پاکستان اورامریکا میں کشیدگی دورہوجائے گی،جنرل پیٹریاس
واشنگٹن(17اگست 2011)افغانستان میں امریکی اورنیٹو فوج کے کمانڈرجنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے کہاہے کہ پاکستان اورامریکا کے درمیان ریمنڈ ڈیوس کے معاملے سے پیدا ہونے والا تناؤ دور ہوجائے گا۔ واشنگٹن میں کانگریس کی آرمڈ سروسزکمیٹی سے خطاب میں جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے اس اعتماد کااظہارکیا کہ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے کی وجہ سے پاکستان اورامریکا میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی جلد ختم ہوجائے گی۔ان کا کہنا تھا کہپاکستان اورامریکا کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں اضافہ ہوگا۔انھوں نے بتایا کہ افغانستان کے سرحدی علاقوں میں پاکستان ، افغانستان اور ایساف فورسز میں تعاون بڑھا ہے اوراب یہ جس سطح پر ہے ایسا پہلے کبھی نہیں تھا۔
ناموس رسالت قانون منسوخ ہونا چاہئے، انتہاپسند پاکستانی حکومت کا تختہ الٹنے پر تلے ہیں، امریکی اخبار

نیو یارک (اردونیوزمیگزین رپورٹ/6مارچ2011) امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنے اداریئے میں لکھا ہے کہ پاکستان کے اقلیتی امور کے وزیر شہباز بھٹی کو اس لئے قتل کیا گیا ہے کیونکہ وہ مذہبی رواداری کے حامی تھے اور منافرت و انتہا پسندی نے جس طرح پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے یہ تشویشناک ہے ، سلمان تاثیر ناموس رسالت کے جس قانون میں اصلاح کے حامی تھے اسے منسوخ کردینا چاہئے، انتہا پسند پاکستانی حکومت کا تختہ الٹنے پر تلے ہوئے ہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے قتل پر اداریہ لکھا ہے جس کاعنوان ہے ’ایک اور جرأتمند شخص ہلاک‘۔ اخبار نے کہا کہ انہیں اس لئے قتل کیا گیا ہے کیونکہ وہ رواداری کے حامی تھے، پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کی طرح شہباز بھٹی پاکستان کے قانون ناموس رسالت میں اصلاح کے حامی تھے جسے منسوخ کردینا چاہیے۔ نیو یارک ٹائمز لکھتا ہے کہ انتہا پسند پاکستان کی حکومت کا تختہ الٹنے پر تلے ہوئے ہیں۔ سلمان تاثیر کے قاتل کو قدامت پسند جماعتوں کے جلسوں میں ہیرو کا درجہ دیا گیا اور اس کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ قاتل کے حامیوں میں وکیل شامل تھے جن سے قانون کی بالادستی کے دفاع کی توقع کی جاتی ہے۔ پاکستانی پارلیمنٹ نے بھی قتل کی مذمت کی ہے اور مذہبی علماء کی پاکستانی کونسل نے اس قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے پیغمبر اسلام ﷺ کی تعلیمات کے منافی قرار دیا ہے۔اخبار کے نزدیک یہ پیشرفت ضرور ہے لیکن کافی نہیں۔ اخبار نے پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس سروسز کو مشورہ دیا ہے کہ وہ شہباز بھٹی کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔ صدر آصف زرداری اور دوسرے عہدے داروں کو تحفظ فراہم کر یں اور ایسی تمام تنظیموں سے قطع تعلق کریں جو قوم کے صریح دشمن ہیں۔ اخبار کہتا ہے کہ پاکستان کی لاغر جمہوریت کے پنپنے کا کوئی امکان نہیں اگر رواداری کا پرچار کرنے والے کے لیے موت کی سزا یقینی ہوجائے۔
پاکستان عالمی قوانین کی پابندی نہیں کررہا، ڈیوس کو استثنا ملنا چاہیے،امریکا

واشنگٹن. . . . . .. . ترجمان امریکی دفتر خارجہ پی جے کراؤلی کا کہنا ہے کہ پاکستان عالمی قوانین کی پابندی نہیں کررہا ، عالمی قوانین کے تحت ریمنڈ ڈیوس کو استثنا ملنا چاہیے ، ریمنڈ کے معاملے پر پاکستان سے تعلقات متاثر نہیں ہونگے۔امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان پی جے کراؤلی نے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قوانین کی پابندی نہیں کررہا۔ ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنا حاصل ہے اور اس کا مقدمہ عدالتوں میں نہیں چل سکتا۔ایک سوال پر ترجمان کا کہنا تھا کہ کنٹریکٹ ملازمین کو بھی سفارتی استثنا دیا جا سکتا ہے ۔کراؤلی نے کہاکہ سینیٹر جان کیری چیرمین خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیرمین کے طور پر پاکستان گئے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں امریکا کی مدد کرسکتے ہیں۔ریمنڈ کے معاملے پر پاکستان کے ساتھ تعلقات متاثر نہیں ہونگے ۔ آج ریمنڈ ڈیوس کیس کی سماعت ہے اور عدالت میں یہ پٹیشن پیش کریں گے کہ اس کو سفارتی استثنا حاصل ہے ۔
ریمنڈ کو رہا نہ کیا تو پاکستان کی امداد روک سکتے ہیں ، امریکی ارکان کانگریس

واشنگٹن (9فروری 2011) . .. . ... .. امریکا کے ارکان کانگریس نے دھمکی دی ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کو رہا نہ کیا گیا تو پاکستان کی امداد روکی جاسکتی ہے ۔ ایوان نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمینBuck McKeon نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ پاکستانی رہنماؤں کو آگاہ کردیا گیا ہے کہ کانگریس بجٹ پر کام کررہی ہے ۔ اُن سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان کی امداد خطرے میں پڑسکتی ہے تو بک مک کیون کا کہنا تھا کہ ایسا ہوسکتا ہے ۔ ایوان نمائندگان کے ایک اور رکن جان کلائن کا کہنا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کی عدم رہائی کی صورت میں پاکستان کی امداد روکنے کے لئے بھرپور حمایت حاصل ہوگی ۔
مشرق وسطیٰ میں بدلتی صورتحال کی اطلاع نہ دینے پر اوبامہ کی ایجنسیوں پر تنقید
.jpg)
واشنگٹن 6فروری 2011 . . . . . صدر براک اوباما نے مشرق وسطیٰ میں تیزی سے پھیلتے انتشار کے بارے میں پیشگی اطلاع اور تجزیہ نہ دینے پر امریکا کی خفیہ ایجنسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق موجودہ اور سابق عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صدر اوباما خفیہ امریکی ایجنسیوں کی مشرق وسطیٰ میں کارکردگی سے خوش نہیں ۔ ایک عہدیدار نے امریکی اخبار کو بتایا کہ تیونس میں تیزی سے بدلتی صورتحال نے کس طرح زین العابدین بن علی کا تختہ الٹ دیا جسے انٹیلی جنس ایجنسیاں جج نہ کرسکیں ۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق تیونس میں مظاہرے شروع ہونے کے بعد رپورٹ دی گئی تھی کہ صدر زین العابدین کی سیکیورٹی فورسز ان کی حکومت کا دفاع کریں گی لیکن ہوا اس کے برعکس ۔ امریکی اخبار کے مطابق قاہرہ میں تیزی سے بدلتی صورتحال پر بھی سی آئی اے کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی کیپٹل ہل میں شنوائی ہوچکی ہے ۔ سی آئی اے کے بعض عہدیداروں کا کہنا ہے کہ چند سالوں کے دوران خفیہ ایجنسی کے پیراملٹری آپریشنز میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے ایجنسی عالمی سطح پر کسی پیشگی صورتحال کا تجزیہ وہائٹ ہاوس اور کانگریس کو پیش نہیں کرپارہی ۔
صدر زرداری اور اوباما کی ملاقات، اسٹریٹیجک تعلقات پر تبادلہ خیال
.gif)
واشنگٹن(14جنوری 2011)…واشنگٹن میں صدر آصف زرداری اور امریکی صدر براک اوباما کے درمیان ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں صدر زرداری نے امریکی صدر کے ساتھ ملک اور خطے کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا، امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن بھی ملاقات میں شریک تھیں۔ملاقات میں پاکستان میں معاشی اصلاحات، پاک امریکا اسٹریٹجک شراکت سمیت گڈ گورننس اور پاکستان میں جمہوریت کے لیے امریکی حمایت پر بات چیت ہوئی،ملاقات کے دوران پاک امریکااسٹریٹیجک تعاون کے ساتھ ساتھ افغان سرحدکے مسئلے پربھی تبادلہ خیال کیا گیا۔پاک امریکاصدور کی ملاقات میں دہشت گردی کے خاتمے پرگفتگوہوئی اورپاک امریکاتعلقات کاجائزہ لیاگیا ۔پاکستان کے سفیرحسین حقانی صدرزرداری کے ہمراہ تھے جبکہ اوباما کے ہمراہ جنرل ڈگلس، جان برنن اور ٹونی لون بھی ملاقات میں شریک تھے۔
پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے، رچرڈ ہالبروک
.gif)
واشنگٹن(اردونیوزمیگزین رپورٹ ) پاکستان اورافغانستان کیلئے امریکی خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک نے پاک، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کو سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ قراردیتے ہوئے کہاہے کہ اس معاہدے سے پاک، افغان تعلقات مزید مستحکم ہوں گے، اگر بھارت نہ ہوتا تویہ معاہدہ ناممکن تھا ،اس لئے اس بارے میں اہم کردار ادا کرنے پر اس کے مشکور ہیں ، مستقبل میں اگر پاکستان اور بھارت نے دو طرفہ تجارتی معاہدہ کیا تو افغانستان ایک فریق کے طور پر اس میں شامل ہوسکتا ہے، پاک، بھارت دوطرفہ تجارتی معاہدے کے حوالے سے کوئی مداخلت نہیں کریں گے ۔ہفتے کو افغانستان کے دورے سے واپسی پر امریکی محکمہ خارجہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رچرڈ ہالبروک نے کابل میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر دستخطوں کی تعریف کی۔انہوں نے کہاکہ ایسا معاہدہ 40 سال کے بعد ہوا ہے دوطرفہ تجارتی معاہدے میں اعتراضات نہ کرنے پر ہم بھارتی حکومت کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے قیام کے بعد یہ سب سے اہم معاہدہ ہے جو دونوں پڑوسی ملکوں نے کیا ہے یہ معاہدہ تجارت سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے جوخطے میں ہمارے مقاصد میں سے ایک اہم قدم ہے ۔ انہوں نے کہاکہ 1965ء میں پاکستان ،بھارت اور افغانستان نے جو معاہدہ کیا تھا اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا ۔ انہوں نے کہا کہ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے سے قبل نئی دہلی گیا اور بھارتی حکام سے بات چیت کی وزیراعظم من موہن سنگھ سے بھی ملا اور انہیں معاہدے کے حوالے سے آگاہ کیا۔ انہو ں نے کہاکہ فی الوقت سہ فریقی معاہدے کے حالات نہیں تاہم اگر مستقبل میں پاکستان اور بھارت نے دو طرفہ تجارتی معاہدہ کیا تو افغانستان ایک فریق کے طور پر اس میں شامل ہوسکتا ہے، پاکستان اور بھارت کے دوطرفہ تجارتی معاہد ہ دونوں ملکوں کا باہمی معاملہ ہے ہم اس حوالے سے کوئی مداخلت نہیں کریں گے۔
مشتبہ کارگو پیکیج :برطانیہ اور امریکہ کے ہوائی اڈوں پر سیکورٹی ہائی الرٹ

لندن (اردونیوزمیگزین رپورٹ/30اکتوبر2010 ) برطانیہ کی ایک ایئرپورٹ پر ایک مشتبہ کارگو پیکیج کی اطلاعات کے بعد برطانیہ اور امریکہ کے ہوائی اڈوں پر سیکورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ جمعہ کو ساڑھے تین بجے پیکیج کی اطلاع کے بعد ایسٹ مڈلینڈ کے ہوائی اڈوں کے بعض حصوں کا مکمل طور پر محاصرہ کر لیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ امریکہ کے نیوجرسی اور فلاڈلفیا ایئرپورٹس پر کارگو جہازوں میں تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ امریکہ میں ہوائی جہازوں کو دور دراز علاقوں میں لے جایا گیا ہے جن کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ امریکی ٹیلی ویژن سی این این نے غیر مصدقہ اطلاعات کے حوالے سے بتایا ہے کہ یمن سے شکاگو جانے والی یو پی ایس فلائٹ جب برطانیہ میں رکی تو اس میں سے امپرووائزڈ ایکسپلوسو ڈیوائس (دھماکہ خیز مواد پر مشتمل ڈیوائس) برآمد ہوئی۔ سی این این کا کہنا ہے کہ لندن میں ان اطلاعات پر الرٹ کیا گیا کہ ایک ”انک ٹولز کاٹرگ“ کو بم میں تبدیل کیا گیا ہے تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دھماکہ خیز مواد موجود نہیں ہے۔
یمن پارسل سے متعلق اطلاع سعودی عرب نے دی ،وائٹ ہاؤس

واشنگٹن ... دھماکا خیز مواد سے بھرے دو پارسل یمن سے امریکا بھیجنے کی کوشش ناکام بنائے جانے کے بعد امریکا نے کہا ہے کہ ان مشتبہ پیکٹس کی مخبری سعودی عرب نے کی تھی۔واشنگٹن میں انسداد دہشت گردی کے متعلق وائٹ ہاؤس کے مشیر جان برینن نے بتایا کہ سعودی عرب نے اس بات کی اطلاع دی تھی کہ یمن کی جانب سے ایک بڑے خطرے کا سامنا ہے،انھوں نے کہا کہ خطرے کی نشاندہی پر امریکا سعودی حکومت کا شکرگزار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کے امریکی اداروں کی کوششوں کے علاوہ برطانیہ،متحدہ عرب امارات اور دیگر دوستوں اور ساتھیوں نے بھی دہشت گردی کی سازش ناکام بنانے میں تعاون کیا۔
امریکا اوربرطانیہ نے یمن سے آنیوالے پارسلوں کی ترسیل روک دی
واشنگٹن(اردونیوزمیگزین) دھماکا خیز مواد سے بھرے دو پارسل یمن سے امریکا بھیجنے کی کوشش ناکام بنائے جانے کے بعد امریکا اوربرطانیہ نے یمن سے آنے والے پارسلوں کی ترسیل روک دی اورامریکی و برطانوی ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبس کے مطابق گزشتہ رات یمن کی دوکارگو پروازیں دبئی اور لندن آئی تھیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان پروازوں سے دھماکا خیز مواد سے بھرے پارسل شکاگو میں دو یہودی عبادت خانوں کے پتے پر بھیجے گئے تھے۔ سی این این کے مطابق دھماکا خیز مواد انک کارٹرج میں ڈالا گیا تھا۔ ادھر غیر ملکی خبرایجنسی نے ایف بی آئی کے حوالے سے بتایا کہ پارسل سے کوئی دھماکا خیز مواد نہیں ملا۔ بی بی سی اور اسکائے نیوز کے مطابق پارسل میں بم تو نہیں مگر خطرناک مواد ضرور تھا۔ ان واقعات کے بعد یمن سے براستہ دبئی آنے والی ایمریٹس کی کارگو پرواز کوامریکی لڑاکا طیاروں کے گھیرے میں جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ پر اتارا گیا تھا۔ ایف بی آئی ترجمان کے مطابق طیارے سے کوئی مشتبہ چیز نہیں ملی۔ادھر یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہے اور یمنی حکومت امریکا سے مکمل تعاون کر رہی ہے۔ایک امریکی عہدیدار اور بعض تجزیہ کاروں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ مشتبہ پارسل سیکیورٹی حکام کی کارکردگی جانچنے کے لیے رکھوائے گئے تھے۔
طالبان قیادت اپنا طرز عمل تبدیل کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتی، ہالبروک
کابل ... پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ مفاہمت کی بات چیت کے لیے طالبان قیادت اپنا طرز عمل تبدیل کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتی۔ رچرڈ ہالبروک کا کہنا تھا کہ طالبان کے کچھ گروہ بات چیت کے عمل میں آگے بڑھ رہے ہیں لیکن طالبان کے رہنما اپنا طرز عمل تبدیل کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے، ان کے مؤقف میں لچک کے کوئی اشارے نہیں مل رہے ہیں۔امریکی ایلچی کا کہنا تھا کہ افغانستان کے بیشتر گروہ طالبان کی طرح غیر لچکدار مؤقف نہیں رکھتے۔ رچرڈ ہالبروک نے طالبان سے مذاکرات کے لیے بنائی گئی کونسل کے رکن محسوم استانکزئی سے کابل میں ملاقات کی۔ محسوم استانکزئی کا کہنا تھا کہ طالبان کی بڑی تعداد ان سے رابطے میں ہے لیکن ہالبروک اس سے مطمئن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ طالبان ہیں جو ملا عمر کی پالیسی سے اتفاق نہیں رکھتے۔
ڈرون حملے مشترکہ دشمن کے خلاف کرتے ہیں، پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، امریکی سفیر
کراچی(اردونیوزمیگزین رپورٹ/29اکتوبر2010 ) پاکستان میں امریکا کے نئے سفیر کیمرون منٹر نے کہاہے کہ امریکا اور پاکستان ایک دوسرے کے فطری دوست ہیں پاکستانی عوام امریکا کو ناپسند نہیں کرتے امریکا پاکستان کے سیاسی رہنماوٴں کے علاوہ پاکستانی عوام سے بھی بات کرنا چاہتا ہے، ڈرون حملے دہشت گردی کیخلاف جاری جنگ اورہمارے مشترکہ دشمن کیخلاف کاروائی کا حصہ ہیں ڈرون حملے مشترکہ دشمن کے خلاف کرتے ہیں، پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، تعاون جاری رہے گا، پاکستان افغانستان کی تعمیر نو میں نہایت اہم کردار ادا کررہا ہے۔ وہ پاکستان میں اپنی آمد کے بعد امریکی قونصل جنرل کی رہائش گاہ پر اپنی پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پر ان کی اہلیہ میری لین بھی موجود تھیں جبکہ امریکی قونصل جنرل ولیم مارٹن ،انفارمیشن آفیسر اینڈی ڈرمونٹ اوردیگر امریکی آفیشیلز بھی موجود تھے ۔قبل ازیں امریکی سفیر نے مزار قائد پر حاضری دی اور کچھ دیر احترام میں کھڑے رہے۔ اس موقع پر انہوں نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ کیمرون منٹر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ڈرون حملوں پر ہمیں حکومت کو درپیش مشکلات اور عوام کی ناراضگی کا پورا احساس ہے تاہم یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ ہے جو ہمارا مشترکہ دشمن ہے ۔مسئلہ کشمیر پر انہوں نے کہا کہ حالیہ پاک امریکہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں کشمیر کے مسئلہ پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی ہے ہم ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کریں گے جس سے اس حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت میں تیزی آئے ۔انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان سے طویل المدت پارٹنرشپ کا عزم رکھتے ہیں اور گڈ گورننس اور سیکورٹی کے فروغ میں اپنے کردار کو یقینی بنانا چاہتے ہیں اسٹریٹجک ڈائلاگ میں 13 ورکنگ گروپس میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے جیسے توانائی ورکنگ گروپ نے پاکستان کے انرجی سیکٹر کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے اور توانائی کے دیگر ذرائع پیدا کرنے کے بارے میں پلان تیار کیا ہے۔ امریکی عوام کو پاکستان کے حالیہ شدید سیلاب کی تباہ کاریوں پر افسوس ہے امریکہ سیلاب متاثرین کی کھل کر امداد کر رہا ہے 43 ارب روپے کی امداد فراہم کر رہا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اسٹرٹیجک ڈائلاگ میں پاکستان کو امریکی منڈیوں تک رسائی دینے اور دونوں ممالک کے درمیان فری ٹریڈ پر بھی بات چیت ہوئی ہے اوبامہ انتظامیہ نے پاکستان کو امریکی منڈیوں تک رسائی دینے کا وعدہ کر رکھا ہے اس حوالے سے ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یورپ ہم سے آگے ہے ۔امریکی منڈیوں تک رسائی کیلئے صدر اوبامہ نے کانگریس سے رجوع کیا ہے ۔توقع ہے پاکستانی صدر زرداری کے دورہ امریکہ اور امریکی صدر براک اوبامہ کے دورہ پاکستان سے دونوں ملکوں کے تعلقات مزید آگے بڑھیں گے ۔افغانستان کی صورتحال کے بارے میں انہوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان کے استحکام کا خواہاں ہے ۔افعانستان سے واپسی کے حوالے سے صدر اوبامہ کے بیان کا کچھ لوگوں نے غلط مطلب لیا ہے۔ ہم افغانستان اور پاکستان دونوں ملکوں کا استحکام اور خوشحالی چاہتے ہیں 2011 میں افغانستان میں کوئی تبدیلی تو ہوسکتی ہے شاید زیادہ سویلین اور کم ملٹری ہو لیکن واپسی نہیں ہو گی افغان عوام کو افغانستان کے مسئلہ کو حل کرنا ہوگا اور اس میں پاکستان کو بھی شامل کرنا پڑیگا لہذا پاکستان سے متعلق پاکستان کے بغیر کچھ نہیں۔پاکستان کو اہم کردار ادا کرنا ہے ۔کولیشن سپورٹ فنڈ کے بارے میں انہوں نے کہاکہ امریکہ نے پاکستان کو70 کروڑ ڈالر فراہم کرنے کا عزم کر رکھا ہے جبکہ کیری لوگر بل کے تحت پاکستان کو پانچ سال میں7.5 ارب ڈالر ادا کئے جائیں گے ۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انہوں نے پاکستانی فوج اور پاکستان کے عوام کی قربانیوں کی تعریف کی۔افغانستان میں روسی فوج کے کردارکے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ روسی فوج کے افغانستان میں کسی کردار کے بارے میں نہیں جانتے۔انہوں نے ملا برادر کی رہائی کی اطلاعات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ڈو مور کی بنیاد غلط فہمی پر مبنی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان کے دورہ کراچی کا مقصد ذاتی طورپریہ دیکھنا ہے کہ عوام امریکہ سے اپنے تعلقات کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ افغانستان میں اس کے کردار پر پاکستان سے مشورہ نہیں کیا گیا۔
ڈرون دینے سے انکار،امریکا پاکستان کو 12بغیر پائلٹ جاسوسی طیارے دیگا

واشنگٹن (اردونیوزمیگزین رپورٹ) امریکا نے اسٹرٹیجک مذاکرات کے تیسرے وزارتی دور میں بھی پاکستان کے بار بار مطالبے کے باوجود ڈرون طیارے فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے تاہم امریکا انٹیلی جنس معلومات اور جاسوسی مقاصد کیلئے پاکستان کو ’شیڈو‘ نامی بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارے فراہم کرے گا۔ جس کا آغاز آئندہ سال سے ہو گا اور ابتدائی مرحلے میں قبائلی علاقوں اور پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی آمد و رفت کا پتہ چلانے کیلئے آرکیو سیون شیڈو ٹو ہنڈرڈ ( RQ-7 Shadow 200 ) پاک فوج کو فراہم کئے جائینگے جن کی تعداد 12 ہو گی۔ امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے اس حوالے سے پینٹا گون کو ہدایات بھی جاری کر دی ہیں اور پاکستانی فوجی حکام سے اس کی تفصیلات جلد طے کی جائیں گی۔ دفاعی ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کے سامنے اسٹرٹیجک مذاکرات میں ڈرون ٹیکنالوجی کے حوالے سے دو آپشن رکھے گئے تھے جو شیڈو 200 اور سی ایگل نامی ڈرون جاسوس طیاروں کے بارے میں تھے۔ پاکستانی وفد نے مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان کو خود دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کیلئے ڈرون طیارے فراہم کئے جائیں اور امریکا قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے بند کرے۔ تاہم امریکا نے اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جس پر فوری طور پر پاکستان نے RQ-7 شیڈو 200 لینے پر آمادگی ظاہر کی جو کہ سی ایگل سے کہیں بہتر اور ہلکے وزن کے ہیں اور ان کے نتائج بھی بہترین ہیں۔ یہ شیڈو جاسوس طیارے بغیر پائلٹ کے ہیں جنہیں امریکا افغانستان اور عراق میں بھی استعمال کر رہا ہے اور یہ دن اور رات کے اوقات میں 125 کلو میٹر تک اپنے اہداف کی نہ صرف نشاندہی کر سکتے ہیں بلکہ انہیں پہچان بھی سکتے ہیں۔
واشنگٹن، زیرزمین ریلوے اسٹیشن پرحملے کی منصوبہ بندی، پاکستانی نژاد امریکی گرفتار

واشنگٹن(اردونیوزمیگزین رپورٹ/28اکتوبر2010 ) امریکی حکام نے واشنگٹن سب وے اسٹیشن پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں ایک پاکستانی نژاد امریکی شہری کو گرفتار کیا ہے۔امریکی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل برائے قومی سیکورٹی ڈیوڈ کرس نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ 34 سالہ فاروق احمد واشنگٹن کے نواحی علاقے ورجینیا میں مقیم ہے اور اس پر الزام ہے کہ وہ ان لوگوں سے مل کر ٹرانزٹ سسٹم کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا جن کے بارے میں اسے معلوم تھا کہ وہ دہشتگرد ہیں۔تاہم وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے خدشات دور کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مبینہ منصوبے سے کبھی بھی خطرہ لاحق نہیں رہا اور صدر اوبامہ ملزم فاروق احمد کی گرفتاری سے پہلے ہی ا س منصوبے سے آگاہ تھے۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبس کا کہنا ہے کہ ایف بئی آئی اور قومی سلامتی کے عہدیدار شروع سے ہی اس کیس پر کام کر رہے تھے۔احمد کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ پاکستان میں پیدا ہوئے تھے ، انہیں دہشتگرد تنظیم کی مدد کرنے اور اس کیلئے معلومات اکٹھا کرنے کے الزام میں پکڑا گیا ہے ۔ اگر اس پر جرم ثابت ہوگیا تو اسے 50 برس تک قید ہو سکتی ہے۔
پاکستان کیلئے 2 ارب ڈالر امریکی فوجی امداد کا اعلان، 2012ء سے 5 سال میں ملے گی

واشنگٹن (اردونیوزمیگزین رپورٹ ) امریکہ نے پاکستان کیلئے 2 ارب ڈالر کی فوجی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس پاکستان کیلئے امداد کی منظوری دیگی جو 2012ء سے 2016ء تک 5سال کے دوران دی جائیگی،پاکستان کوٹیکسوں کے نظام میں اصلاحات کے لئے مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے، سیلاب زدگان کی بحالی، توانائی اور سیکورٹی کے شعبوں میں پاکستان کی مدد کرینگے، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان سے بہتر کوئی اتحادی نہیں،پاک فوج کی قربانیاں قابل تحسین ہیں جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی سر زمین دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیگا، ملکی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، پاک امریکا اتحاددونوں ملکوں کے مفادمیں ہے۔جمعہ کو واشنگٹن میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ اسٹریٹجک مذاکرات کے اختتام پر مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی ،توانائی اورسکیورٹی کے شعبوں میں پاکستان کی مددکریں گے،امریکہ کو پاکستانی فوج اور حکومت کے ساتھ ملکر کام کرنے پر فخر ہے، کیمرون منٹر جلد پاکستان میں سفیر کی ذمہ داریں سنبھال لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو 2 ارب ڈالر کی فوجی امدادکانگریس کی منظوری کے بعد 2012ء سے 2016ء تک دی جائیگی، پاک امریکہ سٹریٹجک ڈائیلاگ میں13 ورکنگ گروپ معاہدے کے قریب ہیں،پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ہوا سے بجلی پیدا کرنیکا 150 میگا واٹ کا پلانٹ لگایا جائیگا،امریکی وزیرخارجہ نے مزیدکہاکہ ٹیکسوں کے نظام میں اصلاحات کے لئے پاکستان کومشکل فیصلے کرنے پڑیں گے کیوں کہ ٹیکسوں کے نظام میں توسیع سے پاکستان کو سڑکوں،پلوں ،ایئرپورٹس اورپاورپلانٹس کی تعمیرکے لئے فنڈزمیسرہوں گے جوکہ ایک ترقی پذیرمعیشت کے لازمی عناصرہیں،اس اقدام سے عالمی برادری کوبھی یہ پیغام جائے گاپاکستانی معاشرے کے تمام طبقے اپنے ملک کی تعمیرنوکے لئے اپناکرداراداکرنے کے خواہشمندہیں ۔ انہوں نے ڈاکٹرفاروق کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کوانسان دشمن قراردیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پرجوش استقبال کیلئے امریکہ کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے امریکہ اور عالمی برادری کی امداد کے مشکور ہیں۔ پاک امریکہ سٹریٹجک مذاکرات سے دونوں ملکوں کے تعلقات مزید مضبوط ہونگے۔ سٹریٹجک ڈائیلاگ خطے میں امن کیلئے ضروری ہیں،امریکہ سے مذاکرات میں 13 اہم نکات پر بات چیت کی گئی،افغانستان میں استحکام کیلئے پاک امریکہ تعاون ضروری ہے۔وزیرخارجہ نے کہاکہ فوجی اورسویلین اداروں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہرگزبرداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں 30 ہزار معصوم جانوں کا نقصان ہوا اور 7 ہزار سے زائد سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ جیتنا چاہتے ہیں۔ فرینڈز آف پاکستان کی جانب سے مدد کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر اوبامہ مسئلہ کشمیر کا پر امن حل چاہتے ہیں،صدر اوباماکو دورہ بھارت کے دوران مسئلہ کشمیرکو نئی دہلی کے ساتھ اٹھاناچاہئے۔ پاک امریکہ اتحاد دونوں کے مفاد میں ہے۔
جنرل کیانی اور جنرل جیمز میٹس کی ملاقات، خطے میں سیکورٹیکی صورتحال پر تبادلہ خیالات
واشنگٹن، راولپنڈی/ پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے امریکی سینٹکام کے کمانڈر جنرل جیمز میٹس سے ملاقات کی ہے جس میں باہمی دلچسپی ، پیشہ ورانہ امور اور خطے میں سیکورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیالات کیا گیا ۔ آرمی چیف نے والٹر ایڈمیڈیکل سنٹر کا بھی دورہ کیاجہاں انہوں نے افغانستان میں زخمی امریکی فوجیوں کی عیادت کی ۔ آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق جمعے کو آرمی چیف جنرل کیانی نے امریکی سینٹکام کے کمانڈر جنرل جیمز میٹس سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی ، پیشہ ورانہ امور اور خطے میں سیکورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیالات کیا گیا ۔ آرمی چیف جنرل کیا نی نے والڑ ایڈ میدیکل سنٹر کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے افغانستان میں زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی عیادت کی۔
امریکا پر 2 ارب ڈالر کے واجبات ہیں جو پاک فوج پہلے ہی خرچ کرچکی، گیلانی

اسلام آباد (اے ایف پی/ اے پی پی) وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا پر پاکستان کے 2 ارب ڈالر کے واجبات واجب الادا ہیں یہ رقم پاک فوج پہلے ہی خرچ کر چکی ہے اور یہ امریکا کے ذمے واجب الادا ہیں۔یہ انکشاف انہوں نے اسلام آباد میں گفتگو کے دوران ایک صحافی کے اس سوال کے جوا ب میں کیا جس میں دریافت کیا گیا تھا کہ آیا امریکا نے2 ارب ڈالر کی جس رقم کی امداد کا اعلان کیا ہے وہ کافی ہے۔ افغانستان کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرزئی نے تاحال اپنا امن منصوبہ ہم سے شےئر نہیں کیا لیکن انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان میں پاکستان کی شمولیت کے بغیر کوئی مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔ وزیراعظم ہاؤس میں ڈپلومیٹک کارسپانڈنٹ ایسوسی ایشن کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے ملکی خارجہ پالیسی کے اہم پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور اہم ممالک کے ساتھ پاکستان کے دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے سوالوں کے تفصیلی جواب دیئے۔ڈرون حملوں کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈرون طیاروں کی سرویلنس پروازوں کی اجازت سابق صدر پرویز مشرف نے دی۔ صحافیوں سے اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشرف حکومت نے امریکہ کو ڈرون طیاروں کی صرف سرویلنس پروازوں کی اجازت دی تھی، میزائل حملے کرنے کی نہیں۔اس سوال پر کہ امریکی ڈرون طیارے سندھ کی شمسی بیس سے اڑتے ہیں، کا جواب دیتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ اس بات کا پتہ چلایا جائے گا تاہم ہم نے ڈرون طیاروں کو پرواز کی اجازت نہیں اور نہ ہی امریکہ کو کوئی اڈا دیا ہے۔ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا اختیار فوج کو دے رکھا ہے جو زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے اسے کسی بھی وقت شروع کرسکتی ہے۔ اے پی پی کے مطابق گیلانی نے کہا کہ افغان مسئلے کے دیرپا حل کیلئے پاکستان کی شمولیت کے بغیر کوئی بھی مذاکراتی عمل کامیاب نہیں ہوسکتا۔ پاک بھارت تنازعات کو صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ امریکہ پاک بھارت بات چیت میں معاونت کے لئے بہترین پوزیشن میں ہے۔ ہم نے کوئی اڈا فراہم نہیں کیا۔ دہشت گردی کے خلاف لڑائی ہماری اپنی ہے۔ بھارتی وزیراعظم داخلی دباؤ کے باعث مذاکرات کو آگے نہ بڑھا سکے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے عمل کی بحالی میں کردار ادا کرنے کی بہترین پوزیشن میں ہیں۔ امریکا سے سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا مطالبہ کیا ہے، پاکستان ایک ذمہ دارملک ہے، ایٹمی صلاحیت صرف دفاع کیلئے ہے، پاک بھارت تمام تصفیہ طلب امور کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے، امریکا اس پوزیشن میں ہے کہ وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت تمام حل طلب امور پر ثالثی کا کردار ادا کر سکے، پاکستان میں آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور ذمہ دار سول سوسائٹی ہے اور سب اپنے دائرہ کار میں کام کررہے ہیں، پاکستان عالمی اور علاقائی امن کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا،دہشت گردی کیخلاف جنگ امریکہ کی نہیں پاکستان کی اپنی جنگ ہے، کسی بھی صورت میں اپنی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات پہلے سے کہیں بہتر ہیں جبکہ دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون بھی بڑھ گیا ہے اور معاشی تعلقات کو فروغ دینے کیلئے حال ہی میں وفاقی کابینہ نے پاک افغان ٹرانزٹ معاہدے کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کرزئی کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران ان کے ساتھ افغانستان میں مصالحتی عمل کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا تھا تاہم انہوں نے ابھی تک ہمارے ساتھ کوئی روڈ میپ شیئر نہیں کیا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ افغانستان میں دیرپا امن کے لئے ایسا کوئی مذاکراتی عمل کامیاب نہیں ہو سکتا جس میں پاکستان شامل نہ ہو کیونکہ پاکستان مسئلے کے حل کا حصہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ خوشگوار تعلقات اور سودمند تعاون چاہتے ہیں، بھارتی وزیراعظم کے ساتھ ان کی تینوں ملاقاتیں مفید رہیں تاہم بھارتی وزیراعظم ملک کے اندر شدید داخلی دباؤ کے باعث پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو آگے نہیں بڑھا سکے۔وزیراعظم نے کہا کہ امریکا کے ساتھ ہماری اسٹریٹجک شراکت داری ہے اور دفاعی و انٹیلی جنس تعاون بھی ہے، صدر اوباما نے پاکستانی وفد سے ملاقات کے دوران پاکستان کے ساتھ تعلقات کی اہمیت واضح کی۔ وہ آئندہ سال پاکستان کا دورہ کریں گے جو پاکستان کا حق بھی ہے۔ ڈرون حملوں کے حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ یہ حملے غیر سود مند ہیں اور ان سے تمام تر کوششوں کے باوجود دہشتگرد اور قبائل پھر یکجا ہو جاتے ہیں۔ امریکی قیادت کو بدستور قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یا تو پاکستان کو ٹیکنالوجی دی جائے یا پھر اطلاعات فراہم کریں تاکہ ہماری فورسز خود کارروائی کریں۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ حکومت کی ساکھ خراب ہونے کی وجہ سے ایف او ڈی پی کے بعض ممالک نے ابھی تک امداد دینے کے اپنے وعدے پورے نہیں کئے۔
بجٹ کٹوتی کے باوجودبرطانیہ کے کردار میں کمی نہیں آئے گی، پینٹاگان
واشنگٹن (اردونیوزمیگزین ) امریکی محکمہٴ دفاع پنٹاگان نے کہا ہے کہ فوجی کٹوتیوں کے باوجود برطانیہ کی عالمی سیکورٹی کے لئے ایک اہم ترین حیثیت کم نہیں ہوگی، وہ اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ محکمہ کے پریس سیکرٹری جیف موریل نے کہا ہے کہ ہمیں خوشی ہے کہ دنیا میں چوتھے سب سے بڑے بجٹ کے حامل ملک نے اس ارادے کا اظہار کیا ہے کہ وہ عالمی سیکورٹی کو استوار کرنے کے لئے اپنا تاریخی کردار ادا کرتا رہے گا۔ 1998ء کے بعد سے برطانیہ کی مسلح افواج کے لئے پہلی نظرثانی کے تحت کم فوجی، کم جہاز، کم طیارے، کم ایٹمی ہتھیاروں اور چھوٹے بجٹ پر زور دیا گیا ہے اور اگلے چار سال کے دوران وزارت دفاع کے 36 ارب 90 کروڑ پونڈ کے بجٹ میں 8 فیصد تک کمی کی جائے گی جبکہ دوسرے سرکاری محکموں کے لئے یہ کمی 25 فیصد ہے۔
بیروز گاری نے امریکیوں کی نیندیں اُڑا دیں، امریکی اخبار
نیویارک (ٹی وی رپورٹ) امریکا اس وقت تین محاذوں پر جنگ کررہا ہے ایک طرف اسے اپنے ریکارڈ بجٹ خسارے اور بے روز گاری سے نمٹنا ہے تو دوسری عراق کے بعد افغان جنگ ہے اور تیسرا محاذ میکسیکو میں ڈرگز مافیا ہے۔ امریکی اخبار نیو یارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکا رواں مالی سال میں ایک کھرب ڈالر سے زیادہ خسارے کا شکار ہے اور دس فیصد سے زیادہ بے روز گاری نے بھی امریکیوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ افغان جنگ میں امریکیوں کی ہلاکتوں میں تیزی آچکی ہے۔ امریکا نے پاکستان میں القاعدہ کے خلاف بھرپور جنگی کارروائی کرتے ہوئے پری ڈیٹر ڈرونز حملوں میں شدت پیدا کردی ہے۔ 2001ء سے 2008ء تک ڈرونز حملوں کی نسبت رواں دنوں پاکستان میں دگنا حملے شروع کردئیے ہیں۔ اوباما کے صدارتی دور کے پہلے دوسالوں میں ایک ہزار سے زیادہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا گیا جس میں پاکستان میں کئی شہری بھی ہلاک ہوئے۔ تیسری جنگ امریکا میکسیکو میں ڈرگز مافیا کے ساتھ کررہا ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں میکسیکو میں 30 ہزار افراد ہلاک کردئیے گئے جس میں 2 سو امریکی بھی شامل ہیں۔
جنرل کیانی اور پاکستانی وزراء سے اوباما کی ملاقات،صدرزرداری کے دور میں تعلقات بہتر ہوئے ،امریکی صدر
.jpg)
واشنگٹن (اردونیوزمیگزین رپورٹ ) امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے معاملے میں کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔پاکستان کے ساتھ خصوصی لگاؤ ہے، یہ صدر زرداری کا دور ہے جس میں پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے، پاکستان کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رہے گا، اسٹریٹجک مذاکرات منطقی انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسٹریٹجک مذاکرات کیلئے امریکا کا دورہ کرنے والے پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ امریکی صدر نے کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ خصوصی لگاؤ رکھتے ہیں اور پاکستان کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف مشکل جنگ میں پاکستانی حکومت اور پاک فوج کے کردار کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیر دفاع چوہدری احمد مختار اور وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ بھی موجود تھے۔ شاہ محمود قریشی سے بات چیت کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ آپ کی محنت رنگ لا رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستانی وفد نے بدھ کو امریکی صدر بارک اوباما سے ملاقات کی۔ پاکستانی وفد کی قیادت آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کی اور اس میں وفاقی وزراء بھی شامل تھے۔ وزیر دفاع چوہدری احمد مختار نے بتایا کہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور پاک امریکہ پائیدار اور دیرپا تعاون کے حوالے سے امریکی صدر نے پاکستانی وفد کے موقف کو بغور سنا۔ احمد مختار نے کہا کہ ملاقات کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں دہشت گردی اور دیگر امور زیر غور آئے۔ بعد ازاں وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کئے جانے والے بیان میں بتایا گیا کہ صدر بارک اوباما 2011ء میں پاکستان کا دورہ کریں گے۔ بیان کے مطابق امریکی صدر آئندہ ماہ ایشیائی ممالک کے دورے کے دوران پاکستان نہیں جائیں گے تاہم پاکستانی وفد کے ساتھ ملاقات کے دوران انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آئندہ سال ضرور پاکستان جائیں گے۔ ملاقات کے دوران امریکی صدر نے پاکستانی وفد کو بتایا کہ وہ پاکستانی صدر آصف علی زرداری کا امریکا میں استقبال کریں گے تاہم انہوں نے اس کی تاریخ نہیں بتائی۔ واضح رہے کہ آئندہ ماہ سے شروع ہونے والے ایشائی ممالک کے دورے میں امریکی صدر بارک اوباما دو ہفتوں کیلئے بھارت جائیں گے جس کے بعد وہ انڈونیشیا، جنوبی کوریا اور جاپان کا دورہ کریں گے۔
پاک امریکا اسٹرٹیجک مذاکرات، آغاز میں ماضی جیسی گرمجوشی نظر نہیں آئی
واشنگٹن(اردونیوزمیگزین رپورٹ ) پاکستان اور امریکا کے درمیان اسٹریٹجک مذاکرات کے ماحول میں وہ گرمجوشی دیکھنے میں نہیں آ رہی جو کہ ان مذاکرات کے پہلے دو راؤنڈز میں دیکھنے میں آئی۔ مذاکرات کے پہلے 2 راؤنڈز جو ہو چکے ہیں۔ ان میں اصولی باتیں طے کی گئی تھیں اور اب اسٹریٹجک معاملات کے زمینی حقائق بھی زیر بحث آ رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے پاکستان اور امریکی وفود کی ایک دوسرے سے توقعات میں خاصا فرق پایا جاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی وفد ایک مضبوط اور مدلل موٴقف کے ساتھ امریکا سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ اسے حساس ٹیکنالوجی فراہم کی جائے لیکن امریکا ابھی اس بات پر قائل نظر نہیںآ تا اور وہ حساس ٹیکنالوجی کی فراہمی کے معاملہ کو ٹالنا چاہتا ہے دوسرا مسئلہ افغان اور طالبان مذاکرات کے بارے میں پاکستان کی حیثیت اور کیا رول ہوگا اس بارے میں بھی امریکا اور پاکستان کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہے امریکا پاکستان سے ڈومور کے تقاضے کے ساتھ افغان طالبان مذاکرات میں ایک مثبت رول ادا کرنے کو کہہ رہا ہے جبکہ پاکستان کو طالبان اور دہشت گردی کے معاملات میں فرنٹ لائن ریاست کے طور پر کردار ادا کرنے کی جو قیمت ادا کرنا پڑی ہے اس کے تناظر میں طالبان سے مذاکرات میں پاکستان کابھی ایک کلیدی رول ہونا چاہئے جسے امریکہ فی الحال تسلیم نہیں کر رہا۔ تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ صدر اوباما اگلے ماہ ہونے والے امریکی انتخابات میں اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے پاکستان سے اپنی شرائط منوانا چاہتے ہیں تاکہ امریکی ووٹروں کو یہ باور کر اسکیں کہ انہوں نے افغان جنگ میں ایک کامیابی حاصل کی ہے جبکہ پاکستانی وفد کا یہ کہنا ہے کہ اسٹریٹجک مذاکرات کے پہلے 2 راؤنڈز اصول اور تعریفیں متعین کرنے میں گزر گئے ہیں مذاکرات کے اس تیسرے مرحلے میں پاکستانی مفادات کابھی خیال رکھاجانا چاہئے۔افغانستان کی مشکل صورتحال میں امریکا کیلئے جن کی فتح کا کوئی امکان نہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی افغانستان میں اپنی ناکامیوں کا بوجھ کسی دوسرے ملک پر ڈالنا چاہتی ہے اور اس کیلئے پاکستان کو عدم تعاون اور طالبان کی سرپرستی کا الزام دے کر اسے ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے۔
طالبان کے ساتھ مذاکرات امریکی حکمت عملی کا حصہ ہیں،امریکا
واشنگٹن ... امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات امریکی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ملا عمر مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں ہوں گے۔ واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران دفترخارجہ کے ترجمان فلپ جے کراؤلی نے کہا کہ افغانستان میں فوجی اور سول دونوں ذرائع سے کام کیا جارہا ہے اور یہ سب کچھ امریکی پالیسی کے تحت ہورہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ بات چیت کوئی نئی بات نہیں۔ طالبان سے مفاہمت کا منصوبہ افغان حکومت کا ہے۔ پہلے لندن اور پھر کابل کانفرنس میں اس پر بات ہوئی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں فلپ کراؤلی نے کہا کہ ملا عمر نے اسامہ بن لادن کی مدد کی تھی شاید وہ مذاکراتی عمل کا حصہ نہ ہوں تاہم ان کے بارے میں فیصلہ کرنا افغان حکومت کا کام ہے۔
افغانستان میں بم دھماکا ، مزید 7 نیٹو فوجی ہلاک
کابل(رائٹرز/اے ایف پی)افغانستان کے جنوبی ،مشرقی اور مغربی علاقوں میں بم دھماکوں اور جنگجوؤں کے مختلف حملوں میں بدھ کو مزید 7غیر ملکی نیٹو اتحادی فوجی ہلاک ہوگئے۔ گزشتہ دو روز کے دوران مرنے والے نیٹو فوجیوں کی تعداد13ہوگئی ۔دوسری جانب صوبہ غزنی اورہلمندصوبے میں نیٹواورافغان فوج کی کارروائی میں 2سینئر طالبان رہنماؤں سمیت متعددجنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کے مغربی علاقے میں ایک دیسی ساختہ بم دھماکے میں نیٹو کے 3فوجی ہلاک ہوگئے،جبکہ دو فوجی جنوبی علاقے میں جنگجوؤں کے ایک حملے کے دوران مارے گئے۔ اتحادی فوج کے ترجمان نے ان حملوں کے بارے میں مزید تفصیلات اورمرنے والے فوجیوں کی شناخت بتانے سے گریز کیا ہے۔ایک نیٹواہلکار مشرقی علاقے میں جنگجوؤں کے حملے جبکہ ایک اور اتحادی فوجی جنوبی افغانستان میں بم دھماکے میں ہلاک ہوا ۔رواں ماہ کے دوران اب تک 40غیر ملکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔اے ایف پی کے مطابق پولینڈ کی فوج نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان کے مشرقی علاقے صوبہ غزنی میں جنگجوؤں نے اپنے اڈے کے قریب گھات لگائے حملے میں ان کا ایک فوجی ہلاک اورایک کو زخمی کردیا۔ بیان کے مطابق 28سالہ ایڈم بورزیسکوسکی موقع پر ہلاک جبکہ اس کے زخمی فوجی ساتھی کی حالت خطرے سے باہر ہے۔رائٹرز کے مطابق افغان صوبہ ہلمند کے ضلع گریشک میں افغان اور غیر ملکی فوج کی کارروائی کے دوران متعدد جنگجوؤں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔جبکہ صوبہ غزنی میں افغان اور غیر ملکی فوج نے ضلع راشدین میں 2 جنگجوؤں جنہیں سینئر طالبان رہنما قراردیا گیا ہے ،کو ہلاک کردیاہے
پاکستانی فورسز شمالی وزیرستان میں طالبان اورالقاعدہ کیخلاف خودکارروائی پرتیار نہیں، وائٹ ہاؤس کی خفیہ رپورٹ

واشنگٹن (اردونیوزمیگزین رپورٹ) وائٹ ہاؤس کی ایک خفیہ رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ پاکستانی فورسز شمالی وزیرستان میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف جارحانہ کارروائی میں خود دلچسپی نہیں رکھتیں اور ان کے ساتھ براہ راست لڑائی سے گریزاں ہیں اور پاکستانی فورسز افغانستان میں امریکہ کی معمولی کامیابی دیکھتی ہیں۔ صدر اوباما کی طرف سے رواں ہفتے امریکی کانگریس کو بھجوائی گئی خفیہ جائزہ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ شدت پسندپاکستانی قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کوافغانستان میں اتحادی فوج پرحملے کے لئے اڈے کے طورپراستعمال کرتے ہیں،یہاں کارروائی امریکا کی اولین ترجیح ہے مگرپاکستانی فوج اورحکومت اس پررضامندنہیں،جنوبی وزیرستان میں جاری آپریشن بھی سست روی کا شکار ہے، رپورٹ میں سیاسی قیادت کوبھی تنقیدکانشانہ بناتے ہوئے کہاگیاہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان کشیدگی کے باعث صدرزرداری مشکلات میں پھنس گئے ہیں جبکہ حکومت کی حمایت میں بھی کمی آئی ہے،رپورٹ کانگریس کو ارسال کرنے کے بعدپاکستان کوملنے والی اربوں ڈالرکی امدادمیں تاخیرکاخدشہ ہے۔ رپورٹ کے بارے میں امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل نے انکشاف کیا ہے اور کہا ہے کہ نیٹو کی طرف سے حالیہ سرحدی خلاف ورزیوں اور ڈرون حملوں میں اضافے کے تناظر میں پاک امریکہ تعلقات مزید متاثر ہو سکتے ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو خفیہ رپورٹ کی ملنے والی کاپی کے مطابق رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاک فوج جنوبی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن میں مصروف ہے تاہم فوجی سڑکوں کے قریب ہی رہے اور آپریشن میں پیشرفت سست روی سے ہو رہی ہے۔ رپورٹ میں شمالی وزیرستان کے حوالے سے وائٹ ہاؤس کی طرف سے پاک فوج پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں پاکستانی فورسز القاعدہ اور طالبان کے ساتھ براہ راست لڑائی سے گریزاں ہیں اور یہ اقدام سیاسی سے زیادہ فوجی ترجیح ہے۔ صدر اوباما رپورٹ کے ساتھ بھیجے گئے خط
|