Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

 
ايڈيٹـر: علی جاويد نقوی  
وزیراعظم گیلانی کے ساتھ چودھری شجاعت،اسفندیارولی سمیت وفاقی وزراءبھی سپریم کورٹ میں یش ہوئے پاکستان آنے کافیصلہ موخرنہیں کیا،سابق صدرمشرف لندن،منصوراعجازکوپاکستانی ویزادےدیاگیا، صدرآصف علی زرداری کو استثنی حاصل ہے،اعتزازاحسن وزیراعظم یوسف رضاگیلانی سپریم کورٹ میں پیش،عدلیہ کااحترام کرتے ہیں،وزیراعظم گیلانی حکومت مستعفی ہونئے انتخابات کرائے جائیں،نوازشریف

تازہ ترین خبریں:

 
 
 

 

 

جان ہےتوجہان ہے،اپنی صحت کاخیال رکھیے،سوچ سمجھ کرکھائیے۔گوشت کم کھاناصحت کیلئےمفید،عادات بدل کرآپ پچاس سال زیادہ زندہ رہ سکتے ہیں۔

بلڈپریشرسےعمرکم

نئی تحقیق کےمطابق بلڈ پریشر سے عمر کم ہوجاتی ہے،روزمرہ زندگی میں تبدیلی لائیں۔

 میٹھےسےپرہیز

میٹھا کھانےوالےبچوں کےدانت بھی خراب ہوتے ہیں اور وہ تشددپسند بھی ہوجاتےہیں،نئی تحقیق

 ٹینشن ختم کریں

ورزش کی بجائے ادویات کےذریعے ٹینشن ختم کرنابہتر اورآسان ہے۔

 


 کلونجی میں موت کےسواہربیماری کاعلاج

جرمنی میں جڑی بوٹیوں سےادویات تیارکرنےکارحجان سب سےزیادہ ہے۔

کلونجی کا تیل، فوائد بے حساب کلونجی کو مصری مسالہ کہا جاتا ہے تاہم تاریخ میں طب یونانی سے لے کر دیگر قدیم تہذیبوں میں بھی ادویات سازی میں اس کے استعمال کے بہت سےشواہد ملتے ہیں۔ عرب دینا ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں بھی اس کا استعمال عام ہے۔

عربی میں حبت البرکہ یا حبت السوداء، فارسی میں سیاہ دانہ انگریزی میں   ہندی میں منگریلا اور اُردو میں کلونجی کہلانے والی سیاہ بیجوں کو دنیا بھرمیں کالی مرچوں کے بعد سب سے زیادہ مقبول مسالہ سمجھا جاتا ہے۔ محض اس لئے نہیں کہ یہ کھانوں کا ذائقہ دوبالا کرنے میں کام آتا ہے بلکہ اس کی ادویائی خصوصیات اتنی زیادہ ہیں کہ خود طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کلونجی کی افادیت کے بارے میں جتنی بھی ریسرچ کی گئی ہے اب تک اس کے تمام تر فوائد کا پتا نہیں چلایا جا سکا ہے۔

 جرمنی میں ہمیوپیتھک اور جڑی بوٹیوں سے تیار شدہ ادویات کے استعمال کا رجحان بہت زیادہ پایا جاتا ہے
 اس کا نباتیاتی نام  ہے اوریہ قدیم طب یونانی سے لے کردورحاضر کی ادویات سازی میں بہت زیادہ استعمال ہونے والا تخم ہے۔ سال میں ایک بار پھل دینے والا یہ پودا 20 تا 30 سینٹی میٹر اونچا ہوتا ہے جس میں نیلے اور سفید رنگ کے بہت ہی خوش نما پھول نکلتے ہیں اور اس کا پھل کیپسول سے مشابہ ہوتا ہے، جس کے اندر سے چھوٹے چھوٹے تقریباً تکونے شکل کے سیاہ بیج یعنی کلونجی نکلتی ہے۔

 تاریخ میں اس بیج کے آثار قدیم مصری تہذیب میں بھی دستیاب ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ ’توتان خامون‘ کے مقبرے سے یہ بیج برآمد ہوئے۔ مورخین کے مطابق قدیم مصری تہذیب میں اس بیج کو ’فراعین‘ کی ممیز کومحفوظ کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ یونان سے لے کر مشرق وسطیٰ، ایشیا اورافریقہ تک میں اسے روایتی طریقہ علاج کے طور پر جڑی بوٹیوں کی شکل میں بھی اور اس کا تیل نکال کر بھی گونا گوں بیماریوں کے علاج کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے، جو ہمیشہ کامیاب ثابت ہوا۔

 سانس کی تکلیف، دمے کا مرض، گردے اور جگر کی خرابی ہو یا دوران خون میں نقص کے سبب یا پھر دل کے عارضے ہوں، ان تمام بیماریوں کا موثرعلاج چُٹکی بھر کلونجی کے بیج یا اس کے خالص تیل کے چند قطروں کا مسلسل استعمال ہے۔ جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کے لئے کلونجی سے زیادہ موثر کوئی دوسری چیز نہیں۔ یہ درد کُش بھی ہے اور جسم کے کس بھی حصے میں ہونے والی سوزش میں بہت فائدہ مند بھی ثابت ہوتی ہے۔

  حکمت چین ہو یا طب یونان، جڑی بوٹیوں کا استعمال جدید دور میں بھی مفید مانا جاتا ہے
سرطان جیسے مہلک عارضے یا دیگر انفیکشن وغیرہ سے بچاؤ کے لئے کلونجی کا استعمال نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔ مغرب میں امراض جلد اوربال جھڑنے کی بیماری کے خلاف کلونجی کا تیل بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔


 

فریش چیزیں کھائیں ،صحت اورجان بنائیں

  
ایک تحقیق کے مطابق مختلف سبزیاں، پھل اور مچھلی کھانے والے افراد کو ذہنی دباؤ یا ڈپریشن کا مرض لاحق ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس وہ افراد جو پہلے سے

تیار شدہ اشیاء کھانے کو ترجیح دیتے ہیں ان میں یہ امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

برٹش سائیکاٹری جرنل میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ تحقیق اوسط عمر کے پینتیس سو سرکاری ملازمین پر پانچ سال تک کی گئی ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کے مطابق برطانیہ میں خوراک اور ذہنی دباؤ کے حوالے سے پہلی بار ایسی تحقیق کی گئی ہے۔

ماہرین نے تحقیق میں شامل پینتیس سو افراد کو دو گروپوں میں تقسیم کیا۔ ان میں سے ایک گروپ کو ایسی خوراک مہیا کی گئی جو سبزیوں، پھلوں پر مشتمل تھی جبکہ دوسرے

گروپ کو مٹھائیاں، تلا ہوا کھانا اور تیار گوشت جیسی خوراک دی گئی۔

اس بعد دونوں گروپوں میں شامل افراد کا طبی ریکارڈ، عمر، تعلیم، جسمانی سرگرمیاں اور تمباکو نوشی کی عادات کے مطابق مشاہدہ کیا گیا۔مستقبل میں دونوں گروپس میں شامل افراد

میں ذہنی دباؤ کے حوالے سے نتائج بہت مختلف تھے۔

ماہرین نے تحقیق میں شامل پینتس سو افراد کو دو گروپوں میں تقسیم کیا۔ ان میں سے ایک گروپ کو ایسی خوراک مہیا کی گئی جو سبزیوں، فروٹ پر مشتمل تھی جبکہ دوسرے

گروپ کو مٹھائیاں، تلا ہوا کھانا اور تیار گوشت جیسی خوراک دی گئی۔
ایسے افراد جن کو سبزیاں وغیر دی گئی تھیں ان میں دوسرے افراد کے مقابلے میں ڈپریشن کے پچیس فیصد کم امکانات تھے جبکہ ایسے افراد جو پہلے سے تیار شدہ اشیاء

کھاتے تھے ان کو ڈپریشن کا مرض لاحق ہونے پچھہتر فیصد زیادہ خطرہ تھا۔

مینٹل ہیلتھ فاونڈیشن کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر اینڈرویو میکلکوچ کا کہنا ہے کہ تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ ہماری خوراک کا ذہنی صحت کے ساتھ کیا تعلق ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس طرح کی تحقیقات اس لیے لازمی ہونی چاہیے تاکہ ذہنی بیماریوں کو زیادہ بہتر طور پر جان سکیں۔ ان کے بقول موجودہ دور میں کم صحت مند خوراک کھانے

کے روجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

’ برطانیہ کی آبادی تازہ تیار کردہ کم عذائیت، شکر اور موٹاپے والی خوراک کھاتی ہے۔ ہم ان لوگوں کے بارے میں زیادہ فکر مند ہیں جو ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں انھیں

تازہ خوراک کی بجائے فاسٹ فوڈ کے ریستوران وافر تعداد میں میسر ہیں۔‘
 


 
میٹھا کھانےوالےبچے تشددپسند ہوتےہیں 
   
برطانوی تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے بچے جو روزانہ میٹھا اور چاکلیٹ کھاتے ہیں ان میں بڑے ہو کر پرتشدد ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

کارڈف یونیورسٹی کی سترہ سو پچاس افراد پر مشتمل یہ تحقیق اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق ہے جس میں بچپن کی خوراک اور بڑے ہو کر پرتشدد ہونے میں تعلق جاننے کی کوشش

کی گئی ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دس سال کی عمر کے بچے جو روزانہ میٹھائی کھاتے ہیں واضح طور پر چونتیس سال کی عمر تک تشدد کے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں۔

تحقیق کاروں نے سترہ سو پچاس افراد پر تحقیق سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے یہ جانا کہ ان میں سے انہتر فیصد افراد جو چونتیس سال کی عمر میں پرتشدد تھے

انہوں نے بچپن میں تقریباً ہر روز میٹھا اور چاکلیٹ کھائیں تھی۔

اگر بچے اپنی خواہش کو وقتی طور ترک کرنا نہیں سیکھیں گے تو وہ جارہانہ رویہ اپنائیں گے جس کا جرم سے گہرا تعلق ہے
ڈاکٹر سائمن مور
۔۔۔۔۔
مردوں اورعورتوں میں دل کےامراض کی ایک جیسی علامات
عموماً یہ خیال کیا جاتا رہا ہے کہ خواتین میں دل کے امراض کی علامتیں مردوں کی علامات سے مختلف ہوتی ہیں۔ تاہم کینیڈا کی کارڈیو ویسکیولر کانگریس کی ایک تحقیق کے

مطابق یہ خیال غلط ہے اور خواتین اور مردوں میں امراض دل کی علامات ایک جیسی ہوتی ہیں۔

اس تحقیق کے لیے دل کے تین سو پانچ مریضوں کی علامات کا تجزیہ کیا گیا جنہیں جلد ہی اینجیو پلاسٹی کے مراحل سے گزرنا تھا۔

ڈاکٹر برتھ ابرامسن کا کہنا ہے کہ دل کا مرض مردو عورت کے لیے یکساں طور پر خطرناک ہے۔

سنہ دو ہزار تین میں امریکی انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کی ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ خواتین کو سینے کے درد کی شکایت مردوں کی نسبت کم ہوتی ہے اور ان میں امراض دل کی

علامات واضح نہیں ہوتیں۔

کینیڈا کی ریسرچ کی تحقیقات کار اعلٰی مارتھا میکے کا کہنا ہے کہ نئی رپورٹ نے امریکی تحقیق کو غلط ثابت کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین میں دل کے امراض کی علامات مردوں کی علامات ہی کی طرح ہیں یعنی سینے کا درد، گلے، جبڑے اور گردن میں درد وغیرہ۔

ڈاکٹر برتھ کا کہنا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ عورتوں اور مردوں میں اپنے درد کو بیان کرنے کے طریقے میں فرق ہو مگر علامات بالکل ایک جیسی ہوتی ہیں۔



بلڈپریشر سےعمرکم ہوجاتی ہے۔

 

ایک تحقیق کےمطابق ایسےتمباکو نوش مرد جنہیں ہائی بلڈ پریشر،ہائی کولیسٹرول ہو ان کی عمر اوسطاً دس سال کم ہو جاتی ہے۔

اڑتیس سال تک جاری رہنے والی یہ تحقیق انیس ہزار سرکاری ملازموں پر کی گئی اور جب یہ تحقیق ختم ہوئی تو انیس ہزار میں سے تیرہ ہزار پانچ سو افراد وفات پا چکے تھے۔

برطانیہ کے میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں چالیس سے زیادہ عمر کے مردوں کو خبردار کیا گیا ہےکہ انہیں اپنے دل کی صحت پر نذر رکھنے کی ضرورت

ہے ۔

یہ تحقیق انیس سو ستر میں اس وقت شروع کی گئی جب برطانیہ میں رگوں کی بیماری بہت زیادہ تھی۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق ایسے مرد جن میں یہ تینوں عناصر پائے جاتے

ہیں وہ پچاس سال کی عمر کے بعد اپنے صحت مند ہم عمروں سے دس سال کم جیتے ہیں۔

برطانوی ہارٹ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ چالیس سال سے اوپر کی عمر والے ہر فرد کو دل کی صحت پر لازمی نظر رکھنا ہوگی۔

تحقیق میں شامل مردوں کا قد، وزن، بلڈ پریشر، پھیپھڑوں کی حالت، کولیسڑول اور شوگر کی مقدار چیک کی گئی اور اس کے ساتھ ان کا پچھلا طبی ریکارڈ، تمباکو نوشی کی عادت،

نوکری کا درجہ اور شادی شدہ زندگی کے بارے میں ایک جامع سوالنامہ بھی حل کروایاگیا تھا۔

اس کے بعد ان مردوں پر چالیس سال تک نظر رکھی گئی اور دو ہزار پانچ کے بعد ان انیس ہزار میں سے تیرہ ہزار پانچ سو ایک کی اموات واقع ہو چکی تھی۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے محقیقین نے تمباکو نوشی، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول پر توجہ دی ہے کیونکہ یہ دل کی بیماریوں کی بڑی وجہ ہے ۔ایسے افراد جن میں کولیسڑول کی سطح

بلند ہوتی ہے ان کی عمر چوہتر سال اور جن یہ تینوں عناصر نہیں ہوتے ان کی عمر تیراسی سال تک ہو سکتی ہے۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے پروفیسر پیٹر ویسبرگ کا کہنا ہے کہ اس اہم تحقیق کی وجہ سے بلڈ پریشر، کولیسڑول اور تمباکو نوشی کی وجہ سے عمر میں کمی کا معلوم ہو سکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس تحقیق سے ایک مضبوط وضاحت ہوتی ہے کہ درمیانی عمر میں ان تینوں عناصر کی وجہ سے عمر کم ہو سکتی ہے۔

پروفیسر برگ یہ ایک اچھی خبر ہے کہ اب ہم اپنی روز مرہ زندگی میں تبدیلی لاتے ہوئے پچاس برس سے زیادہ زندہ رہ سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔



 
زیادہ گوشت کھانا صحت کیلئے نقصان دہ
  
سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں کہا ہے کہ زیادہ گوشت کھانا اور محفوظ کرنے کے عمل سے گزارے گئے گوشت کا کھانا مضرِ صحت ہے۔

اس تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ دس سال سے زیادہ گوشت کھانے والے افراد کی موت کئی وجوہات سے واقع ہو سکتی ہے۔اس کے مقابلے میں مرغی اور مچھلی کھانے والے

افراد کی جان کو اتنا خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔

یہ امریکی تحقیق انٹرنل میڈیسن میں شائع کی گئی ہے۔

یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا کے ڈاکٹر بیری ہاپکنز نے کہا ’گوشت کھانے میں کمی کرنا ضروری ہے‘۔ محققین کے مطابق ’ کوئی یہ نہیں کہہ رہا کہ برگر اورگوشت کھانا

بند کر دیا جائے بلکہ صرف اس میں کمی لائے جائے‘۔

اس تحقیق میں پتہ چلا کہ وہ افراد جو زیادہ گوشت کھاتے ہیں ان کی جلدی موت کے امکانات زیادہ ہیں اور خاص طور پر ان کو امراض قلب یا سرطان ہونے کے امکانات بھی زیادہ

ہیں۔تحقیق کے مطابق زیادہ گوشت کھانے والے افراد ایک سو ساٹھ گرام جبکہ کم گوشت کھانے والے افراد اوسطاً صرف پچیس گرام گوشت کھاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق اگر گوشت کھانے میں کمی کی جائے توگیارہ فیصد مرد اور سولہ فیصد عورتیں جلد موت سے بچ سکتی ہیں۔



ڈیپریشن ورزش کی بجائے ادویات کےاستعمال کا مشورہ

مینٹل ہیلتھ فاؤنڈیشن کی تحقیق کے مطابق ذہنی امراض کے ڈاکٹرز ڈیپریشن میں مبتلا افراد کو ورزش کی بجائے ادویات تجویز کرتے ہیں۔

حالیہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں ڈیپریشن سے بچاؤ کی ادویات تجویز کرنے کی تعداد دوگنا ہوگئی ہے۔

لیکن تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ کم ڈیپریشن کے مریضوں کو ورزشوں سے اتنا ہی فائدہ پہنچتا ہے جتنا کہ ان ادویات سے جبکہ ادویات کے مقابلے میں اس کا نقصان بھی کوئی

نہیں ہے۔ورزش کرنے سے انسانی دماغ ایسا کیمیائی مواد خارج کرتا ہے جو ذہنی صحت کے لے مفید ہوتا ہے

اس سے قبل سنہ دو ہزار چار میں ہسپتالوں کے رہنما اصولوں میں خطرناک حد سے کم ڈیپریشن کے مریضوں کو ورزشوں کا مشورہ دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔

لیکن مینٹل ہیلتھ فاؤنڈیشن کو تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ملک میں ڈاکٹروں کی نصف تعداد کو ڈیپریشن میں مبتلا افراد کو ایکسر سائز ریفرل سکیم تک رسائی حاصل تھی۔ جبکہ ہر چھ

میں سے ایک فرد معاشی تنزلی کی وجہ سے ڈیپریشن کا شکار ہے۔

حال میں ہونے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ فنڈز کی کمی بھی ان ایکسرسائز ریفرل سکیموں تک مریضوں کی رسائی میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

تاہم تحقیق کے مطابق کئی ڈاکٹر اس بات سے بے خبر تھے کہ ان کے علاقے میں ایکسر سائز ریفرل سکیم کی سہولت موجود ہے۔

مینٹل ہیلتھ فاؤنڈیشن نے پرائمری ہیلتھ کیئر سے مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح کی نئی سکیمیں بنائی جائیں۔

 


مالش سےدردکاکم ہوناثابت نہ ہوسکا


ماہرین کا کہنا ہے کہ تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ بام یا تیل کی مالش پٹھوں اور جوڑوں کے درد میں کمی کا باعث بنتی ہے۔

دنیا بھر میں ہر سال لوگ جوڑوں اور پٹھوں کے درد سے نجات کے لیے مختلف قسم کی لاتعداد مالش کی کریمیں خریدتے ہیں جو کہ خون کی گردش کو تیز کرنے میں مدد دیتے

ہیں۔

کوکرین کے محققین سولہ تحقیقات پر مبنی اعداد و شمار کا جائزہ لیا جس سے پتہ چلا کہ ایسی کریمیں جن میں درد رفع کرنے والا جزو سیلی سائٹ شامل ہے، مریضوں کو کوئی

فائدہ نہیں پہنچاتی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں دوسرے دافع درد جیل شاید زیادہ بہتر کام کریں لیکن اس کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کلینیکل ایکسیلینس نے حال ہی میں اوسٹیو آرتھرائٹس کے بارے میں رہنما اصول شائع کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ جوڑوں کی اس بیماری کے

لیے سیلی سائیلیٹس پر مشتمل کریمیں ہرگز تجویز نہ کی جائیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے محقق ڈاکٹر اینڈریو موور کا کہنا ہے کہ ملنے والی کریمیں اتنی بہتر نہیں کہ انہیں اہمیت دی جائے۔تاہم ہماری تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جوڑوں اور

پٹھوں کی سوجھن دور کرنے والے مؤثر جیل آئیبو پروفن ہے۔ یہ دوا نہ صرف بہتر کام کرتی ہے بلکہ محفوظ بھی ہے۔

تاہم مالش والی کریموں پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ دوائیں واقعی مفید ہیں۔


 

کام کریں جوڑوں کا درد بھگائیں


ایک رپورٹ کے مطابق کمر اور جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کو کام میں زیادہ سے زیادہ مصروف رہنا چاہیے۔
برطانوی ادارے ورک فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کام کرنے سے پٹھوں اور ہڈیوں کی بیماریوں سے جلد نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ تاہم کئی

ڈاکٹروں اور مالکان کا یہ ماننا غلط ہے کہ کام پر واپس آنے سے قبل کسی بھی شخص کو سو فیصد تندرست ہونا چاہیے۔

ماہرین اس تحقیق سے اتفاق کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ اس کا دارومدار کسی بھی شخص کی کام کی نوعیت پر بھی ہے۔ اگر ایک انسان سخت نوعیت کا کام کرتا ہے

تو ایسی صورتحال میں کام کرنے سے اسے مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ورک فاؤنڈیشن کے مطابق برطانیہ میں 400,000 افراد جوڑوں کے درد میں مبتلا ہیں جن میں سے ایک تہائی افراد علاج کے پانچ سال کے اندر کام کرنا بند کر دیتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پٹھوں اور جوڑوں کی بیماریاں برطانیہ میں کام نہ کرنے کی سب سے بڑی وجہ گنی جاتی ہیں۔

ورک فاؤنڈیشن جس کا مقصد معاشی نظام اور کام کرنے والے لوگوں کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانا ہے، کا کہنا ہے کہ ان بیماریوں میں مبتلا لوگ لمبے عرصے کی چھٹیوں پر

چلے جاتے ہیں اور اکثر تو کام کو مکمل طور پر ترک کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ایک ملین سے زائد افراد اس صورتحال سے دوچار ہیں اور ہر سال اس سے ہونے والے اخراجات 7.4 ارب پاؤنڈ ہیں۔ ڈاکٹروں کے وقت کا تین

چوتھائی حصہ ایسے مریضوں کے علاج میں صرف ہو جاتا ہے جس سے نو اعشاریہ پانچ بلین دن ضائع ہو جاتے ہیں۔


  ہمیں فوری طور پر ڈاکٹروں اور مالکان کی اس بیماری سے متعلق رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے اور ان کی اس سوچ کو بدلنا ہوگا کہ اس بیماری کے شکار افراد کا

دوبارہ کام شروع کرنے سے قبل مکمل طور پر صحتیاب ہونا ضروری ہے

 
مشال مہڈن، دی ورک فاؤنڈیشن

فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ حقائق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جلد از جلد کام پر واپس لوٹنا فائدے مند ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسی صورتحال میں ڈاکٹروں اور مالکان کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ لوگ کیا کر سکتے ہیں ناکہ وہ اس بات پر زور دیں کہ لوگ کیا نہیں کر

سکتے۔

سینیئر ریسرچر مشال مہڈن کا کہنا ہے کہ ’ پٹھوں اور جوڑوں کا درد ایک بڑا مسئلہ ہے جس سے برطانیہ میں ہر سال ایک ملین افراد اثرانداز ہو رہے ہیں اور یقیناً ان کے

خاندان والے بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’کام کرنا بیماری کی وجہ بھی ہو سکتی ہے اور اس کا علاج بھی۔ اگر کام کی جگہ پر صحیح انتظام کیا جائے تو اس سے ان بیماریوں کو دور کرنے میں مدد

مل سکتی ہے اور اس سے لوگوں میں خود اعتمادی بھی بحال ہوگی‘۔

’ہمیں فوری طور پر ڈاکٹروں اور مالکان کے اس بیماری سے متعلق رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے اور ان کی اس سوچ کو بدلنا ہوگا کہ اس بیماری کے شکار افراد کا

دوبارہ کام شروع کرنے سے قبل مکمل طور پر صحتیاب ہونا ضروری ہے‘۔

نیشنل ڈائریکٹر آف ہیلتھ اینڈ ورک پروفیسر کیرل بلیک کا کہنا ہے کہ’ مجھے امید ہے کہ وقت کے ساتھ پٹھوں اور ہڈیوں کی بیماری لوگوں کے کام پر کم اثر انداز ہو گی اور اس

وقت تک ان بیماریوں سے متعلق لوگوں میں آگاہی پھیلانے کا کام زور و شور سے جاری رہنا چاہیے‘۔
۔


 

ٹینشن سےبچیں،صحت مند رہیں

یہ تو سائنسدان پہلے ہی جان چکے ہیں کہ ذہنی دباؤ سے دل کا دورہ پڑ سکتا ہے مگر اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ یہ ہوتا کیسے ہے۔ اب ایک نئی تحقیق کے مطابق ماہرین

نے یہ بھی معلوم کرلیا ہے کہ ذہنی دباؤ سے دل کے دورے کا کیا تعلق ہے اور یہ عمل کیسے ہوتا ہے۔
اس تحقیق میں دل کے ایسے مریضوں کو شامل کیا گیا جن کو ذہنی دباؤ کے باعث دل کا درد یا پھر دل کا دورہ پڑ چکا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ایک طویل عرصے تک ذہنی دباؤ کا شکار رہنے سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے جس سے خون میں جمنے والے اجزاء پیدا ہونا شروع ہوجاتے ہیں جو کہ شریانوں

کو بند کرسکتے ہیں۔

یونیورسٹی کالج آف لندن کی یہ تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ ذہنی دباؤ ہمارے لیئے کتنا خطرناک ہوسکتا ہے۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ ہم سب کو اس پر غور کرنا چاہیے کہ ہمیں کیا چیز سب سے زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار کرتی ہے تاکہ ہم اس سے نمٹنے اور اپنے اوپر قابو پانے

کے طریقوں پر غور کریں۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر انڈریو سٹیپٹو کا کہنا ہے کہ سالہا سال کا جذباتی و ذہنی دباؤ کمزور افراد میں دل کے دورے کا باعث بن سکتا ہے۔ ’اور اس کا تعلق اس بات

سے ہے کہ لوگ مختلف حالات میں کیسے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہیں‘۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر لوگ مشکل صورتحال میں اپنے جذبات پر قابو پانا سیکھ جائیں تو یہ ان کی صحت کے لیئے بہت اچھا ہے۔
۔۔۔۔

انارمثانےکیلئےمفید

ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انار کے رس سے مثانے کے کینسر کے پھیلنے کی رفتار سست کی جاسکتی ہے۔
مثانے کے کینسر کے لیے جب چوہوں پر تجربہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ان میں کینسر کے پھلینے کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔

انار کا وطن مشرق وسطیٰ ہے۔ اس میں اینٹی اوکسیڈینٹس اور اینٹی انفلیمیٹری ایجنٹس پائے جاتےہیں۔

وسکنسن یونیورسٹی کی یہ تحقیق نیشنل اکیڈمی آف سائنسز نے پیش کی ہے۔ برطانیہ میں مردوں کو مثانے کے کینسر کی تشخیص بہت عام ہے۔

ہرسال تیس ہزار مردوں میں مثانے کے کینسر کی تشخیص کی گئی جبکہ دس ہزار مرد اس سے مر جاتے ہیں۔

اس سے قبل تحقیق سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ انار کا رس چوہوں کی جلد میں پیدا ہونے والے ٹیومر کے خلاف موثر پایاگیا۔

اسرائیل کے سائنسدان نے بتایا ہے کہ انار کے رس کا ایک گلاس روز پینے سے دل کی شریانوں کی بیماری کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔

وسکنسن یونیورسٹی کی ٹیم نے ابتداء میں تحقیق کے لیے تجربہ گاہ میں بنائے گئے انسانی خلیوں (کلچر) پر اس کا تجربہ کیا گیا۔ مثانے کے ان خلیوں میں کینسر تھا۔

دوران تحقیق ٹیم نے دیکھا کہ کس طرح انار کے رس نے کینسر پر قابو پا لیا اور اس کی مقدار زیادہ کرنے سے کینسر مکمل طور پر ختم ہو گیا۔

دی پروسٹیٹ کینسر چیرٹی کے ڈاکٹر کرس ہلیے کا کہنا ہے کہ یہ ایک کارآمد تحقیق ہے۔ ان مردوں کو جو اس مرض میں مبتلا ہو سکتےہیں یا وہ جو اس مرض میں پہلے سے

مبتلا ہیں اس تحقیق سے فائدہ حاصل ہوسکتاہے۔

انہوں نے کہا کہ متوازن غذا کےلیے کھانےمیں پھل اور سبزیاں ضروری ہیں تو کیوں نہ بیماریوں خصوصاً کینسر سے بچاؤ کے لیے انار اور اس کے رس کا استعمال بڑھا دیا

جائے۔


 


 

 

 

 
 
Powered by A+ eSolutions.com
wwww.urdunewsmag.com