Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

 
ايڈيٹـر: علی جاويد نقوی  
وزیراعظم گیلانی کے ساتھ چودھری شجاعت،اسفندیارولی سمیت وفاقی وزراءبھی سپریم کورٹ میں یش ہوئے پاکستان آنے کافیصلہ موخرنہیں کیا،سابق صدرمشرف لندن،منصوراعجازکوپاکستانی ویزادےدیاگیا، صدرآصف علی زرداری کو استثنی حاصل ہے،اعتزازاحسن وزیراعظم یوسف رضاگیلانی سپریم کورٹ میں پیش،عدلیہ کااحترام کرتے ہیں،وزیراعظم گیلانی حکومت مستعفی ہونئے انتخابات کرائے جائیں،نوازشریف

تازہ ترین خبریں:

 
 
 

 

 

آئی 4 مارکیٹ میں آگیا،شوقین امریکی ٹوٹ پڑے

بالآخر ایپل نے اپنے آئی فون کا نیا ماڈل لانچ کردیا ہے، جس کا شائقین ایک عرصے سے انتظار کررہے تھے، اور بہت سے ایسے افراد نے جوآئی فون خریدنا چاہتے تھے، اپنی خریداری نیا ماڈل آنے تک ملتوی کردی تھی۔

ٹیکنالوجی کے کئی ماہرین نے آئی فون کے نئے ماڈل کو،ا سمارٹ فونز کی نسل میں سب سے خوبصورت ، سب سے زیادہ مختصر اور بہت سی نئی خوبیوں کا حامل قرار دیتے ہوئے اسے ایپل کی ایک بڑی کامیابی قراردیا ہے۔

پیر کے روز سان فرانسسکو میں ایک خصوصی تقریب کے دوران آئی فون فور کی رونمائی کرتے ہوئے اپیل کمپنی کے سربراہ اسٹیو جابز نے کہا کہ  یہ دنیا کا سب سے مختصر سائز کا اسمارٹ فون ہے اور ایپل نے اس سے زیادہ خوبصورت اور جامع چیز مارکیٹ میں پیش نہیں کی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی فون فورمیں اس سے قبل کے ماڈل  کے مقابلے میں کہیں زیادہ اضافی خصوصیات موجود ہیں۔

نئے آئی فون کا بیرونی حصہ شیشے اور اسٹین لیس اسٹیل سے تیار کیا گیا ہے۔ اس میں پانچ میگا پکسل  کا کیمرہ اور فلیش لائٹ موجود ہے۔ نئے آئی فون کی اسکرین کی ریزولوشن ، سابقہ ماڈل تھری جی ایس کے مقابلے میں چارگنا زیادہ ہے۔ جس کے باعث اس پر دکھائی دینے والی تصویر زیادہ واضح ، روشن اور رنگ کہیں زیادہ خوبصورت ہیں۔ زیادہ ریزولوشن کے باعث اس پر ایچ ڈی ویڈیوز دیکھی جاسکتی ہیں۔

نئے ماڈل میں ہائی ڈیفی نیشن  ویڈیو کی ریکارڈنگ اور ایڈیٹنگ کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ اور اس ماڈل  کے ذریعے ٹیلی فون کے ساتھ ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ بھی کی جاسکتی ہے۔

آئی فون فور میں ایپل نے اپنا تیار کردہ پراسیسر اے فور لگایا ہے۔ چیف ایگزیکٹو جابز کا کہنا ہے کہ اس نئے پراسیسر کی وجہ سے فون کی کارکردگی اور اس کی رفتار بہتر ہوئی ہے اور وہ پہلے ماڈل کے مقابلے میں کم توانائی استعمال کرتا ہے۔ نئے ماڈل میں پہلے کی نسبت بڑی بیٹری فراہم کی گئی ہے  اور اسے ایک بار چارج کرنے کے بعد زیادہ  وقت کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔

نئے فون  پر بیک وقت کئی پروگرام ایک ساتھ  چلائے جاسکتے ہیں۔نیا ماڈل 16 اور32 جی  بی   فلیش ہارڈ  ڈسک کے ساتھ دستیاب ہے۔

 


 

گوگل کاٹی وی سروس شروع کرنےکااعلان

ٹی وی کی نشریات کو ویب سےمنسلک کردیاگیا۔

 

گوگل کی نگاہیں ٹی وی چینلزکےاربوں ڈالرزکےاشتہارات پرہیں۔

انٹر نیٹ کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے اب ٹی وی سروس شروع کی ہے جس میں ٹیلی ویژن کی نشریات کو ویب سے منسلک کر دیا گیا ہے۔

سمارٹ ٹی وی کے ذریعے اب صارفین مختلف ٹی وی چینل کی نشریات بھی ویب پر دیکھ سکیں گے اور یو ٹیوب جیسی سائٹس سے بھی مستفید ہو سکیں گے۔

خصوصی ٹی وی سیٹس یا پھر عام ٹی وی سیٹس کے ساتھ ایک گوگل بکس لگانا پڑے گا جس کے بعد لوگ ٹی وی کے ذریعے ویب تک رسائی حاصل کر سکیں گے اور وہاں سے مواد ڈاؤن لوڈ کر سکیں گے۔

اس طرح کا پہلا ٹی وی سونی کمپنی نے بنایا جو اس سال موسم خزاں کے بعد مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔

گوگل کے ایک اہلکار رشنی چندرا نے کہا کہ ’ویڈیو اب آپ اپنے گھر میں بڑی، روشن اور بہتریں سکرین پر دیکھ سکیں گے‘۔ انھوں نے کہا کہ یہ پی سی یا موبائل فون کی سکرین نہیں ٹی وی کی سکرین ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت دنیا بھر میں چار ارب لوگ ٹی وی دیکھتے ہیں اور صرف امریکہ میں سالانہ ستر ارب ڈالر ٹی وی کے اشتہاروں پر خرچ کیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ٹی وی کے علاوہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچنے کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہو سکتا۔

گوگل کی کمائی کا ایک بڑا حصہ اس کو ملنے والے اشتہاروں سے آتا ہے اور ٹی وی کا شروع کیا جانا اس کمائی کو مزید بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

ایک رسرچ فرم کے ماہر ڈن کران نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئِے کہا کہ دنیا بھر کی معلومات کو منظم کرنا گوگل کا عزم ہے تو پھر اس سمت میں پیش رفت کیوں نہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ویب کو ٹی سے منسلک کرنے کی کوششیں ہوئی ہیں لیکن کوئی کامیاب نہیں ہو سکیں۔

ویب پر جتنی تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں ان میں اب بہت سے ویب سائٹس بہتریں کوالٹی کی ٹی سروس مہیا کر رہے ہیں۔

 


 

 

سائنسدانوں نےمصنوعی جاندارایجاد کرلیا۔

اس دریافت کوطب کی دنیامیں انقلاب قراردیاجارہاہے۔

مستقبل میں مصنوعی مخلوق بھی بنائی جاسکےگی۔

امریکی سائنسدانوں نے تاریخ کے پہلے زندہ خلیے کی تخلیق کا اعلان کیا ہے۔ یہ جاندار خلیہ کیمیکلز کی مدد سے تیار کیا گیا ہے اور اس کے افعال کا تمام تر انحصار کسی عام جاندار خلیے کی طرح DNA پر ہی ہوگا۔

محققین نے بیکٹیریا کے لئے بنایا جانے والا ایک جینیٹک سوفٹ ویئر تیار کیا ہے اور اسے ایک میزبان خلیے میں داخل کیا گیا۔ اس طرح نیا تخلیق پانے والا زندہ خلیہ انہیں علامات کا حامل تھا، جو اس کے ڈی این اے سوف ویئر میں رکھی گئی تھیں۔

ناقدین نے اس عمل کو غیر ضروری اور خطرناک قرار دیا ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ اس قدم کو ضرورت سے زیادہ ہی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ تاہم محققین نے امید ظاہر کی ہے کہ اس عمل کی مدد سے ادویات کی تیاری، ایندھن اور گرین ہاؤس گیسوں کو جذب کرنے والے بیکٹریاز کی تیاری میں مدد ملے گی۔

میری لینڈ کیلیفورنیا میں واقع کریگ وینٹر انسٹیٹیوٹ میں اس تحقیق میں مصروف ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر کریگ وینٹر تھے۔ اس سے قبل اس ٹیم نے بیکٹریا کا ایک جین تیار کیا تھا۔ اس جین کی مدد سے ایک بیکٹریا کو دوسرے بیکٹریا میں تبدیل کیا جا سکتا تھا۔ تاہم اس نئے تجربے میں دونوں عمل استعمال کئے گئے ہیں۔ یعنی ایک تو جین کی مدد سے ایک بیکٹریا کو دوسرے میں تبدیل کیا جائے اور دوسرا نئے تخلیق پانے والے خلیے میں ڈی این اے میں ہدایات اپنی مرضی کی رکھی جائیں۔
اس طریقہ کار کی مدد سے ایک زندہ بیکٹریا کے جین کی نقل تیار کی جاتی ہے پھر اس کے جینیاتی کوڈ کے ذریعے کیمیکلز اورسینتھیسس مشینوں کے سہارے سے ویسا ہی ایک نیا خلیہ تیار کر لیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر وینٹر نے ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے سے بات چیت میں بتایا کہ اب وہ اس قابل ہو گئے یں کہ اپنے کروموسومز کو کسی اور خلیے میں داخل کر سکیں اور انہیں مختلف افعال کی ہدایات دیں۔

انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی یہ نیا سوفٹ ویئر کسی خلیے میں داخل ہوتا ہے، وہ خلیہ اسے پڑھتا ہے اور اس جینیٹک کوڈ میں لکھی معلومات کی بنا پر اسی حیاتیاتی قسم میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

نیا تخلیق پانے والا خلیہ خود اپنی اربوں نقلیں تیار کر سکتا ہے اور اسے مصنوعی ڈی این اے کی مدد سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے، جب ڈی این اے ہر اعتبار سے خلیے کے احکامات پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ انہوں نے اس تجربے کی کامیابی کو ’نیا صنعتی انقلاب‘ قرار دیا۔

ڈاکٹر وینٹر اور ان کی ٹیم اب ایک ایسے یک خلوی بیکٹریا کی تیاری میں مصروف ہے، جس سے اپنی مرضی کے افعال انجام دلائے جائیں۔

’’اگر ہم حقیقی طور پر اپنی مرضی کے مطابق ایسے خلیوں کی بڑی تعداد میں تیاری میں کامیاب ہوگئے تو ان کی مدد سے ہم ایندھن بھی بنا لیں گے اور ماحول کو پہنچنے والے نقصان کو دوبارہ اصل حالت میں لانے میں بھی ان بیکٹریاز سے مدد حاصل کر پائیں گے، کیونکہ ان کے ذریعے ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈکے انجذاب کی خدمات بھی لی جا سکیں گی۔‘‘

                               ۔۔۔۔۔۔

خلائی شٹل اٹلانٹس کےخلابازوں کی سرگرمیاں

 خلائی شٹل اٹلانٹس چھ خلاء بازوں  کو لے کر زمین کے مدار سے دو سو بیس میل دور بین الاقوامی خلائی مرکز کے لئے روانہ ہوگئی ہے جہاں وہ اتوار کو پہنچے گی۔

اٹلانٹس کے اس مشن میں ISS تک روسی ساختہ موڈیول، ایک چھوٹی لیبارٹری اور چند دیگر پرزہ جات پہنچانا شامل ہے۔ روسی ساختہ ریسرچ موڈیول کو Rassvet کا نام دیا گیا ہے جس کے معنی ہیں صبح۔ سولہ ممالک کے تعان سے بننے والے بین الاقوامی خلائی مرکز کی تعمیر کے اس منصوبے پر ایک سو ارب ڈالر لاگت کا تخمینہ ہے۔ امریکی خلائی ادارے NASA کا ارادہ ہے کہ 1981ء میں شروع کیا گیا شٹل پروگرام مالی وسائل میں کمی اور سلامتی سے جڑے چند مسائل کے باعث بند کردیا جائے۔ ناسا کی خواہش ہے کہ بین الاقوامی خلائی مرکز تک فاضل پرزہ جات کی سپلائی کا کام روسی، یورپی اور جاپانی ساختہ چھوٹی خلائی گاڑیوں کو سونپے جانے سے قبل زیادہ سے زیادہ سامان وہاں پہنچادیا جائے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے ایسی تکنیک کی کھوج کی تجویز پیش کی ہے جس کے ذریعے طویل مدتی ہدف کے طور پر خلاء دانوں کو مریخ تک بھی پہنچایا جاسکے

کینیڈی سپیس سینٹر سے عالمی وقت کے مطابق جمعہ کی شام چھ بج کر بیس منٹ پر روانہ ہونے والی اٹلانٹس کی یہ پرواز اس خلائی شٹل کی آخری جبکہ شٹل پروگرام کی مجوعی طور پر آخری تین پروازوں میں سے پہلی ہے۔ اٹلانٹس کی واپسی کے بعد ستمبر میں خلائی شٹل ڈسکوری کچھ دیگر پرزہ جات لے کر خلائی مرکز کے لئے روانہ ہوگی۔ اس کے بعد نومبر میں خلائی شٹل انڈیور کا مشن ہوگا کہ دو ارب ڈالر مالیت کا الفا میگنیٹک سپیکٹرومیٹر خلائی مرکز تک پہنچائے۔

خلا نوردوں کی کوشش ہے کہ اس خلائی مرکز کو عملی شکل میں لانے کے لئے اٹلانٹس کی شٹل پروازوں کا سلسلہ ختم ہونے سے پہلے 166 کلو وزنی شمسی بیٹریاں وہاں پہنچادی جائیں۔ اس مرکز کی تعمیر کے اگلے مرحلے میں مواصلاتی رابطے کے لئے دوسرا اینٹینا جوڑا جائے گا۔ اٹلانٹس کی حالیہ پرواز اس کا 32 واں مشن ہے جس کے بعد اس سے محض ضرورت پڑنے کی صورت میں کام لیا جائے گا۔ ایک اور امکان یہ ہے کہ اگر امریکی حکومت اس ضمن میں جون میں ایک ارب ڈالر مزید فراہم کرنے کی یقین دہانی کرادے تو شٹل پروازوں کا سلسلہ 2011 تک جاری رہ سکتا ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما نے ایسی تکنیک کی کھوج کی تجویز پیش کی ہے جس کے ذریعے طویل مدتی ہدف کے طور پر خلاء بازوں کو مریخ تک بھی پہنچایا جاسکے۔اٹلانٹس کی حالیہ روانگی سے قبل ناسا کے پرواز سے متعلق معاملات کے ڈائریکٹر Mike Leinbach نے خلائی شٹل اٹلانٹک کے کمانڈر Ken Ham کے لئے اچھی قسمت اور اچھی رفتار کی تمنا کا اظہار کیا اور ساتھ ہی انہیں اس سے سفر سے تھوڑا لطف اندوز ہونے کا بھی مشورہ دیا۔ جواباً Ham نے ڈائریکٹر Leinbach سے ازراہ مذاق کہا کہ اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو ہم اس شٹل میں ذرا طے شدہ پروگرام سے ہٹ کر بھی خلاء کچھ گھوم پھر لیں۔ اس تاریخی خلائی سفر پر روانہ ہونے والے سائنس دانوں نے روانگی سے قبل اجتماعی ناشتہ کیا اور سب نے اظہار یکجہتی کے لئے یکساں نیلی رنگ کی جیکٹس زیب تن کی ہوئیں تھیں۔

 

سائنس
سپورٹس
تاریخ
میڈیا
ستارے
فوٹوالبم
نوجوان
 
 
Powered by A+ eSolutions.com
wwww.urdunewsmag.com