملت ایران اور انصاف و حریت کے دلدادہ افراد کو عید غدیر کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ غدیر کا ما حصل اور اس کی حقیقت کا تعلق تمام مسلمانوں اور ان تمام افراد سے ہے جو انسانیت کی فلاح و بہبود کے متمنی ہیں۔ قائد انقلاب اسلامی نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی خلافت کے سلسلے میں شیعہ فرقے کی محکم عقیدے کو یقینی اور ناقابل انکار دلائل پر مبنی و استوار قرار دیا اور غدیر کی متواتر حدیث کی جانب اشارہ کرتے ہوئے جسے تمام بڑے محدثین نے نقل کیا ہے، فرمایا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی "ولایت" میں جو مفہوم مراد لیا گيا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو حکم دیکر امیر المومنین علیہ السلام کو (عہدہ خلافت پر) خدا کی جانب سے منصوب کئے جانے کی بنا پر حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں بھی وہی مفہوم اخذ کیا گيا ہے۔ آپ نے حضرت امیر المومنین علیہ السلام کو نوجوانی سمیت زندگی کے تمام مراحل میں تقوا، شجاعت، استقامت، بصیرت اور اسلام و پیغمبر اسلام کی حفاظت کے میدانوں میں بے مثل درخشاں ستارہ قرار دیا اور فرمایا کہ تمام انسانوں اور بالخصوص نوجوانوں کو چاہئے کہ مولائے متقیان کی باعظمت زندگی کے ایک ایک لمحے سے ہدایت و سعادت کا نور حاصل کریں۔ قائد انقلاب اسلامی نے اللہ تعالی کی جانب سے پیغمبر اسلام کے جانشین کے تعین اور امامت کے مسئلے پر خاص توجہ دئے جانے کو واقعہ غدیر کے دو بنیادی پہلو قرار دیا اور امامت کے مفہوم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ امامت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی فرد یا جماعت انسانوں اور معاشرے کی پیشوائی اپنے ہاتھ میں لے اور دین و دنیا کے امور میں آگے بڑھنے کی سمت کا تعین کرے چنانچہ اس مفہوم کے مد نظر طول تاریخ میں امامت تمام انسانی معاشروں کے لئے اصلی اور بنیادی موضوع رہی ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نے قرآن کریم کی آیتوں کی روشنی میں امامت کو دو الگ الگ قسموں میں تقسیم کیا اور فرمایا کہ امامت و پیشوائی کی ایک قسم جس کے کامل اور حقیقی مصداق انبیائے الہی ہیں عادل اماموں پر مبنی ہے جو اللہ تعالی کے حکم کے مطابق اور اسی کی رہنمائی کے سائے میں لوگوں کو انسانیت کی مطلوبہ منزل کی جانب لے جاتے ہیں جبکہ امامت کی دوسری قسم کا حقیقی مصداق فرعون ہے جو عوام کو فسق و فجور، آتش جہنم اور ہلاکت و نابودی کی جانب لے جاتا ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نے امامت کے مفہوم کی عمومیت کے بارے میں فرمایا کہ دنیا کے الحادی ترین نظاموں میں بھی جہاں سیاست کے مراکز کو دینی اور معنوی مراکز سے الگ رکھنے کے بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں، لوگوں کا دین اور آخرت دونوں بر سر اقتدار حاکموں کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں اور حاکموں کے افکار و نظریات معاشرے کی دینی اور دنیاوی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ آپ نے اسی بحث کو جاری رکھتے ہوئے مغرب کے بڑے ثقافتی مراکز اور عالمی استبدادی طاقتوں کو ایسے رہنماؤں اور پیشواؤں میں قرار دیا جو فرعون کی طرح لوگوں کو فسق و فجور اور تباہی و بربادی کی جانب کھینچتے ہیں۔
قائد انقلاب اسلامی نے حکومت اور معاشرے کی تشکیل کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فیصلے کو اس حقیقت کی دلیل قرار دیا کہ اسلام صرف زبانی نصیحت اور دعوت تک محدود نہیں ہے بلکہ معاشرے میں الہی احکامات کو نافذ کرنے پر زور دیتا ہے اور یہ نورانی ہدف عادلانہ اور منصفانہ حکومت کی تشکیل کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ قائد انقلاب اسلامی نے واقعہ غدیر میں اللہ تعالی کے فرمان سے پیغمبر اسلام کے جانشین کے تعین کو اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا اور فرمایا کہ اگرچہ تاریخ اسلام کسی اور راہ پر چل نکلی لیکن تاریخ میں یہ سعادت بخش نظریہ اور معیار باقی رہا یہاں تک کہ امام خمینی اور ملت ایران کے جذبہ ایمانی اور استقامت و پائیداری کے نتیجے میں دنیا کے اس خطے میں اسے رو بہ عمل لایا گيا اور بفضل پروردگار عالم اسلام میں روز بروز اس کا پھیلاؤ بڑھتا جائے گا۔ قائد انقلاب اسلامی نے ایک لاکھ دس ہزار بسیجیوں کے عظیم اجتماع کو ملک بھر میں بسیج کے معطر گلستاں کی ایک جھلک قرار دیا اور فرمایا کہ ہمارے عظیم الشان امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) نے اپنی بصیرت اور دور اندیشی کی بنیاد پر اس گلستان کو وجود بخشا اور اپنے کردار و بیانات سے اس کی اس انداز سے آبیاری کی کہ وہ روز بروز زیادہ شاداب اور بارآور بنتا جا رہا ہے۔ آپ نے بسیج کو درخشاں، عظیم اور بے مثال تنظیم سے تعبیر کیا اور بسیج میں زن و مرد اور پیر و جواں سب کی موجودگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تمام ایرانی قومیتوں کی موجودگی، طلبہ، اساتذہ، علماء، محنت کش طبقے، کاشتکاروں، تاجروں اور دیگر سماجی، علمی اور اقتصادی اصناف کی بسیج میں شراکت کو اس عظیم اور لا ثانی تنظیم کی ہمہ گیری کی علامت قرار دیا۔ آپ نے ملت ایران کے دشمنوں اور ملک کے اندر ان کے نقش قدم پر چلنے والے عناصر کی جانب سے بسیج کی توہین کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ کلام اللہ اور نبی اکرم کے سلسلے میں بھی یہی حرکتیں کرتے ہیں لیکن ان گستاخانہ اقدامات سے بسیج کی فطری عظمت و درخشندگی میں کوئی کمی ہونے والی نہیں ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نے بسیج کو ایک منظم تنظیم قرار دیا اور اس کی ایمانی و روحانی خصوصیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تعداد کے لحاظ سے بھی دنیا کی کوئی تنظیم بسیج کا مقابلہ نہیں کر سکتی لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ بسیج عقائد، ایمان اور جذبات پر استوار ہے اور یہی حقیقت آنے والے دنوں میں ملک و قوم کی مشکلات اور دشواریوں کو حل کرے گی۔
قائد انقلاب اسلامی نے بسیج کی قدردانی کو سب کا فریضہ قرار دیا اور فرمایا کہ سب سے پہلے مرحلے میں بسیجیوں کو چاہئے کہ اس تنظیم میں اپنی رکنیت پر اللہ کا شکر ادا کریں اور اس شکر کا تقاضہ یہ ہے کہ بسیجیوں کی فکر و عمل میں بسیج کی بنیادیں زیادہ سے زیادہ مضبوط ہوں۔ قائد انقلاب اسلامی نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں موجودگی اور شراکت کو بسیج کی اہمیت کی ایک اور وجہ قرار دیا اور فرمایا کہ بسیج (رضاکارتنظیم) نے ویسے تو دفاعی شعبے میں اپنے فن کا زبردست مظاہرہ کیا لیکن وہ اپنے اخلاص، ایمان، شجاعت اور خلاقیت کی بنا پر ہر میدان میں پیش پیش رہے گی۔ چنانچہ آج بسیجی اساتذہ اور طلبہ علم و دانش کے میدانوں میں سب سے زیادہ کامیاب افراد میں نظر آتے ہیں اور بسیجی فنکار بھی درخشاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ قائد انقلاب اسلامی نے اخلاص اور بصیرت کو بسیج کی بنیادی صفات قرار دیا اور فرمایا کہ یہ دونوں فیصلہ کن عناصر ایک دوسرے کے لئے ممد و معاون ہیں، چنانچہ انسان کی بصیرت جتنی بڑھے گی اس کا اخلاص بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا اور انسان کے اندر جتنا خلوص ہوگا اللہ اس کی بصیرت میں اتنا ہی اضافہ کر دے گا۔ قائد انقلاب اسلامی نے نفس کی خواہشات کو بصیرت کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار د یا اور سن دو ہزار نو کے منصوبہ بند فتنوں کے دوران بعض افراد کی کارکردگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان واقعات کے دوران بعض آشوب پسندوں نے اقتدار حاصل کرنے کے لئے ملک کے مفادات کو بھی نظر انداز کر دیا اور راہ حق کی تابناک سچائی سے منہ پھیر لیا۔ یہاں تک کہ ان کے ان اقدامات سے ملت ایران کے سب سے بڑے دشمن وجد میں آ گئے اور ان کی حمایت کرنے لگے لیکن کچھ لوگ اس حقیقت کو نہیں دیکھ سکے اور آج بھی نہیں دیکھ پا رہے ہیں جبکہ بعض افراد ان حقائق کو سجمھتے ہوئے بھی دل کے سیاہ ہو جانے کے باعث اپنے اس ادراک کے مطابق عمل کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
قائد انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں بسیج کی رکنیت کو ایک مبارک و مسعود بات قرار دیا اور فرمایا کہ بسیجی بنے رہنا اور راستے پر ثابت قدمی کے ساتھ چلنا زیادہ اہم ہے اور بسیجی بنے رہنے کے لئے دائمی احتیاط اور تقوے کی ضرورت ہے۔ قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایران کی پیش پیش رہنے والی قوم کے عظیم انقلاب کو مادیت میں غرق دنیا کے جہنمی راستے کو تبدیل کر دینے کی کوشش سے تعبیر کیا اور فرمایا کہ دنیا کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ ملت ایران کے سعادت بخش انقلاب کی حقیقت سے واقف ہو چکا ہے لیکن دنیا کی بڑی طاقتیں ملت ایران کے حیات بخش پیغام کے مقابلے میں صف آرا ہو گئی ہیں۔ قائد انقلاب اسلامی نے اللہ تعالی کے حتمی وعدے کی تکمیل اور ملت ایران کی فتح و کامرانی کو اسلامی انقلاب سے استبدادی و استکباری محاذ کے ٹکراؤ کا آخری نتیجہ قرار دیا اور فرمایا کہ اس تابناک مستقبل تک دسترسی حاصل ہونے تک دشمنوں کی جانب سے ملت کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہیں گی بنابریں اپنی تیاری مکمل رکھنا ضروری ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نے عصری ضروریات کے مطابق قومی آمادگی کی بار بار تجدید، بصیرت و اخلاص کی تقویت اور بسیجی تقاضوں پر مسلسل عمل کو ملت ایران کی کامیابی کا راز قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ ملک کی موجودہ نوجوان نسل اس دن کا مشاہدہ کرے گی جب ملت ایران دنیوی اور اخروی سعادت کی بلند چوٹی پر کھڑی ہوگی اور دنیا کی دیگر قومیں ملت ایران کے اس پرافتخار مقام و مرتبے کی جانب بڑھنے کی کوشش کر رہی ہوں گی۔
آج ایک لاکھ دس ہزار بسیجیوں کے اجتماع میں جب قائد انقلاب اسلامی کی تشریف آوری ہوئی تو کچھ بسیجیوں نے مختلف قومیتوں کی نمائندگی کرتے ہوئے آپ کا خیر مقدم کیا۔ تقریب کے آغاز میں پاسداران انقلاب فورس کے کمانڈر جنرل جعفری نے بھی عید غدیر کی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ "بسیج" کا شجرہ طیبہ جو ملک کے قومی اقتدار کا ایک ستون سمجھا جاتا ہے اس کوشش میں ہے کہ اپنے مشن کے اصلی معیاروں یعنی بصیرت و اخلاص اور بر وقت اور مناسب اقدام کو واضح رکھتے ہوئے اپنی اندرونی صلاحیتوں کی تقویت کرے اور انقلاب کی حفاظت و پاسداری کی راہ میں اپنے روحانی پہلو اور بسیجیوں کی شخصی اور علمی کامیابیوں میں اضافہ کرے۔
بسیج کے ایک شعبے "بسیج مستضعفین" کے سربراہ جنرل نقدی نے ہفتہ بسیج اور عید غدیر کی ایک ساتھ آمد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بسیجیوں نے تعمیر و ترقی، علم و دانش اور نرم جنگ سمیت ہر شعبے میں اپنی کارکردگی میں اضافہ کیا ہے اور آج کے دن ملک کے چار سو شہروں میں منعقد ہونے والے بسیج کے اجتماعات میں ولی امر مسلمین سے عہد و پیمان کا احیاء کیا جا رہا ہے۔
آج کے اجتماع میں تمام بسیجیوں کی جانب سے بسیج کا عہد نامہ پڑھا گیا۔

 


قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کا قم کے مختلف شعبوں کے حکام اور عہدے داروں کے اجلاس سے خطاب

قم(اردونیوزمگیزین رپورٹ) قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج صبح صوبہ قم کے مختلف شعبوں کے حکام اور عہدہ داروں کے اجلاس سے خطاب میں عوام کی خدمت کو ایک توفیق قرار دیا اور فرمایا کہ اگر یہ خدمت قم کے عوام کی مانند باایمان، مجاہد، سماجی اقدامات کے لئے جوش و جذبے سے سرشار اور امتحانوں میں پورے اترنے والے لوگوں کے لئے ہو تو یقینا اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔

اس لئے حکام کو چاہئے کہ قم کے عوام کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے اور ان کی مشکلات کو رفع کرنے کے لئے جی جان سے کوشش کریں۔

اجلاس میں نائب صدر، کابینہ کے ارکان اور پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی میں قم کے نمائندے بھی موجود تھے۔

قائد انقلاب اسلامی نے شاہ کی استبدادی حکومت میں قم کے عوام پر ان کی دینداری، علماء سے گہرے رابطے، دینی علوم کے مرکز کی موجودگی اور علماء اور عوام کی مزاحمت و استقامت کی تاریخ کی وجہ سے خاص طور پر ڈھائے جانے والے مظالم کا حوالہ دیا اور فرمایا کہ اسلامی انقلاب کی فتح کے بعد شہر قم پر خاص توجہ دی گئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں قم کی تعمیر و ترقی کے لئے زیادہ تیز رفتاری سے کام ہوا ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے اس عمل کے اسی رفتار سے جاری رہنے کی ضرورت پر زور دیا اور فرمایا کہ اگر قم کی تعمیر و ترقی کا کام اسی رفتار سے جاری رہا تو اس صوبے کو طولانی پسماندگی سے نجات مل جانے کی قوی امید ہے۔

آپ نے قم کی خدمت کو پورے ملک کی خدمت قرار دیا اور فرمایا کہ مقدس شہر قم اسلامی جمہوریہ ایران کی آبرو ہے کیونکہ یہ شہر انقلاب اور علماء کی صنف کا مرکز اور دینی علوم اور ممتاز علمی و دینی شخصیات کا گہوارا ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے حالیہ دنوں کے دوران قم کے خلاف اغیار سے وابستہ ذرائع ابلاغ کے زہریلے پرچار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اسے شہر قم کی اہمیت کی علامت قرار دیا اور فرمایا کہ گزشتہ تیس برسوں کے دوران اسلامی نظام کے مخالفین کی تشہیراتی مہم کا ایک منصوبہ انقلاب اور اسلام کا مظہر سمجھی جانے والی چیزوں خاص طور پر شہر قم کی تحقیر اور تنقیص کرنے کی کوشش رہی ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ دشمن، قم کو عظمت اسلام کا مرکز اور پرچم انقلاب کا ستون مانتے ہوئے اس کے خلاف ہمیشہ خاص سازشوں پر کاربند رہا ہے اور اسی ضمن میں اس نے قم میں اسلامی انقلاب کی مخالفت کا اڈہ قائم کرنے کی کوشش کی۔

آپ نے فرمایا کہ اس سازش اور منصوبہ بندی کے تحت قم کے عوام کے جذبات اور افکار و نظریات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس سازش کے سد باب کا واحد راستہ قم کے عوام کی خدمت کے لئے پہلے سے زیادہ محنت اور عوام کی زندگی کی مشکلات کو برطرف کرنا ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اہل قم نے حال کے دنوں میں اپنے زوردار تعاون سے دشمن کی سازشوں اور پروپیگنڈے کا پوری سنجیدگی سے جواب دیا ہے اور اپنے دلوں میں پنہاں ایمان کی طاقت اور اپنی بیداری کا لوہا منوایا ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے حکومتی وسائل کے محدود ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ قم کے عوام کی مشکلات کے حل کے لئے ان کی درجہ بندی اور ترجیحات کا تعین ہونا چاہئے اور پھر اس پر سنجیدگی سے کام انجام دیا جانا چاہئے۔ آپ نے شہر قم میں آج منعقد ہونے والے کابینہ کے اجلاس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کابینہ کے صوبائی دوروں میں منظور ہونے والے سارے بل اسی طرح آج کے اجلاس میں کئے گئے فیصلے پر پوری توجہ اور باریک بینی کے ساتھ عمل کیا جائے۔

قائد انقلاب اسلامی نے پینے کے میٹھے پانی، محروم علاقوں، صحت عامہ اور طبی وسائل، دستکاری کی صنعت، زراعت کے لئے آبپاشی کے پانی اور صنعت کو قم کے بنیادی امور قرار دیا اور فرمایا کہ گزشتہ برسوں میں اور نویں اور دسویں حکومت کے دور میں گزشتہ حکومتوں کی نسبت کئی گنا زیادہ کام انجام دیا گیا ہے لیکن ملت ایران پر طویل عرصے سے مسلط شدہ پسماندگی کی تلافی کے لئے تمام شعبوں میں مربوط اور تیز رفتار پیش قدمی کی ضرورت ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے تمام حکام اور عہدہ داروں کو عوام سے خندہ روئی سے پیش آنے کی سفارش کی اور فرمایا کہ عوام الناس سے محبت اور خندہ روئی سے پیش آنا حکام کا سب سے بڑا فریضہ ہے۔

آپ نے زور دیکر فرمایا کہ عوام کی خدمت کی روحانی و معنوی پاداش اس کے دنیوی اجر سے کہیں زیادہ باارزش اور بلند مرتبہ ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے صوبہ قم کے حکام کی زحمتوں اور محنتوں خاص طور پر حال کے دنوں میں ان کی مساعی کی قدردانی کی۔

اس اجلاس کے آغاز میں نائب صدر جناب رحیمی نے قم میں منعقدہ کابینہ کے اجلاس کی رپورٹ پیش کی اور کہا کہ اس اجلاس میں صوبائی دوروں سے متعلق بل کی منظوری کے علاوہ کچھ نئے فیصلے بھی کئے گئے۔

تہران-قم تیز رفتار ٹرینوں کے لئے پٹری بچھانا اور اس کے لئے ڈیڑھ سو ارب تومان کے نئے بجٹ کی تخصیص، ڈھائي سال کے اندر شہر قم کے پسماندہ علاقوں سے تمام محرومیوں کا ازالہ اور اس کے لئے ایک سو بیس ارب تومان کے بجٹ کی تخصیص، آئندہ سال ستمبر مہینے تک "مہر ہاؤسنگ پروجیکٹ" کے تحت اکتیس ہزار مکانات کی تکمیل اور شہر قم کے لئے پینے کے میٹھے پانی کے سپلائی کے لئے ایک سو دس ارب تومان کے بجٹ کا تعین قم کے عوام کے لئے کابینہ کے آج کے اجلاس میں کئے جانے والے اہم فیصلے تھے جن کی جانب نائب صدر نے اپنی رپورٹ میں اشارہ کیا۔

صوبہ قم کے گورنر جناب موسی پور نے بھی اجلاس میں اپنی تقریر میں گزشتہ برسوں، خاص طور پر پچھلے پانچ برسوں کے دوران انجام دی جانے والی خدمات کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ تیرہ ہزار سے زائد اسکول، کالج اور انتیس اعلی تعلیمی مراکز اور یونیورسٹیوں میں میں ترپن ہزار طلبہ کی موجودگی، حضرت معصومہ گرلز یونیورسٹیوں کا قیام، قم میڈیکل یونیورسٹی اور انڈسٹریل یونیورسٹی، اسپتالوں میں دو ہزار سے زائد بیڈ کا بندوبست، دو سو تیرہ طبی اور معالجاتی مراکز، تین سو ساٹھ اسپورٹس کامپلیکس، چالیس ہزار لینڈ لائن ٹیلی فون چھے لاکھ پچیس ہزار موبائل سم کی فراہمی شہر قم کے لئے انجام دئے جانے والے اہم اقدامات میں سے ہیں۔ انہوں نے صنعتی، زراعتی مراکز اور ڈیری فارموں کو شہر قم کی خصوصیت قرار دیا اور کہا کہ ان خدمات کے بعد بھی صوبہ قم میں بہت سی مشکلات ہیں جن میں ایک، اس شہر کا فرسودہ ڈھانچہ ہے۔

اس اجلاس کے اختتام پر قائد انقلاب اسلامی کی امامت میں حاضرین نے نماز ظہرین ادا کی۔  
 


قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای  قم میں یونیورسٹی طلبہ، اساتذہ اور نوجوانوں سے خطاب

قم(اردونیوزمیگزین رپورٹ/27اکتوبر2010)قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے شہر قم میں صوبے کے نوجوانوں، طلبہ اور یونیورسٹیوں سے وابستہ افراد کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب میں یکتا پرستی کی آئيڈیالوجی اور رونما ہونے والے واقعات دونوں کی سطح پر بصیرت کو قومی قوت و توانائی کے تسلسل کے لئے دراز مدتی منصوبوں کی بنیاد قرار دیا۔ آپ نے بصیرت کے مفہوم کے انتہائی ظریفانہ نکات کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ ایران کے بیدار، پرجوش اور بابصیرت نوجوان اسلامی مملکت ایران کی سربلندی کی راہ میں اپنی بابرکت کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے عظیم دین اسلام، وطن عزیز، اس عظیم سرزمین کی تاریخ اور با اعظمت قوم کے لئے عزت و افتخار کے ابواب رقم کریں گے۔

قائد انقلاب اسلامی نے دختر رسول معصومہ قم کے روضہ اقدس کے امام خمینی شبستان میں منعقد ہونے والے اس اجتماع سے خطاب میں قومی بصیرت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اسلام اور انقلاب کی دشمن طاقتوں کی دراز مدتی سازشوں کو ایک ناقابل انکار حقیقت قرار دیا اور فرمایا کہ بے شمار شواہد و قرائن سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ سن انیس سو ننانوے کے واقعات اور سن دو ہزار نو کے بلوؤں سمیت ملک کے اندر جو واقعات گاہے بگاہے رونما ہوتے ہیں دشمن کے طویل المیعاد اور میانہ مدتی منصوبوں کا نتیجہ ہیں۔ آپ نے گزشتہ برس (صدارتی انتخابات کے بعد) رونما ہونے والے واقعات کو دشمنوں کی سازشوں کے احیاء سے تعبیر کیا اور فرمایا کہ دشمنوں نے سن دو ہزار نو میں تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے اقدامات کرنے کی کوشش کی لیکن بفضل پروردگار انہیں شکست ملی اور قوم کی ہوشیاری اور میدان عمل میں موجودگی کے نتیجے میں انہیں شکست ہونی ہی تھی۔

قائد انقلاب اسلامی نے بار بار شکست کھانے کے باوجود سامراجی طاقتوں کی سازشوں کے تسلسل کو اس بات کی علامت قرار دیا کہ استبدادی طاقتیں ابھی مایوس نہیں ہوئی ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اس حقیقت کے پیش نظر ملت ایران اور اسلامی نظام کو بھی چاہئے کہ پوری مستعدی اور ہوشیاری کےساتھ دراز مدتی منصوبوں پر کام کرے۔ قائد انقلاب اسلامی نے دراز مدتی منصوبوں کے لئے فکری، سیاسی اور ثقافتی مراکز کی کوششوں کی یاددہانی کراتے ہوئے فرمایا کہ اس اسٹریٹیجک منصوبہ بندی کے لئے جو چیز زمین ہموار کر سکتی ہے وہ عوام الناس بالخصوص نوجوانوں کی بصیرت اور سوجھ بوجھ میں اضافہ ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے نوجوانوں کو میدان بصیرت کا علمبردار قرار دیا اور فرمایا کہ بصیرت وہ مشعل ہے جو تاریکیوں میں راستہ دکھاتی ہے، یہ ایسا قطب نما ہے جو غبار میں ڈھکے ہوئے بیاباں میں صحیح ہدف اور سمت کا تعین کرتا ہی۔ قائد انقلاب اسلامی نے بصیرت کی ذاتی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے اسے مکمل کامیابی کی لازمی شرط قرار دیا اور فرمایا کہ اگر دوسری تمام شرطیں پوری ہو جائیں لیکن بصیرت نہ ہو تو اہداف تک رسائی عملی طور پر ناممکن ہو جائے گی۔

قائد انقلاب اسلامی نے اصولی اور بنیادی امور اور گاہے بگاہے رونما ہونے والے واقعات دونوں کی سطح پر لازمی بصیرت کی درجہ بندی کرتے ہوئے فرمایا کہ اصولی اور بنیادی سطح پر بصیرت توحیدی مفاہیم کے بنیادی ادراک اور یکتا پرستانہ آئیڈیالوجی کے سلسلے میں ضروری ہوتی ہے۔ آپ نے اس سطح کی بصیرت کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ توحیدی نقطہ نگاہ سے کائنات ایک منظم اور قانون سے مطابقت رکھنے والا مجموعہ ہے اور انسانی زندگی کا ایک نصب العین اور مقصد ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نے توحیدی نقطہ نگاہ سے زندگی کو ایک با مقصد و با معنی مربوط سعی و کوشش سے تعبیر کیا اور فرمایا کہ اس نقطہ نگاہ سے زندگی اور ہستی میں مفہوم اور کشش پیدا ہوتی ہے اور ہر اقدام و کوشش پر اجر و ثواب الہی حاصل ہوتا ہے اسی لئے توحیدی نقطہ نگاہ میں مایوسی، ناامیدی اور اضطراب کا کوئی مفہوم و معنی نہیں ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے اس کے برخلاف مادی آئیڈیالوجی کو انسانی زندگی میں اساسی اور راہنما اہداف سے محروم قرار دیا اور فرمایا کہ ہستی کے بارے میں یہ نقطہ نگاہ شخصی مفادات اور اغراض و مقاصد تک محدود رہتا ہے اور یہ اغراض و مقاصد حاصل نہ کر پانے والے افراد مایوسی اور ناامیدی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آپ نے مادی اور غیر مادی معرفت کے بنیادی فرق پر توجہ اور تدبر کو بصیرت کے ستونوں کی تعمیر اور تقویت کا باعث قرار دیا اور فرمایا کہ اپنی فکر و نظر میں اس قسم کی بصیرت کا اہتمام کرنا چاہئے تاکہ فکر و عمل دونوں کی سطح پر دائمی کامیابی اور استحکام سے ہمکنار ہو سکیں۔

قائد انقلاب اسلامی نے گوناگوں واقعات و حوادث کے لئے ایک اور سطح کی بصیرت کی ضرورت پر زور دیا اور نہج البلاغہ کے مختلف خطبوں کی روشنی میں بصیرت کی اس قسم کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا۔ آپ نے فرمایا کہ امیر المومنین علیہ السلام کی زبان میں بصیرت کا مطلب حوادث و واقعات کا صحیح اور دقیق مشاہدہ، ان کے بارے میں تدبر و تفکر اور مسائل کو پوری طرح پرکھنا ہے۔

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے بالکل واضح حقائق کو نظر انداز کر دئے جانے کو انسان کی لغزش قرار دیا اور فرمایا کہ ہمیں چاہئے کہ آنکھیں کھلی ر

ایران
سعودی عرب
عرب دنیا
مشرق وسطی
افغانستان
کرغیزستان
ترکی
فلسطین
مسلم ممالک
حماس
 
 
Powered by A+ eSolutions.com
wwww.urdunewsmag.com