Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

 
ايڈيٹـر: علی جاويد نقوی  
وزیراعظم گیلانی کے ساتھ چودھری شجاعت،اسفندیارولی سمیت وفاقی وزراءبھی سپریم کورٹ میں یش ہوئے پاکستان آنے کافیصلہ موخرنہیں کیا،سابق صدرمشرف لندن،منصوراعجازکوپاکستانی ویزادےدیاگیا، صدرآصف علی زرداری کو استثنی حاصل ہے،اعتزازاحسن وزیراعظم یوسف رضاگیلانی سپریم کورٹ میں پیش،عدلیہ کااحترام کرتے ہیں،وزیراعظم گیلانی حکومت مستعفی ہونئے انتخابات کرائے جائیں،نوازشریف

تازہ ترین خبریں:

 
 
 

 

لاہور جسٹس جاوید اقبال کے والدین ڈکیتی میں مزاحمت پر قتل

لاہور (اردونیوزمیگزین رپورٹ/11جنوری 2011) سپریم کورٹ کے جج جسٹس جاوید اقبال کے والد عبدالحمید اور ان کی والدہ آمنہ بیگم کو مبینہ طور پر ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر گھر میں قتل کر دیا گیا، مقتول عبدالحمید پولیس سے ڈی آئی جی کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے تھے اور ان کی زیادہ تر سروس کوئٹہ کی ہی ہے۔ ذرائع کے مطابق مومن لین افسرز کالونی کیولری گراؤنڈ کے مکان نمبر 164 اور گلی نمبر 7 کے رہائشی تھے اور گزشتہ شام ڈاکو ان کے گھر داخل ہوئے اور ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر منہ پر تکیہ رکھ کر قتل کر دیا، واقعہ کی اطلاع ملنے پر اعلی پولیس افسران موقع پر پہنچ گئے۔ پولیس نے گھر کے اردگرد تمام راستوں کو بند کردیا۔ اہل محلہ کے مطابق تین گولیاں چلنے کی آوازیں سنی گئیں۔ مانیٹرنگ سیل کے مطابق سی سی پی او کے مطابق ڈی آئی جی (ر) عبدالحمید اور ان کی اہلیہ کو ڈکیتی میں مزاحمت پر قتل کیا گیا اور پولیس نے گھر کے دو ملازمین کو حراست میں لے لیا۔ واقعہ کی اطلاع پا کر گورنر پنجاب لطیف کھوسہ، وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور اعلیٰ پولیس حکام جسٹس جاوید اقبال کے گھر 164 کیولری گراؤنڈ پہنچ گئے جنہیں جاوید اقبال کو افسوسناک واقعہ کی اطلاع رجسٹرار سپریم کورٹ لاہور رجسٹری نے دی۔ ایس پی کینٹ جواد قمر کے مطابق دونوں گھر میں اکیلے تھے۔ گزشتہ روز رشتہ دار ملنے آئے تو انہوں نے لاشیں دیکھ کر شور مچایا، مقتولین کے جسموں پر تشدد کے نشانات نہیں تھے۔ دوسری جانب صدر آصف زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے جسٹس جاوید اقبال کے والدین کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور وزیراعظم نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے انکوائری رپورٹ 2 دن میں طلب کرلی۔ مزید برآں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے آئی جی پولیس پنجاب کو ملزموں کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ وہ خود اس کیس کی نگرانی کریں۔ ادھر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے آج ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ صدر سپریم کورٹ بار عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ وکلاء جسٹس جاوید اقبال کے دکھ اور غم میں برابر کے شریک ہیں۔قبل ازیں جسٹس جاوید اقبال کے والدین کے قتل کی اطلاع ملتے ہی چیف جسٹس افتخار چوہدری  وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان ، چیئرمین نیب سید دیدار حسین شاہ  چیف الیکشن کمشنر جسٹس حامد علی مرزا اور سپریم کورٹ کے تمام ججز فوری طور پر ججز کالونی میں جسٹس جاوید اقبال کی رہائشگاہ پر پہنچ گئے۔ اس دوران جسٹس جاوید اقبال  چیف جسٹس اور وزیر قانون اور دیگر ججوں کے گلے لگ کر روتے رہے۔ جسٹس جاوید اقبال کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ ان کے والدین کے قتل کا اس وقت پتہ چلا جب ایک مہمان لاہور میں واقع ان کی رہائشگاہ پر ملنے آئے ، جسٹس جاوید اقبال قتل کے واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد رات کو ہی اسلام آباد سے لاہور کیلئے روانہ ہو گئے ، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور جسٹس خلیل الرحمن بھی جسٹس جاوید اقبال کے ہمراہ لاہور کیلئے روانہ ہوئے جسٹس جاوید اقبال کو بذریعہ طیارے کے لاہور کیلئے روانہ ہونا تھا تاہم دھند کی وجہ سے طیارہ نہ اڑ سکا جس کے بعد جسٹس جاوید اقبال سڑک کے ذریعہ ہی لاہور کیلئے روانہ ہو گئے۔ دریں اثناء وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، صدر آصف زرداری، متحدہ قومی مومنٹ کے قائد الطاف حسین ، وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ، مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما قادر خان مندوخیل ایڈوکیٹ اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس جاوید اقبال کے والدین کے قتل پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ اپنے ایک بیان میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے جسٹس جاوید اقبال کے والدین کے قتل پر شدید الفاظ میں مذمت کا اظہار کرتے ہوئے واقعہ کو کھلی دہشتگردی قرار دیا ہے۔ انہوں صدر، وزیراعظم اور وزیرداخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کرکے سخت سزا دی جائے۔ الطاف حسین نے جسٹس جاوید اقبال سمیت مرحوم کے تمام سوگوار لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں مجھ سمیت ایم کیو ایم کے تمام کارکنان آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ الطاف حسین نے دعا کی کہ اللہ تعالی مرحومین کو اپنی جواررحمت میں اعلی مقام عطا فرمائے اور سوگوران کو صبر وجمیل عطا کرے۔


جسٹس جاوید اقبال کے والدین پر قتل سے قبل تشدد کی گیا، پوسٹمارٹم رپورٹ


لاہور…سپریم کورٹ کے جج جسٹس جاوید اقبال کے مقتول والدین کو آج بعد دوپہر لاہور میں سپرد خاک کیا گیا۔دوسری جانب جسٹس جاوید اقبال کے مقتول والدین کے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی ہے ،مقتولین کے جسم پر تشددکے نشانات بھی موجود ہیں۔ذرائع کے مطابق ابتدائی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ مقتولین کی موت چار سے پانچ بجے شام کے درمیان ہوئی ۔جسٹس جاوید اقبال کے مقتول والد عبدالحمید کے ہونٹ پر زخم کانشان ہے جبکہ ان کی والدہ زرینہ بی بی کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اورسینے پر زخم کانشان ہے ۔مقتول عبدالحمید کامعدہ کھانے سے بھراہواتھااوران کی اہلیہ کامعدہ خالی تھا۔ذرائع کے مطابق مقتولین کی فائنل پوسٹ مارٹم رپورٹ پندرہ سے بیس روز کے بعد کیمیکل ایگزامنرجاری کریگا۔ اس سے پہلے ڈیڈ ہاؤس سے ان کی لاشیں جاوید اقبال کے چھوٹے بھائی کرنل( ر) سعید احمد کے گھر111 ای عسکری فائیو میں لے جائیں گے۔ افسوس کیلئے آنیوالوں کیلئے ٹینٹ لگادیئے گئے ہیں اور پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کردی گئی ہے۔جاوید اقبال کے چار بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ جاوید اقبال اپنی اہلیہ کے ہمراہ صبح ساڑھے پانچ بجے اسلام آباد سے لاہور پہنچے تھے۔ ملک عبدالمجید اور ان کی اہلیہ کی لاشیں پیر کی شام پر اسرار حالت میں پائی گئی تھیں جس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور آئی جی پنجاب نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ فارینزک ٹیم اور پولیس کی تفتیشی ٹیموں نے بھی دورہ کیا۔پولیس کے مطابق واقعہ ڈکیتی میں مزا حمت لگتا ہے ۔وزیر قانون کے مطابق جاوید اقبال گمشدہ افراد کے کیس کی سماعت کر رہے تھے یہ سبب بھی ہوسکتا ہے۔کرنل ر یٹائرڈسعید احمد کی درخواست پر تھانہ فیکٹری ایریا میں نامعلوم افراد کے خلاف اقدام قتل کا پرچہ درج کرادیا گیا ہے جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی بن گئی ہے۔



جسٹس جاوید اقبال لاپتہ افراد سمیت کئی اہم کیسز کی سماعت کررہے ہیں


اسلام آباد…سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس جاویداقبال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے مختلف بنچز میں اہم نوعیت کے کئی مقدمات زیر سماعت ہیں ، جسٹس جاوید اقبال چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم ان بنچز میں بھی شامل رہتے ہیں جہاں ایسی ہی اہم نوعیت کے مقدمات پر ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے ۔ جسٹس ریٹائرڈ دیدار شاہ کے بطور چیئرمین نیب تقرر کے خلاف درخواستوں کے مقدمہ کی سماعت جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی چار رکنی بنچ میں جاری ہے ، آج بھی اس مقدمہ کی سماعت مقرر تھی ، حج انتظامات میں کرپشن اسکینڈل کیس کی سماعت کرنیوالے عدالت عظمیٰ کے سات رکنی اسپیشل بنچ میں بھی جسٹس جاوید اقبال شامل ہیں ، پورٹ قاسم اتھارٹی میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے مقدمہ کی سماعت ، جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ کررہا ہے ، سابقہ مشرف دور حکومت سے ملک بھر کے مختلف علاقوں سے لاپتا ہونیوالے افراد کی بازیابی کے مقدمہ کی سماعت ، جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا بنچ کرتا ہے ۔گزشتہ پیر کو اسی مقدمہ کی سماعت میں جسٹس جاویداقبال نے ریمارکس دیئے تھے کہ یہ سال ، لاپتا افراد کی بازیابی کا سال ہوگا، اس بنچ نے لاپتا افراد کے کمیشن کی تجاویز کی روشنی میں حکومت کو کہا تھا کہ خفیہ ایجنسیوں پر کنٹرول سے متعلق قانونی سازی پر غور کیا جائے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی اہلیت کیخلاف دائر مقدمہ کی سماعت ، جسٹس جاویداقبال کی سربراہی میں قائم بنچ نے ہی کرنا ہے،اس کے علاوہ دیوانی اور فوج داری نوعیت کے متعدد مقدمات ، جسٹس جاوید اقبال کی عدالت میں زیر التوا ہیں۔

جسٹس جاوید کے والدین کا قتل آزاد عدلیہ کو پیغام ہے، انورمنصور

کراچی …جسٹس جاوید اقبال کے والدین کے قتل کیخلاف سندھ ہائی کورٹ بار اور ججز کا مشترکہ تعزیتی اجلاس ہوا اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر انور منصور خان نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی عروج پر ہے۔ جسٹس جاوید اقبال کے والدین کا قتل اسی زمرے میں آتاہے ،تعزیتی ریفرنس میں جسٹس مشیر عالم، جسٹس امیر ہانی مسلم ، جسٹس مقبول باقر، جسٹس گلزار احمد ، جسٹس سجاد علی شاہ سمیت دیگر ججزاور وکلا نے شرکت کی ۔تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ بار اور بینچ بلا خوف و خطر انصاف کی فراہمی کی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ جسٹس جاوید اقبال کے غم میں بار اور بینچ برابر کے شریک ہیں تعزیتی ریفرنس میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کی گئی کہ حکومت عوام ، وکلا اور ججز کے تحفظ میں ناکام ہوچکی ہے ۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ایسے اقدام کئے جائینگے عوام ججز اور وکلا کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے ،اورقاتلوں کو گرفتار کرکے سزادی جائے ۔ انور منصورخان نے کہا کہ واقع سے اندازہ ہورہا ہے کہ آزاد عدلیہ کو کوئی پیغام دیا گیا ہے ، ہم دہشت گردی سے ڈرنے والے نہیں اگر کوئی پیغام دینا چاہتا ہے تو یاد رکھے وکلا اور ججز انصاف کی فراہمی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے




وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نےپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لےلیا۔

 
اسلام آباد(اردونیوزمیگزین رپورٹ/6فروری 2011)وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کیا جانے والا حالیہ اضافہ واپس لے لیا ہے،قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہو ئے انہوں نے کہا ہے کہ یکم نومبر سے31دسمبر تک پیٹرولیم مصنوعات کی جو قیمتیں تھیں انہیں قیمتوں کو بحال کرتے ہیں ۔انہوں نے اے این پی کے سربراہ کا حوالہ دیتے ہو ئے ایوان کو بتایا کہ اسفند یار ولی نے پارلیمانی سربراہوں کو قائل کیا کہ اس ایشو پر بات کی جائے اور اس معاملے کو حل کیا جائے لیکن گورنر پنجاب کے قتل کے سوگ میں 3دن کے لئے تمام مصروفیات منسوخ کر دی گئی تھیں اور آج ہی یہ معاملہ حل کر نے کیلئے اقتصادی صورت حال پر بریفنگ دی گئی جس کے بعداس معاملے کے حل کا اعلان کرتے ہیں۔  


جنرل کیانی کو امریکا پر بھروسہ ہے نہ اس کی افغان پالیسی پر ، امریکی اخبار  

  
 
 واشنگٹن(2جنوری 2011) …ایک امریکی اخبارکا کہنا ہے کہ امریکی حکام سمجھتے ہیں نتیجہ جنرل اشفاق پرویز کیانی ہی دے سکتے ہیں لیکن انہیں امریکا پر بھروسہ ہے نہ اس افغان پالیسی پر ، ایسے میں امریکا کو با اعتبار بننے کیلئے ایماندارانہ پیشرفت کرناہوگی۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی حکام نے پاکستان کی طاقتور ترین شخصیت جنرل اشفاق پرویز کیانی کو بے شمار لیکچرز دیے،چائے پی ، گالف کھیلی ،دعوتیں دیں اور ہیلی کاپٹروں میں لیکر بھی گئے مگر وہ انھیں امریکا کی نئی افغان پالیسی پر عمل درآمد کیلئے قائل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔امریکی اخبار اس کی یہ وجہ بتاتاہے کہ جنرل کیانی کو امریکا پر بھروسہ نہیں اور نہ وہ اس کی افغان پالیسی پرعملدرآمد کا کوئی خطرہ مول لینا چاہتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جنرل کیانی نے طالبان اور القاعدہ کیخلاف آپریشن کر کے حیران کن نتائج حاصل کئے جس پر امریکا نے پاکستان کی فوجی امداد بھی بڑھا دی،لیکن وہ شمالی وزیرستان میں زمینی آپریشن نہیں کر رہے۔ انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ جب زیادہ نفری ہوئی تو وہ آپریشن کریں گے جو اس وقت بھارت کی بارڈر پر ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنرل کیانی اب تک کے سب سے زیادہ بھارت مخالف فوجی سربراہ ہیں۔امریکا جن شورش پسندوں کو جلد سے جلد ختم کرناچاہتاہے پاکستان ان عناصر کو بھارت کے ساتھ سرحدوں کی حفاظت کیلئے بالواسطہ استعمال کرتاآیا ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنرل کیانی جنوبی ایشیا میں کشیدگی کے خاتمے پر بات کرتے ہیں جبکہ امریکا ڈرون حملوں کی بات کرتاہے ۔جنرل کیانی کوشبہ ہے کہ ایک بارامریکا نے افغانستان میں اپنے مقاصد حاصل کر لیے تو پاکستان کوجوہری اسلحے سے مسلح بھارت کیخلاف بے یارو مددگارچھوڑدیگا۔ اخبار کے مطابق جنرل کیانی صدرزرداری اور وزیراعظم گیلانی سے زیادہ کھل کر ملکی سکیورٹی کی حکمت پر بات کرتے ہیں ۔انھوں نے صدر اوباما اور امریکی ملٹری کمانڈروں کی براہ راست اپیلوں پر مزاحمت بھی کی ہے۔ ایسے وقت جب اوباما انتظامیہ پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری کا پھل دیکھنا چاہتی ہے ۔بعض عہدیدار سمجھتے ہیں امریکا اب یہ بات تسلیم کرتاہے کہ درخواستیں اور امداد جنرل کیانی کے خیالات تبدیل نہیں کر سکتے ۔امریکی ایڈمرل مائیک مولن اور رچرڈ ہالبروک کی زیادہ ترتفصیلی ملاقاتیں جنرل کیانی کے ساتھ ہی ہوئیں اور دونوں اسی نتیجے پر پہنچے کہ اگر امریکاچاہتاہے کہ جنرل کیانی اس پر اعتبار کریں تو اس کے لیے امریکا کو دہشت گردوں کیخلاف جنگ میں ایماندارانہ پیش رفت کرنی ہوگی ۔یہی نہیں اوباما انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بھلے وہ پاکستان کی کمزور سویلین قیادت کی حمایت کرتی ہے لیکن اصل شخصیت جنرل اشفاق پرویز کیانی ہی ہیں جو نتیجہ دے سکتے ہیں ۔
 


جنداللہ کےکالعدم تنظیموں سےمضبوط رابطے

لاہور(اردونیوزمیگزین رپورٹ)

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ ایران کی کالعدم تنظیم جند اللہ کے پاکستان کی تین کالعدم تنظیموں کے ساتھ مضبوط رابطے ہیں اور یہ تنظیمیں شدت پسندی کے مختلف واقعات میں ملوث ہیں۔

جمعہ(17دسمبر) کو اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ایران نے جند اللہ سے متعلق معلومات پاکستانی حکومت کو دی ہیں اور اس ضمن میں ایران سے اس تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد کے بارے میں مزید شواہد اور معلومات دینے کے بارے میں کہا گیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں جن کالعدم تنظیموں کے ساتھ جند اللہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کا رابطہ ہے اُن میں تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لیبریشن آرمی اور لشکر جھنگوی شامل ہیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ایران نے جند اللہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو گرفتار کیا ہے اور اس ضمن میں پاکستانی حکومت نے ان افراد سے متعلق ایرانی حکام سے مزید معلومات مانگی ہیں۔

شدت پسند خطے میں بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں اور خطے کے ممالک کو ان شدت پسندوں کے مذموم مقاصد کو ناکام بنانے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا
رحمان ملک
انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت نے ایران میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک تحقیقاتی ٹیم بھیجنے کی پیشکش کی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق رحمان ملک کا کہنا تھا کہ شدت پسند خطے میں بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں اور خطے کے ممالک کو ان شدت پسندوں کے مذموم مقاصد کو ناکام بنانے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔

اُنہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک مشترکہ مسئلہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے شدت پسندی کے خلاف جنگ میں توقعات سے بڑھ کر کام کیا ہے اور اس شدت پسندی کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری بھی اس ضمن میں پاکستانی کاوشوں کو تسلیم کرتی ہے۔

سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے بارے میں رحمان ملک کا کہنا تھا کہ اگرچہ عبوری چالان اس مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے تاہم اس قتل کی سازش میں ملوث اصل کرداروں کو جلد بے نقاب کیا جائے گا۔


 

امریکا یا اتحادی فوج کو ملک میں دفاتر قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جنرل کیانی کی زیرصدارت فارمیشن کمانڈز کانفرنس  
 
 
 
راولپنڈی(آن لائن) پاک فوج کے فارمیشن کمانڈرز کا اہم اجلاس جی ایچ کیو راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویزکیانی کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کئی گھنٹے تک جاری رہا اور اس میں پیشہ ورانہ سرگرمیوں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن سرحدوں کی صورتحال سمیت فوج کی تربیت کے اُمورپربات چیت کی گئی۔ آرمی چیف نے کہا کہ دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں سماجی ترقی کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں گے۔ عسکری ذرائع کے مطابق کانفرنس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے خاتمے کے نام پر امریکی یا عالمی اتحادی فوج کو دفاتر قائم کرنے یا زمینی آپریشن کی اجازت نہیں دی جائیگی، پاکستان کا دہشت گردی کیخلاف جنگ میں تعاون باہمی عزت و احترام اور جغرافیائی اور سالمیت کے تحفظ اور دفاع کے اصولوں پر مبنی ہے اس موقع پر پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویزکیانی نے دہشت گردوں کیخلاف کامیاب آپریشن اور پاک فوج کی قربانیوں کی تعریف کی اور کہا کہ ملک کے دفاع کیلئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیاجائیگا۔ دہشتگردی کے مکمل قلع قمع کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔  
 
 
صدر اوباما پاکستان کو ایک ڈراؤنا خواب سمجھتے ہیں، امریکی دستاویز 
 
 
 
اسلام آباد/ منظرعام پر آنیوالی خفیہ امریکی دستاویزات کے مطابق امریکی صدر بارک اوباما ذاتی طورپر پاکستان کو ایک ڈراؤنا خواب سمجھتے ہیں انہیں خدشہ ہے کہ ایک دن جب دنیا نیند سے جاگے گی تو اسے یہ حیران کن خبر سننے کو ملے گی کہ دہشت گردی کیخلاف امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی ملک پر انتہاپسندوں کا قبضہ ہوگیا ہے ۔ امریکی صدر اگرچہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایران کیخلاف جنگ سے اجتناب کے باعث دنیا بھر میں امریکہ کا تاثر ایک کمزور سپرپاور کے طورپرابھررہا ہے لیکن ایران پرحملہ نہ کرنے کاایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ اس اقدام سے پاکستان میں جنگجوؤں کو فروغ ملے گاتاہم ان کو یقین ہے کہ شمالی کوریا سے امریکہ پر تنقید بھی کم ہوگی اور اس سے ایٹمی طاقت کے حصول کے خواہشمند ملکوں کو سبق آموز پیغام بھی ملے گا ۔ وکی لیکس کی جاری کردہ دستاویزات کے مطابق امریکی صدر نے پاکستان کے بارے میں خدشات کا اظہار امریکی سینیٹر کوؤل کیسی اور امریکی کانگریس کی غیر ملکی تعلقات کی کمیٹی کے سربراہ اور رکن کانگریس ایکرمین کے دورہ اسرائیل سے قبل ملاقاتوں میں گزشتہ برس کیا اس وفد نے گزشتہ سال اسرائیلی وزیر دفاع ایہود بارک سے ملاقات کے دوران جب انہیں بتایا کہ ایران پرحملے سے پاکستان کے اعتدال پسند مسلمان بھی برانگیختہ ہوجائیں گے جس سے صورتحال مزید اشتعال انگیز ہوجائے گی توایہود بارک نے یہ تسلیم کیا کہ ایران اور پاکستان مشترکہ سرحدیں رکھتے ہیں تاہم اس اقدام کے سبب پاکستان میں ردعمل سے انکار کیا اس کے برعکس صدر اوباما نے یہ دلیل دی کہ اگرامریکہ شمالی کوریا پر براہ راست حملہ آور ہوجائے تو اس سے ایٹم بم کے حصول کے خواہشمند دیگرملکوں کی حوصلہ شکنی ہوگی ۔ اس پر اسرائیلی وزیر دفاع نے یہ موقف اختیار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ محاذ آرائی سے اجتناب کیا گیاتو اس سے خطے میں امریکہ کو ایک کمزور سپرپاور سمجھاجائے گا ۔  

 


پارلیمنٹ اورمسجد سمیت اہم شخصیات پرخودکش حملے کی سازش ناکام، خودکش حملہ آور اور منصوبہ بنانے والا وکیل گرفتار
 

اسلام آباد /وفاقی پولیس نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس سمیت سرکاری عمارتوں، مسجد اور اہم شخصیات پر حملے کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے خود کش حملہ آور اور منصوبہ بنانے والے وکیل کو گرفتارکرکے ان کے قبضے سے خودکش جیکٹ برآمدکرلیا ہے، ملزموں کا تعلق بنوں سے بتایا گیا ہے۔ واقعے کے بعدوزیر داخلہ رحمن ملک کی زیر صدارت اجلاس میں اسلام آباد کے ریڈ زون میں پبلک ٹرانسپورٹ کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے جبکہ وفاقی دارالحکومت میں داخلے کیلئے شناختی کارڈ لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ان دونوں دہشتگردوں کو وفاقی دارالحکومت میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا اور ان کے قبضے سے خود کش جیکٹس اور دیگر بارودی مواد بھی برآمد ہوا ہے ان دونوں دہشتگردوں کو تفتیش کیلئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیاہے دہشتگردوں کی گرفتاری کی اطلاع فوری طورپر وزیرداخلہ رحمن ملک کو دی گئی جنہوں نے ہنگامی طورپر وزارت داخلہ میں سکیورٹی اداروں کا اجلاس بلایا اور اس اجلاس میں وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کی صورتحال کاجائزہ لیا گیا۔ وزیر داخلہ رحمن ملک کے مطابق پکڑے گئے ایک دہشتگرد مشتاق کا تعلق بنوں سے ہے اور وہ ایف ایٹ ون میں ایک مسجد کو نشانہ بنانا چاہتا تھا جبکہ دوسرا دہشتگرد پارلیمنٹ ہاؤس اور اسکے اردگرد کے علاقے میں کارروائی کرنا چاہتا تھا ۔رینجرز اور ایف سی کی خدمات بھی پارلیمنٹ ہاؤس اور اہم تنصیبات کی حفاظت کیلئے حاصل کی گئیں ہیں۔ دریں اثناء نمائندہ جنگ کے مطابق حملہ آور ایف ایٹ تھری میں واقع سیدنا علی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکہ کرنا چاہتے تھے۔ حملہ آوروں کے نام عدنان خان ولد انعام اللہ اور نعیم اللہ خان ولد عزیز اللہ بتائے جاتے ہیں تھانہ منڈاں بنوں کے رہائشی یہ خودکش حملہ آور بلوچی پٹھان قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ڈی آئی جی آپریشنز بنیامین کو خفیہ اداروں سے اطلاع ملی تھی کہ ایف ایٹ تھری اسٹریٹ 43 اسلام آباد میں واقع مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکہ کیلئے دو خودکش بمبار اسلام آباد میں داخل ہو گئے ہیں ۔جس پر ایک مشترکہ ٹیم تشکیل دی گئی جس نے خفیہ طریقے سے ناکہ بندی کر کے خود حملہ آوروں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا اور انہیں مسجد میں پہنچنے سے پہلے ہی گرفتار کر کے ایک خودکش جیکٹ برآمد کر لی۔ پولیس ذرائع کے مطابق مسجد سیدنا علی میں 2008ء سے امامت کا جھگڑا چلا آ رہا ہے مسجد کمیٹی اور اہل محلہ نے باہمی مشاورت کی بنا پر سابقہ خطیب قاری منیر کو مسجد سے نکال کر امامت قاری صالح محمد کے حوالے کر دی تھی خودکش بمبار گروپ کی ہمدردیاں قاری منیر کے ساتھ تھیں اور اس رنجش کی بنا پر وہ نماز جمعہ کے دوران مسجد میں دھماکا کرنا چاہتے تھے۔ پولیس ذرائع کے مطابق خودکش بمباروں کے قبضہ سے ملنے والی جیکٹ میں 5 کلو گرام دھماکہ خیز بارود بھرا ہوا تھا، ذرائع کے مطابق خودکش حملے کی منصوبہ بندی کرنے والا ملزم نعیم اللہ وکیل ہے جو پہلے بنوں میں پریکٹس کرتا تھا اور پچھلے چند ماہ سے اسلام آباد کچہری میں پریکٹس کر رہا ہے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد سید کلیم امام نے کہا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے دہشت گردی کا ایک اور واقعہ ناکام بنا کر شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ کا فرض ادا کیا۔ انہوں نے افسروں اور جوانوں کے لئے نقد انعام اور تعریفی اسناد کا بھی اعلان کیا ہے۔
 


 میانمار:آنگ سان سوچی 21سال بعد رہا  
 
 

 
 ینگون(اردونیوزمیگزین رپورٹ/13نومبر2010)میانمارمیں حزب اختلاف کی نظربندرہنما آنگ سان سوچی آج نظربندی کی مدت ختم ہونے کے بعد رہا ہوگئیں،21سا ل سے مقید سوچی رہائی کے پروانے پر دستخط ہونے کے بعد آج رہا کردی گئیں۔امن کا نوبل انعام پانے والی آنگ سان سوچی مجموعی طور پر اکیس برس سے عوام سے دور رہیں جن میں سات برس سے وہ اپنے گھر میں نظر بندتھیں۔ ان کے پارٹی کارکن آج صبح ہی سے پارٹی ہیڈکوارٹر کے اندراور باہر بڑی تعداد میں موجود تھے جو ان کی رہائی کے مطالبات کے پوسٹر اٹھائے ہوئے تھے۔ آنگ سان سوچی کی رہائی کی اطلاع ملتے ہی ان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔اس موقع پر پارٹی کارکنوں نے نعرے لگائے۔ آنگ سان سوچی نیلسن منڈیلا کے بعد دوسری عالمی شخصیت ہیں جنہوں نے ایک طویل عرصہ قید و بند کی صعوبتیں گزاریں۔  
 


حکومت ٹیکس اصلاحات اورسرکاری اداروں کی تشکیل نو میں ناکام رہی، مالی خسارہ اور مہنگائی بڑھ رہی ہے، اسٹیٹ بینک



کراچی (اردونیوزمیگزین رپورٹ )اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ معیشت کا بنیادی اسٹرکچر کمزور ہے اور اس میں کوئی بہتری نہیں آئی۔اور یہ کمزوریاں جوں کی توں برقرار ہیں۔جس کے باعث معیشت کو بہتر بنانے کے لئے اہم اصلاحات کا بھرپور طریقے سے آغاز نہیں ہوسکا ہے۔مسلسل اختلافات کی وجہ سے وسیع البنیاد جی ایس ٹی کے ذریعے ٹیکس نیٹ کو ملتوی کرنا پڑا۔کارکردگی بہتر بنانے اور مالیاتی بوجھ کم کرنے کے لئے سرکاری شعبے کے اداروں کی مجوزہ تشکیل نو نہ ہوسکی اور نہ ہی تونائی کے شعبے کے قرضے کا سلسلہ (سرکلر ڈیٹ)یا بجلی کی فراہمی میں نمایاں بہتری لانے میں کوئی پیش رفت ہوسکی۔یہ بات اسٹیٹ بینک کی جانب سے پیرکو جاری کردہ سالانہ رپورٹ2010 میں کہی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال 2009.10 میں جی ڈی پی کی شرح 4.1 فیصد رہی۔تاہم موجودہ مالی سال کے دوران کم پر کم ہوکر 2 سے 3 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔سالانہ گرانی اور جاری حسابات میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بھی سال کے دوران تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیلاب سے آنے والے منفی اثرات نے بشتر موجود مالیاتی ڈھانچے مزید کمزور کردیا ہے۔اور ان کوصیح کرنے کے لئے معاشی انضباط میں بہتری لانے کے ساتھ مسلسل اصلاحات کی ضرورت ہوگی۔اسٹیٹ بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ کہ موجودہ مالی سال کے دوران بشتر معاشی اہداف صاحل نہیں ہوسکیں گے۔جی ڈی پی کا ہدف 4.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ یہ شرح 2 سے 3 فیصد کے درمیان ہوگی جبکہ اسطرح افراط زر کی شرح کا ہدف 9.5 فیصد رکھا گیا ہے جبکہ افراط زر کی شرح 13.5 سے 14.5 فیصد ہوگی۔مالیاتی خسارے کا ہدف4 فیصد کا ہدف کے بجائے خسارہ5 سے 6 فیصد کے درمیان ہوگا۔رواں سال کا خسارے کا ہدف 3.4 فیصد رکھا گیا ہے۔جبکہ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ یہ 3 سے 4 فیصد تک ہوگا۔سمندر پارپاکستانیوں کی جانب سے 9.5 سے 10.5 ارب ڈالر کا زرمبادلہ آئے گا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ حالیہ بدترین سیلاب کے باعث مالی سال 2010-11کے متعدد معاشی اہداف کو ابتداہی میں سنگین دھچکا لگا ہے ۔ حقیقی جی ڈی پی کی نمو 2 سے 3 فیصد رہنے جبکہ سالانہ اوسط گرانی 13.5 سے 14.5 فیصد اور مالیاتی و جاری حسابات کا خسارہ جی ڈی پی کا 5.0 سے 6.0 فیصد اور جی ڈی پی کے 3.0 فیصد سے 4.0 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اہم ترین ساختی مسئلہ کمزور مالیاتی کارکردگی کا تھا۔ مالیاتی خسارہ دوبارہ بڑھ کر جی ڈی پی کا 6.3 فیصد ہو گیا یعنی گذشتہ سال سے 1.1 فیصدی درجے زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2010ء کی مالیاتی کارکردگی کچھ اس طرح رہی کہ مالیاتی اور نیم مالیاتی کارروائیوں میں مسلسل توسیع ہوئی جس کے باعث نجی شعبے کی سرگرمیوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہی، مستقل دو ہندسی گرانی کو تقویت ملی اور مالی سال 10ء (FY10) میں مجموعی سرکاری قرضے بڑھ کر جی ڈی پی کے 69.5 فیصد ہو گئے جبکہ مالی سال 09ء (FY09) میں یہ جی ڈی پی کے 68.7 فیصد تھے۔ملک میں بڑے پیمانے پر آنے والے حالیہ سیلاب کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 11ء (FY11) کے متعدد معاشی اہداف کو سال کی ابتدا میں سنگین دھچکا لگا جب ملک کا بڑا علاقہ طوفانی بارش اور عدیم النظیر سیلاب کی زد میں آگیا۔ اس سیلاب سے ملک کی اہم زرعی اراضی سب سے زیادہ متاثر ہوئی اور خریف کی کھڑی فصلیں کپاس، چاول اور گنا اور مویشیوں کو خاصا نقصان پہنچا۔ معیشت کو انفراسٹرکچر پل، سڑکیں، گیس اور بجلی کے پلانٹس اور بعض صنعتی یونٹوں مثلاً چاول کی ملز اور جننگ فیکٹریز وغیرہ کو وسیع پیمانے پر ہونے والا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔ رسد میں رکاوٹ اور بڑی تعداد میں لوگوں کے بے گھر ہونے سے جو پیداواری نقصانات ہوئے وہ الگ ہیں۔رپورٹ کے مطابق نقصانات کے چیدہ چیدہ پہلوؤں کا طائرانہ جائزہ لینے سے بھی اندازہ ہوجاتا ہے کہ ان کے مضمرات کئی سال تک معیشت کو دباؤ میں رکھیں گے۔لہٰذا یہ واضح ہے کہ مالی سال 11ء (FY11) کی ترجیحات اور اہداف پر نظر ثانی کرنی پڑے گی اور امکان ہے کہ تمام اہم معاشی اظہاریوں میں بگاڑ دیکھا جائے گا۔اس پس منظر میں رپورٹ میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ مالی سال 11ء (FY11) کے دوران حقیقی جی ڈی پی کی نمو 2 سے 3 فیصد رہے گی۔ امکان ہے کہ سالانہ اوسط گرانی 13.5 سے 14.5 فیصد کی حدود میں رہے گی اور مالیاتی خسارہ اور جاری حسابات کا خسارہ بالترتیب جی ڈی پی کا 5.0 سے 6.0 فیصد اور 3.0 فیصد سے 4.0 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ مزید برآں رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ ترسیلات زر 9.5 بلین ڈالر سے 10.5 بلین ڈالر کے درمیان رہنے اور برآمدات اور درآمدات بالترتیب 20 بلین ڈالر سے 21 بلین ڈالر اور 34 بلین ڈالر سے 35 بلین ڈالر کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق سیلاب کے اثرات نے مالی سال 11ء (FY11) میں گرانی کی ان توقعات کو تقویت دی ہے۔ اگست 2010ء میں گرانی بلحاظ صارف اشاریہ قیمت کے غذائی جز میں 15.6 فیصد کا سال بہ سال اضافہ شامل تھا۔ تاہم اسٹیٹ بینک کے تخمینوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیلاب کی بنا پر آنے والے رسدی دھچکے کا براہ راست اثر محدود رہنے کا امکان ہے۔ مثال کے طور پر جب رسد بہتر ہوگی اور تازہ فصلیںً سبزیاں بازار میں آئیں گی تو سیلاب/بارش کے نقصانات اور چھوٹی فصلوں کی قلت کے اثرات 2 سے 3 ماہ سے زیادہ برقرار رہنے کی توقع نہیں۔ اسی طرح ملکی نرخوں میں اضافہ عالمی قیمتوں کی پست سطح کی وجہ سے رک جائے گا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ڈیری مصنوعات کی قیمتوں میں، ملکی و بیرونی طلب کے مسلسل بڑھنے کی وجہ سے سیلاب سے پہلے ہی طویل مدتی اضافہ ہورہا تھا۔ سیلاب میں گلہ بانی کے نقصانات سے یہ بڑھتا ہوا رجحان سنگین تر ہوجائے گا لیکن کسی حد تک۔
 


پاک امریکا اسٹرٹیجک مذاکرات کا تیسرا دور آج سے شروع ہورہا ہے


واشنگٹن(اردونیوزمیگزین رپورٹ/20اکتوبر2010) پاکستان اور امریکا کے درمیان اسٹرٹیجک مذاکرات کا تیسرا اور اہم دور آج سے واشنگٹن میں شروع ہورہا ہے۔ امریکی حکام نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کا دباؤ بڑھانے کا عندیہ دیدیا۔ پاکستان کو پانچ ارب ڈالر تک کے سیکیورٹی پیکیج کی پیشکش کی بھی جاسکتی ہے۔مذاکرات میں شرکت کیلئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ، وزیر دفاع احمد مختار، وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، وزیر پانی و بجلی راجا پرویز اشرف اور وزیر زراعت نذر گوندل کے علاوہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور دیگر حکام بھی واشنگٹن پہنچ چکے ہیں۔اسٹرٹیجک ڈائیلاگ کے سلسلے میں تیرہ ورکنگ گروپ تشکیل دیے گئے ہیں۔ پاکستانی وفد میں اندرونی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ اور مذاکرات کیلئے تیاریاں مکمل ہیں۔ پاکستانی اور امریکی وزرائے خارجہ ڈائیلاگ کی مشترکا صدارت کرینگے۔امریکی ٹیم میں ہلیری کلنٹن کے علاوہ وزیر دفاع رابرٹ گیٹس، افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن اور نئے امریکی سفیر کیمرون منٹر بھی بات چیت میں شریک ہونگے۔پاکستانی وفد بھارت کی طرز پر سویلین جوہری معاہدے، امریکی منڈیوں تک رسائی، توانائی بحران، نیٹو فورسز کی پاکستانی حدود کی خلاف ورزیوں، افغان طالبان سے مفاہمت، ڈاکٹر عافیہ، کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں واجب الادا ڈھائی ارب ڈالر کی جلد ادائیگی اور امریکا میں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کیلئے Temporary Protected Status دینے کے معاملات اٹھائے گا۔ پاکستان میں بدترین سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کیلئے امداد بھی اہم موضوع ہوگا۔ اور اس سلسلے میں کیری لوگر کی ترجیحات کے ازسرِ نو تعین پر زور دیا جائیگا۔ذرائع کے مطابق پاکستان کو دو سے پانچ ارب ڈالر کے سیکیورٹی پیکیج دینے کا معاملہ بھی اسٹرٹیجک ڈائیلاگ میں زیرِ غور آئیگا۔ اس سلسلے میں سینیٹر جان کیری اگلے چند روز میں سینیٹ میں مسودہ قانون متعارف کراسکتے ہیں۔ کیری کے دفتر نے پیکیج کے اعدادوشمار پر بات کرنے سے گریز کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اس سلسلے میں کوششیں جاری ہیں۔ اور اگلے چند روز میں کوئی اعلان سامنے آسکتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کیلیے امریکا کے نائب خصوصی نمائندے فرینک روگیرو نے بھی اِس کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو کئی برسوں پر مشتمل پیکیج کے فریم ورک پر بات ہوگی۔ تاکہ دہشتگردوں سے نمٹنے کیلئے اِسکی صلاحیت بڑھ سکے۔ روگیرو کا کہنا تھا کہ سویلین نیوکلیر ڈیل پر بات نہیں ہوگی۔ تاہم پاکستان پر شمالی وزیرستان میں آپریشن اور حقانی نیٹ ورک کیخلاف موثر کارروائی زور دیا جائیگا۔


امریکہ کو ہمارے ساتھ بھی بھارتی طرز کا جوہری تعاون کرنا ہوگا، پاکستان



واشنگٹن/ کیمبرج ( اردونیوزمیگزین رپورٹ ) پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے ساتھ بھارتی طرز کا سول جوہری تعاون کرنا ہوگا، تاریخ کے اس اہم دوراہے پر ہمیں ایڈ نہیں بلکہ ٹریڈ کی ضرورت ہے، ہماری خود مختاری کا احترام کیا جائے، سرحدی خلاف ورزی اور ڈرون حملوں سے پاک ،امریکہ تعلقات دو قدم پیچھے چلے گئے ، امریکہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرے ، ایران کے پاس جوہری ہتھیار رکھنے کا کوئی جواز نہیں تاہم سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کاحصول اس کاحق ہے ۔تفصیلات کے مطابق امریکہ کی ہاورڈ یونیورسٹی میں لیکچرکے دوران شاہ محمودقریشی نے کہاکہ پاکستان اس وقت شدت پسندی اور سیلاب سمیت کئی مسائل کا شکار ہے، ایسے میں اگر ہماری مصنوعات کو امریکی اور یورپی منڈیوں تک رسائی ملے گی توپاکستانی عوام کا حکومت پر اعتماد بڑھے گا ۔انہوں نے کہاکہ اگر پاکستان میں روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں گے تو نوجوانوں کو شدت پسندوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکا جاسکے گا ۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ میں امریکہ کے شراکت کے ساتھ ساتھ اپنے قومی مفادات کا تحفظ بھی کرے گا۔ انہوں نے امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ فری ٹریڈ ٹریٹی منظور کرے۔ شاہ محمود قریشی نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ امریکی ڈرون حملے پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات ابھار رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اگر کیری لوگر بل اور سیلاب زدگان کی امداد سے پاک، امریکہ تعلقات ایک قدم آگے بڑھتے ہیں تو ڈرون حملوں اور سرحدی خلا ف ورزی کی وجہ سے دو قدم پیچھے چلے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان بھارت کے ساتھ سمیت تمام تنازعات کا حل چاہتا ہے اور امریکہ کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرنا چا ہئے۔ انہوں نے کہا کہ بغیر پائلٹ جاسوس طیاروں کے حملوں سے جو کسر رہ جاتی تھی وہ پاکستانی چیک پوسٹ پر ہیلی کاپٹر حملے نے پوری کر دی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو پاکستان کے ساتھ مفت تجارتی معاہدہ اور بھارتی طرز کا سول نیوکلیئر تعاون کرنا ہوگا اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تسلیم کرتا ہے کہ ایران کو سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے استعمال کا حق ہے تاہم ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں ایک اور بحران نہیں چاہتا ایران کے پاس جوہری ہتھیار بنانے کیلئے کوئی دلیل نہیں ایران کو کسی ملک سے خطرہ نہیں تاہم سول مقاصد کے لئے نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا استعمال اس کا حق ہے ، ایران، امریکہ سے تعلقات کی بہتری کے لئے آگے بڑھے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کا معاملہ ایران سے مختلف ہے، بھارت پاکستان کیلئے بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی ہم منصب سے ملاقات میں انہوں نے امریکی صدر اوباما کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ ایران این پی ٹی پر دستخط کرچکا ہے جس پر پاکستان نے کبھی دستخط نہیں کئے ۔واضح رہے کہ شاہ محمود قریشی پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹرٹیجک ڈائیلاگ کے تیسرے دور میں شرکت کیلئے امریکہ کے دورے پر ہیں



جنرل مشرف نے12اکتوبر1999ءکوبغاوت کی ناکامی کی صورت میں ملک سےبھاگنےکابندوبست کر رکھا تھا۔جنرل ضیاءالدین بٹ

پاکستان کے برطرف کیے جانے والے آرمی چیف جنرل ضیاء الدین بٹ کا کہنا ہے کہ جنرل پرویز مشرف ہمیشہ فرار کا راستہ نگاہ میں رکھتے تھے اور بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو بغاوت کی ناکامی کی صورت میں انہوں نے ملک سے بھاگنے کا بندوبست کر رکھا تھا۔

بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو میں ضیاء الدین بٹ نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف ہمیشہ محفوظ راستہ اپنے لیے تیار رکھتے تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ بغاوت کی ناکامی کی صورت میں کسی دوسرے ملک بھاگ جائیں اور وہاں جاکر سیاسی پناہ لے لیں۔

ضیاء الدین بٹ نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف جس طیارے میں سوار تھے اس کی اس میں وافر مقدار میں ایندھن موجود تھا اور جان بوجھ کر اس وقت تک جہاز کو نیچے نہیں اتارا گیا جب تک بغارت کامیاب نہیں ہوگئی۔

گیارہ سال پہلے بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس واقعہ کے اہم کردار جنرل ضیاالدین بٹ تھے جنہیں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے مشرف کو ہٹا کر فوجی سربراہ مقرر کیا تھا۔

تاہم جنرل پرویز مشرف کی فوجی کارروائی کے نتیجے میں جہاں نواز شریف کی حکومت ختم ہوئی وہاں ہی جنرل ضیاءالدین بٹ کو برطرف کرکے انہیں دو سال تک قیدِ تنہائی میں رکھا گیا۔

جنرل ضیاء الدین بٹ اب وزیر اعلیْ پنجاب شہباز شریف کی انسپکشن ٹیم کے سربراہ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

جنرل ضیاء الدین کے بقول جنرل پرویز مشرف کے آرمی چیف بننے کے بعد ہی پہلے دن سے یہ نیت تھی کہ وہ اقتدار میں آئیں لیکن کارگل میں پسپائی کے بعد انہوں نے اپنے خلاف کسی ممکنہ کارروائی سے بچنے کے لیے خود حکومت میں آنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور شروع کردیا تھا۔

ان کے بقول جس وقت وزیر اعظم ہاؤس پر فوج کے جوانوں نے چڑھائی شروع کی تو وہ خود وزیر اعظم ہاؤس سے باہر آگئے اور یہ کوشش کی کہ فوج کی آپس میں فائرنگ نہ ہو کیونکہ وزیر اعظم کے محافظ زیادہ تربیت یافتہ تھے جبکہ دوسری طرف نئے بھرتی ہونے والے سپاہی تھے۔جب جنرل ضیا الدین بٹ سے یہ پوچھا گیا کہ آرمی چیف مقرر ہونے کے بعد کیا انہیں برطرف ہونے والے فوجی جنرل پرویز مشرف کے ردعمل کا اندازہ تھا اور انہوں نے اس کے تدراک کے لیے اقدامات کیوں نہیں کیے تو جنرل ضیالدین بٹ نے کہا کہ پاکستان میں پہلے بھی فوجی بغاوت ہوئی ہے اور اس میں مزاحمت اس لیے نہیں کی گئی کہ کہیں فوج آپس میں نہ لڑ پڑے۔

ان کے بقول جس وقت وزیر اعظم ہاؤس پر فوج کے جوانوں نے چڑھائی شروع کی تو وہ خود وزیر اعظم ہاؤس سے باہر آگئے اور یہ کوشش کی کہ فوج کی آپس میں فائرنگ نہ ہو کیونکہ وزیر اعظم کے محافظ زیادہ تربیت یافتہ تھے جبکہ دوسری طرف نئے بھرتی ہونے والے سپاہی تھے۔

جنرل ضیاء الدین بٹ کا کہنا ہے کہ انہوں نے موقع پر یہ ہدایت کی کہ کوئی گولی نہیں چلائے گا اور بقول ان کے انہوں نے خود وزیر اعظم کے محافظوں کو غیر مسلح کروایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر فوج آپس میں بٹ جاتی تو پھر شائد ملک ہی باقی نہ رہتا اور اسی وجہ سے کوئی مزاحمت نہیں کی گئی۔ جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ آپ کو تو جمہوریت بچانے کے لیے آرمی چیف مقرر کیا گیا تھا لیکن آپ نے فوج کا ساتھ دیا تو جنرل ضیاء نے کہا کہ جمہوریت کی بساط تو پہلے کئی بار لیپٹی گئی لیکن اس کے باوجود جمہوریت ملک میں بحالی ہوئی جبکہ میں بغاوت ہوجائے تو وہ ملک کے لیے خطر ناک ہوگا۔

برطرف سابق آرمی چیف ضیاالدین کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی طرف سے انہیں اچانک آرمی چیف بنانے کافیصلہ خود ان کے لیے بھی حیرت سے کم نہیں تھا کیونکہ آرمی چیف کے عہدے پر ترقی کے بعد فوری طور ان کو جو بیچ لگائے گئے وہ ان کے ایک ماتحت فوجی افسر کے تھے ۔

جنرل ضیاء الدین بٹ نے بتایا کہ ایک بریگیڈیر نے اپنے بیچ اتار کر دیے اور ماچس کی تیلی مدد سے وہ بیچ ان کی وردی پر لگائے گئے کیونکہ اس کا کوئی کلپ نہیں تھا۔

جنرل ضیا الدین بٹ نے بتایا کہ انہوں نے’اِن دی لائن آف ڈیوٹی‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی ہے جو اس سال کے اختتام پر لندن سے شائع ہوگی۔انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا شریف خاندان سے کوئی تعلق نہیں تھا اور پہلے آرمی چیف کے عہدے پر ان کے نام پر غور کیا گیا تھا۔

ضیا الدین بٹ نے کہا کہ بارہ اکتوبر کو انہیں حراست میں لے لیا گیا اور دو برس تک انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا اور اس دوران جنرل محمود نے پہلی رات ہی یہ پیغام دیا کہ وہ جنرل مشرف کے ساتھ مل جائیں لیکن بقول ان کے انہوں نے اس پیشکش کو مسترد کردیا۔

جنرل ضیا الدین نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ ان کو کورٹ مارشل کیا ہوا تھا انہوں نے بتایا کہ ان کو ایک انتظامی کارروائی کے تحت ملازمت سے برطرف کیا گیا اور ان کی تمام مراعات ختم کردی گئیں اور ان کی جائیدار ضبط کرلی گئی۔

انہوں نے کہا کہ انہیں آرمی چیف تو اس وقت کے صدر رفیق تارڑ کے دستخطوں سے لگایا گیا لیکن ان کو عہدے سے ہٹانے کے لیے رفیق تارڑ نے دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں آرمی چیف تو اس وقت کے صدر رفیق تارڑ کے دستخطوں سے لگایا گیا لیکن ان کو عہدے سے ہٹانے کے لیے رفیق تارڑ نے دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ کہ اپنے بچوں کی پڑھائی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے انہیں پھر انجنئیرنگ کے شعبے میں ملازمت کرنی پڑی اور اسی وجہ سے اب انہوں نے پنجاب حکومت کی طرف سے ملازمت کی پیشکش کو قبول کیا۔

جنرل پرویز مشرف کے سیاسی مستقبل کے بارے میں جنرل ضیاء الدین کہتے ہیں کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف بہت جذباتی فیصلے کرتے ہیں اور ان کے خیال میں جنرل مشرف ایک غلط فیصلہ کربیٹھے۔ان کے بقول جو لوگ جنرل مشرف کو یہ کہہ رہے ہیں وہ کہ وہ مقبول لیڈر ہیں وہ بھی ان کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کل پرویز مشرف یہ کہیں گے کہ ان کو دھکا کس نے دیا ہے۔

جنرل ضیاء الدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی برطرفی کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے تاہم بقول ان کے حکومت چاہے تو وہ تمام مراعات بحال ہوسکتی ہیں جو ان کی برطرفی کے بعد واپس لے لی گئیں تھیں۔

جنرل ضیا الدین بٹ نے بتایا کہ انہوں نے ’اِن دی لائن آف ڈیوٹی‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی ہے جو اس سال کے اختتام پر لندن سے شائع ہوگی۔

بشکریہ بی بی سی اردو


چارج شیٹ کی کوئی وقعت نہیں ، ن لیگ کے لیڈر کاغذی شیر ہیں، مشرف




کیرولینا (اردونیوزمیگزین رپورٹ ) سابق صدر جنرل ( ر) پرویز مشرف نے پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے اپنے اوپر لگائی گئی چارج شیٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے لیڈر کاغذی شیر ہیں اور ان کی کسی چارج شیٹ کی کوئی وقعت نہیں۔ گرین بورو نارتھ کیرولینا میں آل پاکستان مسلم لیگ کے ورکرز کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مشرف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صرف40 فیصد عوام انتخابی عمل میں حصہ لیتے ہیں جبکہ پاکستانی عوام

خالد خواجہ کاقتل
 
 
Powered by A+ eSolutions.com
wwww.urdunewsmag.com